اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > مومن کے سوا کسی کو ساتھی نہ بناؤ اور تمہارا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی اور نہ کھائے۔
حَسَنْفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لاَ تُصَاحِب إِلاَّ مُؤْمِنًا، وَلاَ يَأْكُل طَعَامَكَ إِلاَّ تَقِي».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مستفاد ہے کہ مسلمان پر واجب ہے کہ تمام حالات میں نیکوکاروں کو لازم پکڑے، اس حدیث میں اہلِ ایمان کی صحبت اختیار کرنے پر ابھارا گیا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ کفار اور منافقین سے دوری اختیار کی جائے، اس لیے کہ ان کی صحبت دین کے لیے نقصان دہ ہے۔ مومن سے مُراد اہلِ ایمان ہیں۔
”وَلا يَأْكُلْ طعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ“ کے جملے سے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی تاکید فرمائی یعنی متقی آدمی جو کھانے کو اللہ کی عبادت میں صرف کرے۔ مطلب یہ ہوا کہ اپنا کھانا صرف متقی شخص کو ہی کِھلاؤ، اس میں دعوتِ ولیمہ وغیرہ بھی شامل ہے۔ مناسب یہی ہے کہ دعوت میں مدعو مومن اور نیکوکار لوگ ہوں۔
موضوعات : ملاقات کرنے اور اجازت چاہنے کے آداب