اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایا

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایا

حدیث کے راوی: رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد

صحيح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایا

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةَ الحَاجَةِ: إِنَّ الحَمْدَ للهِ، نَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوْذُ بِهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ، {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا} [النساء: 1]، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102]، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} [الأحزاب:70 - 71].

حدیث کی وضاحت: اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایا

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو خطبۂ حاجت سکھایا۔ دراصل خطبۂ حاجت سے مراد وہ کلمات ہیں، جو خطبوں اور ضروری کاموں کے آغاز کے وقت کہے جاتے ہیں۔ مثلا خطبۂ جمعہ اور خطبۂ نکاح وغیرہ۔ اس خطبے کے اندر کئی غیر معمولی باتیں موجود ہیں۔ مثلا اللہ کا ہر طرح کی تعریف کا حق دار ہونا، صرف اسی سے مدد اور مغفرت طلب کرنا، گناہوں پر پردہ ڈالنے اور درگزر کرنے کی گزارش کرنا، تمام برائیوں اور نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ میں جانا وغیرہ۔

پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے وہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دے نہیں سکتا۔

پھر اللہ کے ایک ہونے کی گواہی اور اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ساتھ ہی رسالت کی گواہی اور اس بات کا ذکر کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

اس خطبے کو تین آیتوں کے ساتھ ختم کیا، جن کے اندر اللہ عز و جل سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ کے احکام کی تعمیل کی جائے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے۔ وہ بھی، اللہ کی خوش نودی کے حصول کے لیے۔ ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص یہ کام کر لے گا، اس کے نتیجے میں اس کے اقوال و اعمال درست ہو جائیں گے، اس کے گناہ مٹا دیے جائيں گے اور اسے دنیا میں خوش گوار زندگی اور آخرت میں جنت نصیب ہوگی۔

اسباق: اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں خطبۂ حاجت سکھایا

موضوعات : نکاح کے احکام اور شرطیں

بسم الله الرحمن الرحيم بدھ 16 جمادی الاول
الأربعاء 16 جمادى الأولى
أحدب متناقص گھٹتا ہوا گول چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
سبحان الله اللہ کی تسبیح

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود