رات اور دن کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رات اور دن کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔

حدیث کے راوی: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔

عن ابن عمر رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «صلاة الليل والنَّهار مثْنَى مثْنَى».

حدیث کی وضاحت: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔

اس حدیث کی اصل صحیحین میں ان الفاظ کے ساتھ ہے: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے“، بعض راویوں نے”دن (کی نماز)“ کا لفظ زیادہ کیے ہیں، جب کہ یہ زیادتی ضعیف ہے۔

اس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص رات اور دن میں نفلی نماز ادا کرنا چاہے تو وہ ہردو دو رکعت پر سلام پھیرے جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صراحت کے ساتھ ذکر آیا ہے، جب ان سے پوچھ گیا کہ ”مثنی مثنی“ کا معنی کیا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہر دو رکعت پر سلام پھیر دے“۔ رات کی نماز کے متعلق یہی اکثر علما کا کہنا ہے، یعنی رات کی نفلی نماز میں دو دو رکعت سے زیادہ پڑھنا جائز نہیں سوائے وتر کے، چونکہ یہ سنت سے ثابت ہے لہذا اس مین دو دو رکعتوں سے زیادہ پڑھ سکتے ہیں۔ رہا مسئلہ دن میں نفلی نماز کا تو دو رکعت سے زیادہ پر سلام پھیرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بہتر دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔

موضوعات : نفل نماز

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الله أكبر اللہ سب سے بڑا ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود