رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے قبا تشریف لے گئے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے قبا تشریف لے گئے۔

حدیث کے راوی: اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے قبا تشریف لے گئے۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى قُبَاءَ يُصَلِّي فيه»، قال: «فَجَاءَتْه الأنصار، فَسَلَّمُوا عليه وهو يُصلِّي»، قال: " فقلت لبِلاَل: كيف رأَيْت رسول الله صلى الله عليه وسلم يَرُدُّ عليهم حِين كانوا يُسَلِّمُونَ عليه وهو يُصلِّي؟ "، قال: يقول هَكَذا، وبَسَطَ كفَّه، وجعل بطنه أسفل، وجعل ظَهْرَه إلى فوْق.

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے قبا تشریف لے گئے۔

حدیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ حالتِ نماز میں سلام کا جواب دینا جائز ہے، نبی ﷺ کے اس عمل کی وجہ سے جو آپ نے انصار کے ساتھ کیا جب انہوں نے آپ ﷺ کو سلام کیا اور آپ ﷺ اس وقت مسجد ِقبا میں نماز ادا کر رہے تھےاور اس کی کیفیت صرف ہتھیلی پھیلا کر ہے۔

موضوعات : نماز کا طریقہ

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود