اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جاؤ اسے دیکھ لو کیوں کہ یہ تمہارے باہمی رشتے کی پائیداری کے لیے نہایت مناسب ہے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن المغيرة بن شعبة، قال: أتيتُ النبي -صلى الله عليه وسلم فذكرت له امرأةً أخطِبُها، فقال: «اذهب فانظر إليها، فإنه أجدرُ أن يُؤدمَ بينكما»، فأتيت امرأة من الأنصار، فخطَبتُها إلى أبَويها، وأخبرتهما بقول النبي صلى الله عليه وسلم ، فكأنهما كرِها ذلك، قال: فسمعت ذلك المرأة، وهي في خِدرها، فقالت: إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرك أن تنظر، فانظر، وإلا فأنشدُك، كأنها أَعْظَمت ذلك، قال: فنظرتُ إليها فتزوجتُها، فذكر من موافقتها.
اس حدیث میں مرد کے لیے اس خاتون کو دیکھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے جس سے وہ نکاح کا امیدوار ہو اور یہ عمل دونوں کےمابین باہمی موافقت اور اتفاق پیدا کرنے کا سب سے انتہائی قریب ترین ذریعہ ہے اور اس کو دیکھنا، دونوں میں باہمی اصلاح قائم کرنے اور الفت و موافقت پیدا کرنے کا موزوں ترین عمل ہے نیز اس کے بعد ہونے والا نکاح علم و آگہی کے ساتھ ہوگا اورعموماً اس کے بعد ندامت و شرمندگی کا سامنا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کرنے کے سلسلہ میں نبی ﷺ سے مشورہ طلب کیا تو آپ ﷺ نے انہیں اس خاتون کو دیکھنے کی ہدایت فرمائی تاکہ دونوں کے مابین موافقت کا حصول یقینی ہوجائے۔ نیز اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ نبی ﷺ سے وارد ہونے والے ہر بات کو ذرہ برابر تامل کیے بغیر قبول کرنا واجب ہے کیوں کہ آپ ﷺ کے فرامین میں خیر و بھلائی اور درستگی و نیکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
موضوعات : نکاح کے آداب