اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > یا تو اس کا سارا سر مونڈ دو یا پھر سارا چھوڑ دو۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم صبيًّا قد حُلِق بعض شعر رأسه وترك بعضه، فنهاهم عن ذلك، وقال: «احلقوه كله، أو اتركوه كله».
رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کے کچھ بالوں کو مونڈ دیا گیا تھا اور کچھ کو بغیر مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو بچے کے ساتھ دوبارہ ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جائے اور بقیہ کو ویسے ہی چھوڑ دیا جائے۔ یہ ممانعت یا تو کراہت کے لیے ہے یا پھر حرمت کے لیے، لہذا اس کام سے مطلقا پرہیز کرنا ہی بہتر ہے۔
موضوعات : لباس اور زیب و زینت