بریرۃ اور ان کے شوہر کی کہانی کی حدیث

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > بریرۃ اور ان کے شوہر کی کہانی کی حدیث

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: بریرۃ اور ان کے شوہر کی کہانی کی حدیث

عن ابن عباس رضي الله عنهما في قصة بريرة وزوجها، قال: قال لها النبي صلى الله عليه وسلم : «لو رَاجَعْتِهِ؟» قالت: يا رسول الله تأمرني؟ قال: «إنما أشْفَع» قالت: لا حاجة لي فيه.

حدیث کی وضاحت: بریرۃ اور ان کے شوہر کی کہانی کی حدیث

بریرۃ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک غلام تھے جن کا نام مغیث تھا۔ بریرۃ رضی اللہ عنہا خریدے جانے سے قبل عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت کیا کرتی تھیں۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں آزاد کرديا اورانہیں مغیث کے ساتھ رہنے یا ان سے علیحدہ ہونے کا اختیار مل گیا تو بریرۃ رضی اللہ عنہا نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی۔ مغیث رضی اللہ عنہ اس خاندانی بندھن کے ٹوٹنے کے بعد مدینے کی گلیوں اور راستوں میں ان کے پیچھے روتے ہوئے پھرتے اور ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے ۔ یہ حالتِ زار بریرۃ رضی اللہ عنہا سے شدت محبت کی وجہ سے تھی۔ اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور دوبارہ ان کی طرف لوٹ آئیں۔

اس پر نبی ﷺ نے بریرۃ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اگر تم ان سے رجوع کر لو تو تمہیں اجر ملے گا۔

انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم! کیا آپ مجھے اس بات کا حکم دے رہے ہیں کہ میں لازمی طور پر ان سے رجوع کرلوں؟

آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو صرف ان کے لیے سفارش کر رہا ہوں۔

اس پر بریرۃ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے ان سے رجوع کرنے کی خواہش اور حاجت نہیں ہے۔

موضوعات : مرد و زن کا باہمی تعلق

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود