اگر تم اس علاقے کے ہوتے، تو میں تمھیں سختی کے ساتھ مارتا؛ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں اپنی …

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اگر تم اس علاقے کے ہوتے، تو میں تمھیں سختی کے ساتھ مارتا؛ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں اپنی …

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اگر تم اس علاقے کے ہوتے، تو میں تمھیں سختی کے ساتھ مارت…

وعن السائب بن يزيد الصحابي رضي الله عنه قال: كنت في المسجد فَحَصَبَنِي رَجُل، فنظرت فإذا عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال: اذهب فَأتِنِي بِهذَينِ، فَجِئْتُهُ بهما، فقال: من أين أنتما؟ فقالا: من أهل الطائف، فقال: لو كُنْتُمَا من أهل البلد، لأَوْجَعْتُكُمَا، تَرْفَعَان أصْوَاتَكُما في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم !

حدیث کی وضاحت: اگر تم اس علاقے کے ہوتے، تو میں تمھیں سختی کے ساتھ مارت…

سائب بن یزید رضی اللہ عنہما ایک واقعہ بیان کر رہے ہیں، جو ان کی موجودگی میں پیش آیا۔ ہوا یوں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں دو آدمی مسجد نبوی ﷺ میں بلند آواز سے باتیں کر رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جب ان کی آوازیں سنیں تو سائب بن یزید کو کنکری ماری؛ تاکہ وہ ان دونوں کو ان کے پاس لے آئیں۔

سائب کہتے ہیں کہ میں ان دونوں کو عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، تو انھوں نے ان سے پوچھا کہ تمھارا تعلق کس علاقے سے ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ طائف سے۔

اس پر انھوں نے کہا: اگر تم اس علاقے کے ہوتے یعنی مدینہ سے ہوتے تو میں تمھیں سزا کے طور پر سختی کے ساتھ مارتا۔ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں آوازیں بلند کر رہے ہو!

لیکن چوںکہ وہ مدینے کے باشندوں میں سے نہیں تھے، اس لیے ان کی عدم واقفیت کی بنا پر عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں معذور جانا؛ کیوںکہ عموما ایسے لوگوں سے احکام شریعت مخفی ہی ہوا کرتے ہیں۔

موضوعات : مساجد کے احکام

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود