اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی۔ جس میں آپ ﷺ بنو سلیم کے قبیلوں کے…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عاصم قال: سألتُ أنساً رضي الله عنه عن القُنُوت، قال: قبل الركوع، فقلت: إن فلاناً يزعم أنك قلت بعد الركوع؟ فقال: كَذَبَ، ثم حَدَّثَنَا، عن النبي صلى الله عليه وسلم : «أنه قنت شهراً بعد الركوع، يدعو على أحياء من بني سليم»، قال: «بعث أربعين -أو سبعين يشك فيه- من القراء إلى أناس من المشركين»، فعرض لهم هؤلاء فقتلوهم، وكان بينهم وبين النبي صلى الله عليه وسلم عهد، «فما رأيته وجد على أحد ما وجد عليهم».
اس حدیث میں قنوت نازلہ کی مشروعیت بیان کی جا رہی ہے۔ اور یہ کہ یہ رکوع سے اٹھنے کے بعد پڑھی جائے گی، کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا جب بنو سلیم نے اپنے معاہدہ کو جو ان کے اور مسلمانوں کے مابین طے پایا تھا، توڑتے ہوئے ستر یا چالیس قراء صحابہ کو شہید کردیا، جنھیں رسول اللہ ﷺ نے مشرکیں کی طرف (دعوت وتبلیغ کی غرض سے) بھیجا تھا۔ آپ ﷺ نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی جس میں ان پر بددعا کرتے رہے۔
موضوعات : نماز کا طریقہ · دعا کی اقسام