اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > صبح کے وقت وِتر کی ادائیگی میں جلدی کیا کرو۔
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «بادروا الصبح بالوتر».
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وتر کی نماز کو رات کے آخری حصے تک مؤخر کرنا مستحب ہے، تاہم وتر مؤخر کرنے والے کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس کی ادائیگی میں احتیاط کیا کرے اور فجر سے پہلے اسے ادا کر لے۔ اس لیے کہ رات کی نماز کا آخری وقت طلوع فجر ہے۔لہٰذا اگر وتر کی ادائیگی سے پہلے فجر طلوع ہوجائے تو اس سے فضیلت فوت ہوجائے گی۔
موضوعات : قیام اللیل