اے اللہ! جبریل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور ظاہ…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اے اللہ! جبریل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور ظاہ…

حدیث کے راوی: اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اے اللہ! جبریل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور ز…

عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن بن عَوْف، قال: سألتُ عائشةَ أمَّ المؤمنين رضي الله عنها ، بأيِّ شيء كان نبيُّ الله صلى الله عليه وسلم يفتَتِح صلاتَه إذا قام من الليل؟ قالت: كان إذا قام من الليل افتتح صلاتَه: «اللهمَّ ربَّ جِبرائيل، ومِيكائيل، وإسرافيل، فاطرَ السماوات والأرض، عالمَ الغيب والشهادة، أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون، اهدني لما اختُلِف فيه من الحق بإذنك، إنَّك تهدي مَن تشاء إلى صراطٍ مستقيمٍ».

حدیث کی وضاحت: اے اللہ! جبریل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور ز…

ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا جس سے نبی ﷺ قیام اللیل میں نماز کا آغاز کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی ﷺ جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے:

’’اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ‘‘: ان تین فرشتوں کی بطور خاص اللہ تعالی کی طرف اضافت کی گئی حالانکہ اللہ تعالی تو ہر شے کا رب ہے۔ ایسا ان فرشتوں کی بزرگی اوردوسرے فرشتوں پر ان کی فضیلت کی وجہ سے کیا گیا۔ گویا کہ آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کو سب پر اس لیے مقدم کیا کیونکہ وہ آسمانی کتابوں کے امین ہیں اور تمام دینی امور انہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اسرافیل علیہ السلام کو آخر میں ذکر کیا کیونکہ وہ صور پھونکنے والے ہیں اور جس سے قیامت قائم ہو جائے گی۔ میکائیل علیہ السلام کو درمیان میں ذکر فرمایا کیونکہ وہ بارش و روئیدگی وغیرہ جیسی ان تمام اشیاء کے نگران ہیں جن کا تعلق رزق کی ان تمام شکلوں کے ساتھ ہے جن پر دنیا کا مدار ہے۔

’’فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘: یعنی انہیں عدم سے وجود بخشنے والے اور انہیں پیدا کرنے والے۔

’’عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ‘‘: یعنی جو کچھ انسانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور جو کچھ ان کے سامنے ہے سب کو جاننے والے۔

’’أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ‘‘: یعنی دنیا میں جن دینی امور میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ان میں تو ان کے مابین فیصلہ کرے گا۔

’’اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ‘‘: لوگ دین و دنیا کے جن امور میں اختلاف میں پڑے ہیں ان میں اپنی توفیق سے اور اپنی طرف سے آسانی پیدا فرماتے ہوئے میری حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی فرما۔

’’إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ‘‘: تو جسے چاہتا ہے اسے حق اور راہ راست کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

موضوعات : نماز کے اذکار

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے بغیر کوئی طاقت اور قوت نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود