جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔

حدیث کے راوی: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔

عن عروة قال: دخلت على مروان بن الحكم فذَكَرْنا ما يكون منه الوضوء، فقال مروان: ومن مَسِّ الذَّكَر؟ فقال عروة: ما علمت ذلك، فقال مروان: أخبرتني بُسْرَة بنت صفوان، أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَه فليتوضأ».

حدیث کی وضاحت: جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔

حدیث کا مفہوم: عروہ رحمہ اللہ بتا رہے ہیں کہ وہ مروان بن حکم کے پاس گئے جو اس وقت مدینہ کے گورنر تھے۔

”فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ“ یعنی ہمارے مابین ان باتوں اور اشیاء کے بارے میں گفتگو اور بحث چل نکلی جن کی وجہ سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔

مروان نے کہا کہ ”ومِنْ مَسِّ الذَّكَر“ یعنی جن چیزوں کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ان میں سے ایک آلہ تناسل کو چھونا بھی ہے۔

عروہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ“ یعنی مجھے اس کی دلیل کا علم نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے مروی کوئی حدیث میرے پاس ہے۔

اس پر مروان نے کہا کہ مجھے بُسْرَہ بنت صفوان نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ”جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ دوبارہ وضو کرے“۔

ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ”وہ اس وقت تک نماز نہ پڑھے جب تک کہ وہ وضوء نہ کرلے“۔

یہ روایت تو اس بات کی کھلی وضاحت ہے کہ آلۂ تناسل کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے چاہے شہوت کے ساتھ چھوا جائے یا پھر بغیر شہوت کے ساتھ اور چاہے اس شخص نے چھونے کا ارادہ کیا ہو یا ارادہ نہ کیا ہو۔ تاہم اس سلسلے میں شرط یہ ہے کہ یہ چھونا براہ راست ہو اور درمیان میں کوئی شے حائل نہ ہو۔ اگر درمیان میں کوئی شے حائل ہو تو پھر چھونے سے کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ اب درحقیقت مس ہوا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ مس کرنے سے مراد یہ ہے کہ ایک عضو براہ راست دوسرے عضو کے ساتھ لگے۔ اس پر نسائی کی روایت کردہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے ” إذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إلَى فَرْجِهِ وَلَيْسَ بَيْنَها سِتْرٌ وَلَا حَائِلٌ فَلْيَتَوَضَّأْ“ یعنی جب تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو اس طرح سے ہاتھ لگا لے کہ درمیان میں کوئی پردہ یا آڑ نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ وضوء کرے۔

موضوعات : وضو کے نواقض

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
لا حول ولا قوة إلا بالله اللہ کے بغیر کوئی طاقت اور قوت نہیں

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود