اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اپنی نماز کو اچھی طرح نہ پڑھنے والے کی حديث جس کو رفاعہ رضی اللہ عنہ نے روايت کيا ہے۔
حَسَنْ27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 3 منٹ مطالعہعن رفاعة بن رافع الزرقي رضي الله عنه ، وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: جاء رجل ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في المسجد، فصلى قريبا منه، ثم انْصَرَف إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فَسَلَّمَ عليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أعِد صَلَاتَك، فإنك لم تصل، قال: فرجع فصلى كَنَحْو مِمَّا صَلَّى، ثم انصرف إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال له: " أَعِدْ صلاتك، فإنك لم تُصَلِّ ". فقال: يا رسول الله، عَلِّمْنِي كيف أَصْنَع، قال: "إذا اسْتَقْبَلت القبلة فَكَبِّر، ثُمَّ اقْرَأ بأمِّ القرآن، ثم اقرأ بما شِئْت، فإذا رَكَعْت، فَاجْعَل رَاحَتَيْكَ على رُكْبَتَيك، وامْدُد ظَهْرَك وَمَكِّنْ لِرُكُوعِك، فإذا رفعت رأسك فأَقِم صُلْبَكَ حتى ترجع العظام إلى مَفَاصِلَها، وإذا سَجَدتَ فَمَكِّنْ لِسُجُودِك، فإذا رَفَعْت رَأْسَك، فَاجْلِس على فَخِذِك اليسرى، ثم اصْنَع ذلك في كل ركعة وسجدة.
وفي رواية: «إنها لا تَتِمُّ صلاة أَحَدِكُم حتى يُسْبِغَ الوُضُوء كما أمره الله عز وجل، فيغسل وجهه ويديه إلى المرفقين، ويمسح برأسه ورجليه إلى الكعبين، ثم يكبر الله عز وجل ويحمده، ثم يقرأ من القرآن ما أَذِن له فيه وتَيَسَّر، ثم يُكَبِّرَ فيَسْجُد فَيُمَكِّن وَجْهَه -وربما قال: جَبْهَتَه من الأرض- حتى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُه وَتَسْتَرْخِيَ، ثم يكبر فَيَسْتَوِي قاعدا على مَقْعَدَه ويقيم صُلْبَهُ، فوصف الصلاة هكذا أربع ركعات تَفْرَغ، لا تَتِمُّ صلاة أحدكم حتى يفعل ذلك.
وفي رواية: «فتوضأ كما أمرك الله جل وعز، ثم تَشَهَّدْ، فأقم ثم كبر، فإن كان معك قرآن فاقرأ به، وإلا فاحمد الله وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ».
يہ حديث مسيئ صلوٰۃ یعنی اپنی نماز کو بگاڑ کر پڑھنے والے کی حديث سے معروف ومشہور ہے اور يہ نماز کے طریقے کو اس کے ارکان وواجبات اور شروط کے ساتھ بیان کرنے کے باب میں شارحین کا اساس اور بنیادی مستند ہے۔ کیوں کہ اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے نماز کے ان افعال کو پوری طرح واضح اور بيان فرما ديا ہے جن کو انجام دینا ضروری ہے اور اس حديث ميں نماز سے متعلق جس فعل کو چھوڑ ديا گيا ہے وہ واجب نہیں سمجھا جاتا ہے۔اس حديث کا مفہوم يہ ہے کہ: نبی ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک صحابی جن کا نام خلاد بن رافع رضی اللہ عنہ تھا، مسجد ميں آئے اورایسی نماز پڑھی جس ميں مکمل طور پر تمام اقوال وافعال کی ادائيگی نہيں کی
پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نےسلام کا جواب ديا پھر ان سے فرمایا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے۔
چنانچہ وہ لوٹ گئےاور دوبارہ نماز اسی طرح پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر نبی ﷺ کے پاس آئے۔ تو آپ ﷺ نےان سے پھر کہا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، اسی طرح تین مرتبہ ہوا.
تو صحابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمايا ہے، میں نے جس طرح نماز پڑھی ہے اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔لہٰذا آپ مجھے سکھلا دیجئے۔لہٰذا جب ان کے اندر سيکھنے کا شوق و جذبہ پيدا ہوگيا اور وہ صحيح طريقۂ نماز جاننے کے لیے مشتاق اور بار بار لوٹانے جانے کے بعد طریقۂ نماز کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے تو آپ ﷺ نے ان سےفرمایا (جس کا مفہوم ہے کہ):
جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیرۂ تحريمہ کہو، پھر سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرلو، پھر رکوع سے اٹھو یہاں تک کہ اطمينان کے ساتھ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھرسجدے سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ اور سوائے تکبيرۂ تحريمہ کے اِن اقوال و افعال کی ادائيگی ایسے ہی پوری نماز میں کرو، کيوں کہ تکبيرۂ تحريمہ پہلی رکعت کے علاوہ کسی اور رکعت ميں نہيں کہی جاتی ہے۔
اسی حديث کی دوسری روايات میں نماز کی بعض شرطوں جيسے قبلہ رخ ہونے اور وضو کرنے کا ذکر ہے۔
موضوعات : نماز کا طریقہ