اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔
موضوعات : اللہ عز و جل پر ایمان · نبوت · اسلام · نماز کی فرضیت اور اسے چھوڑنے والے کا حکم · زکوۃ کی فرضیت اور اسے نہ دینے والے کا حکم · Obligation of Fasting and Ruling of Its Abandoning · Obligation of Hajj and ‘Umrah and Ruling of Its Abandoner