اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن معاذة العدوية: أنها سألتْ عائشةَ رضي الله عنها : أكانَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثة أيَّامٍ؟ قالتَ: نعم. فقلتُ: مِنْ أيِّ الشَّهْرِ كَانَ يَصُوم؟ قالتَ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أيِّ الشَّهْرِ يَصُومُ.
معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔ یعنی کم از کم آپ ﷺ مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔
”میں نے پوچھا کہ وہ مہینے کے کس دن روزہ رکھا کرتے تھے“ اس میں ہفتے کے دنوں سے احتراز ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپ ﷺ مہینے کے ابتدائی حصے میں روزہ رکھا کرتے تھے یا پھر اس کے درمیانی یا آخری حصے میں اور پہ درپہ رکھا رکھا کرتے تھے یا پھر الگ الگ؟۔ آپ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ ﷺ مہینے کے دنوں کو متعین کرنے کی فکر نہیں کیا کرتے تھے بلکہ بلا تخصیص روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ ثواب ہر صورت میں ملتا ہے چاہے کوئی بھی دن ہو۔ یعنی آپ ﷺ اپنی مرضی سے روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ آپ ﷺ کی مشغولیت ایسی ہوتی جس کی وجہ سے آپ ﷺ اس بات کی رعایت نہیں کرسکتے تھے یا پھر آپ ﷺ ایسا بیان جواز کے لئے کرتے تھے۔ بہرطور جیسے بھی رکھیں آپﷺ کے حق میں وہ افضل ہی ہیں۔
موضوعات : نفلی روزہ