اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > یہودی کہتے ہیں کہ عزل کرنا چھوٹے انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” یہودی غلط …
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي سعيد الخدري، أن رجلًا قال: يا رسول الله، إن لي جارية وأنا أَعْزِلُ عنها وأنا أكره أن تحمل، وأنا أريد ما يريد الرجال، وإن اليهود تحدث أن العَزْلَ المَوْؤُودَةُ الصغرى قال: «كَذَبَتْ يَهُودُ لو أراد الله أَنْ يَخْلُقَهُ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَصْرِفَهُ».
اس حدیث میں یہود کے اس خیال کا رد کیا جا رہا ہے کہ عزل کی وجہ سے سرے سے حمل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور انہوں نے اس کو زندہ درگور کر کے قطع نسل کے درجہ میں رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کوجھوٹا قراردیا اور یہ بتایا کہ اگر اللہ کسی کی تخلیق چاہتا ہے تو کوئی بھی اس حمل کو روک نہیں سکتا۔ اور اگر اللہ تخلیق کا ارادہ نہیں رکھتا تو وہ حقیقتاً اس کو درگور نہیں کررہا۔ اس لیے صحابی کو اپنی لونڈی سے عزل کی اجازت دی اور یہود کے دعویٰ کا رد بھی کیا۔
موضوعات : نکاح کے آداب · ازدواجی زندگی