جب آپ ﷺ فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھاتے تو ”سَمِعَ الله لمن حَمِدَه“ اور”رَبَّنا ول…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جب آپ ﷺ فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھاتے تو ”سَمِعَ الله لمن حَمِدَه“ اور”رَبَّنا ول…

حدیث کے راوی: اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جب آپ ﷺ فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھاتے تو ”سَمِ…

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا رَفَعَ رَأْسَه مِن الرُّكوع في الركعة الأخيرة مِن الفَجْر: «اللهمَّ الْعَنْ فُلانًا وفُلانًا». بعدَما يقول: «سَمِعَ الله لمن حَمِدَه رَبَّنا ولك الحَمْدُ». فأنزل الله: (لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ ...) الآية.
وفي رواية: يَدْعُو على صَفْوَانَ بنِ أُمَيَّةَ، وسُهيْلِ بن عَمْرٍو، والحارث بن هشام، فنَزَلَتْ: (لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ).

حدیث کی وضاحت: جب آپ ﷺ فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھاتے تو ”سَمِ…

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس حدیث میں ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ جب فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر کو اٹھاتے، تو ”سمع الله لمن حمده“ کہنے کے بعد مشرکین کے کچھ سرکردہ افراد کے خلاف دعا کرتے۔ بسا اوقات آپ ﷺ ان کے نام بھی لیتے۔ ان لوگوں نے جنگ احد میں آپ ﷺ کو اذیت دی تھی۔ آپ ﷺ ان کا نام لے کر ان پر لعنت کرتے۔ اس پر اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی سرزنش کرتے ہوئے ایک آیت نازل فرمائی، جس میں آپ کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا تھا: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ ”اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں“۔ منع اس لیے کیا گیا، کیوںکہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ عنقریب اسلام قبول کر کے بہت اچھے مسلمان بن جائیں گے۔

موضوعات : نماز کا طریقہ

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود