مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا…

عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «البُزَاق في المسجد خَطيئة، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُها».

حدیث کی وضاحت: مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا…

اس روایت میں ”البزاق“ اور ایک روایت میں ”البصاق“ کا لفظ ہے۔ مسجد کے فرش یا اس کی دیواروں پر تھوکنا گناہ ہے اور ایسا کرنے والا اللہ تعالی کی سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ لھٰذا مسلمان کے لئے کسی بھی حال میں مسجد میں تھوکنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے اللہ کے گھروں کی توہین ہوتی ہے اور یہ انھیں آلودہ اور گندا کرنا ہے۔ بلکہ انہیں ہر اس چیز سے بچانا واجب ہے جو انہیں ناپاک اور گندا کرتی ہے؛ کیونکہ ایسا کرنا اللہ تعالی کے شعائر کی تعظیم کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ﴾ ”اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے“۔ (الحج: 30) تاہم اگر وہ اپنے کپڑے یا شماغ یا رومال میں تھوکتا ہے تو اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ علت باقی نہیں رہی۔

اگر بلا ارادہ غلطی سے تھوکا جائے تو یہ ایک غلطی ہے جس کا گناہ معاف ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی جان بوجھ کر مسجد میں تھوکے اور پھر اسے دفن کر دے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے مسجد میں محض تھوک کی موجودگی کو گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی تایید اس حدیث سے ہوتی ہے جو صحیح بخاری (414) اور صحیح مسلم (548) میں آئی ہے کہ آپ ﷺ کو مسجد کی دیوار پر بلغم لگا ہوا نظر آیا جس کی موجودگی آپ ﷺ پر بہت گراں گزری۔ آپ ﷺ نے اٹھ کر اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا۔

جو شخص بلا ارادہ مسجد میں تھوک بیٹھے اور پھر وہ چاہے کہ اللہ اسے معاف کر دے اور اس کے اس گناہ کو مٹا دے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اسے مسجد سے زائل کردے، بایں طور کہ اگر مسجد کنکریوں والی ہو تو اسے دفن کر دے اور اگر مسجد فرش والی ہو تو پھر اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے کھرچ ڈالے یہاں تک کہ وہ زائل ہو جائے۔ اگر یہ باقی رہ گیا تو یہ ایک پاپ ہے اور جب تک باقی رہے گا وہ شخص گناہ گار ہوتا رہے گا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کئے گئے۔ میں نے اپنی امت کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ شے کو ہٹانا بھی دیکھا اور اس کے برے اعمال میں مسجد میں پڑا وہ بلغم بھی پایا جسے دفن نہ کیا گیا ہو“۔ (مسلم)

موضوعات : مساجد کے احکام

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الله أكبر اللہ سب سے بڑا ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود