اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > ٹھہر جاؤ ( سن لو!) تم اتنا ہی عمل کیا کرو، جتنے کی تمھارے اندر طاقت ہے۔ اللہ کی قسم (ثواب …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها : أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها امرأة، قال: «من هذه؟» قالت: هذه فلانة تذكر من صلاتها. قال: «مَهْ، عليكم بما تطيقون، فوالله لا يَمَلُّ الله حتى تَمَلُّوا» وكان أحب الدين إليه ما داوم صاحبه عليه.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک عورت آئی۔ اس نے انھیں بتایا کہ وہ بکثرت عبادت کرتی اور نماز پڑھتی ہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی، تو آپ ﷺ نے انھیں عبادت میں مبالغہ کرنے اور نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالی تم سے اکتاہٹ کا برتاؤ نہیں کرے گا، بلکہ تم خود اکتا جاؤ اور عبادت چھوڑ دو؛ اس لیے تمھارے لیے مناسب یہی ہے کہ تم اتنا عمل کرو، جسے ہمیشہ کر سکو؛ تاکہ اس کا ثواب اور اس کا فضل و کرم تمھیں ہمیشہ ملتا رہے۔
موضوعات : قیام اللیل