اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے لیے مسواک کرن…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لَوْلا أنْ أَشُقِّ على أُمَّتِي لَأَمَرْتُهم بالسِّواكِ مع كلِّ وُضُوء».
اس حدیث میں نبی ﷺ یہ وضاحت فرما رہے ہیں کہ اگر آپ کو اپنی امت اور اہل ایمان کے صبر آزما محنت و مشقت اور دشواری سے دوچار ہونے کا خدشہ نہ ہوتا، تو آپ انھیں وجوبی طور پر حکم دیتے کہ وہ ہر وضو کے ساتھ مسواک کیا کریں، لیکن آپ نے اپنی امت پر رحمت و شفقت کا خیال رکھتے ہوئے وجوبی حکم سے احتراز فرمایا اور اس عمل کو حتمی و قطعی فرائض میں شامل نہیں کیا؛ لہٰذا یہ ان مستحب سنتوں میں سے ہے، جن پر عمل کرنے والے کو اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے اور چھوڑنے والا سزا کا مستحق نہیں ہوتا۔
موضوعات : وضوء کی سنتیں اور آداب