اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > باپ سے محبت کرنے والوں سے صلہ رحمی، بہت بڑی نیکی ہے
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 2 منٹ مطالعہعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأعرَاب لَقِيهَ بِطَريق مَكَّة، فَسَلَّم عَلَيه عَبد الله بنُ عمر، وَحمَلهُ على حمار كان يركَبُهُ، وَأعطَاه عِمَامَة كَانت على رأسه، قال ابن دينار: فقُلنا له: أَصْلَحَك الله، إنَّهم الأعراب وهُم يَرْضَون بِاليَسِير، فقال عبدُ الله بنَ عُمر: إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمر بنِ الخطَّاب رضي الله عنه وإنِّي سَمِعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ أَبَرَّ البِرِّ صِلَةُ الرَّجُل أَهْلَ وُدِّ أَبِيه».
وفي رواية عن ابن دينار، عن ابن عمر: أنَّه كان إذَا خَرَج إلى مكة كان له حمار يَتَرَوَّحُ عليه إذا ملَّ رُكُوبَ الرَّاحِلة، وَعِمَامة يَشُدُّ بها رأسه، فَبينَا هو يومًا على ذلك الحمار إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِي، فقال: أَلَسْتَ فُلاَن بنَ فُلاَن؟ قال: بَلَى. فَأَعْطَاهُ الحِمَار، فقال: ارْكَب هَذَا، وَأَعْطَاهُ العِمَامَةَ وَقَالَ: اشْدُدْ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ لَهُ بَعض أصحَابِه: غفر الله لك أَعْطَيت هذا الأعرابي حمارا كنت تَرَوَّحُ عليه، وعِمَامَة كُنتَ تشدُّ بها رأسَك؟ فقال: إِنِّي سمِعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ مِنْ أَبَرِّ البِّر أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدَّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ» وَإِنَّ أَبَاه كان صَدِيقًا لِعُمَرَ رضي الله عنه .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو ان کے پاس ایک گدھا تھا۔ جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے، تو اس پر (کچھ دیر) آرام کرتے پھراونٹ پر سوار ہوجاتے۔
انہی ایام میں ایک دن ایک اعرابی سے ملاقات ہوئی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تو فلاں بن فلاں ہے؟ اس نے کہا:ہاں! چنانچہ آپ اپنے گدھے سے اتر آئے اور اس سے کہا کہ تم اس پر سوار ہو جاؤ اور اپںے سر پر بندھا ہوا عمامہ اتار کر اس کو دے دیا اور اس سے کہا کہ اس کو اپنے سرپر باندھ لو۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے یامغفرت فرمائے! یہ بدو لوگ ہیں اور بدو تو اس سے کم پر بھی راضی ہو جاتے ہیں!! لوگ یہ کہنا چاہتے تھے کہ آپ نے اپنا گدھا، جس پر آپ سوار ہوتے تھے اور عمامہ جسے سر پر باندھتے تھے، اسے دے کر پیدل چلنا کیسے گوارا کر لیا، جب کہ وہ ایک اعرابی ہے، اس سے کم پر بھی راضی ہوجاتا؟
تو انھوں نے فرمایا: ”سب سے بہتر نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے“۔ یعنی جب انسان کا باپ، ماں یا کوئی قریبی فوت ہو جائے تو، ان سے لگاؤ اور انسیت رکھنے والوں سے حسن سلوک کرے۔ یعنی صرف ان کے دوست کے ساتھ نہیں بلکہ اس دوست کے عزیز و اقارب کے ساتھ بھی۔
اس اعرابی کا باپ عمر کا رضی اللہ عنہ کادوست تھا۔ یعنی عبداللہ کے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ اس لیے اپنے والد گرامی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نیک برتاؤ کے سلسلے کو دراز کرتے ہوئے ان کی عزت افزائی کی۔
موضوعات : والدین کی فرماں برداری کے فضائل