اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اگر کسی تکلیف یا کسی اور عذر کی بنا پر رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز رہ جاتی تو آپ ﷺ دن میں ب…
صحیحفہرست مضامین :
27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إذا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ الليلِ مِن وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ، صَلَّى من النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً.
نبی ﷺ اگر کسی تکلیف یا کسی اور وجہ سے نماز تہجد نہ پڑھ سکتے تو آپ ﷺ دن کو بارہ رکعت پڑھتے تھے؛ کیونکہ آپ ﷺ گیارہ رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔لھٰذا اگر رات گزر جاتی اور نیند وغیرہ کی وجہ سے آپ ﷺ وتر نہ پڑھ سکتے تو پھر آپ ﷺ اس نماز کی قضا کرتے تھے۔ لیکن چونکہ وتر کا وقت نکل چکا ہوتا اس لئے اسے (ایک رکعت کا اضافہ کرکے) جفت بنانا مشروع ہو جاتا۔
موضوعات : نفل نماز · نماز میں آپ ﷺ کا طریقہ