اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا اور می…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا اور می…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس…

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «قد أصاب عمر أرضًا بخيبر. فأتى النبي صلى الله عليه وسلم يستأمره فيها. فقال: يا رسول الله، إني أصبت أرضًا بخيبر، لم أُصِبْ مالًا قَطُّ هو أنفس عندي منه، فما تأمرني به؟ فقال: إن شِئْتَ حَبَّسْتَ أصلها، وتصدقت بها.
قال: فتصدق بها، غير أنه لا يُباع أصلها، ولا يوهب، ولا يورث.
قال: فتصدق عمر في الفقراء، وفي القربى، وفي الرقاب، وفي سبيل الله، وابن السبيل، والضيف. لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف، أو يطعم صديقًا، غير مُتَمَوِّلٍ فيه»، وفي لفظ: «غير مُتَأثِّلٍ».

حدیث کی وضاحت: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس…

عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، اس کی مقدار سو سہم (حصے) تھی۔ یہ آپ کے مال میں سے سب سے مہنگا مال تھا، اس لیے کہ یہ بہت عمدہ زمین تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نیکیوں میں آگے بڑھتے تھے۔ قرآن کریم کی آیت {لَنْ تَنَالوا البِرً حَتًى تُنْفِقُوا مِمًا تُحِبونَ } کے پیشِ نظر نیکی کی لالچ کرتے ہوئے آپ ﷺ کے پاس آئے تاکہ اس کو اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرنے کے بارے میں مشورہ کریں۔

آپ ﷺ نے صدقہ کرنے کا سب سے اچھا مشورہ دیا یعنی اصل زمین کو پاس رکھ کر اس کی پیداوار کو صدقہ کردو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، وہ زمین وقف ہوگئی، اس کو نہ بیچا جا سکتا تھا، نہ ہدیہ کیا جاسکتا تھا اور نہ ہی اس میں وراثت یا کوئی اور ایسا تصرف ہو سکتا تھا جس کی وجہ سے اس کی ملکیت کسی اور کی طرف منتقل ہو یا انتقالِ ملکیت کا سبب بنے۔ اس کو فقیروں و مسکینوں، عزیز و اقارب، غلام کو چھڑانے، جن پر دیت واجب ہو ان کی طرف سے دیت کی ادائیگی کے لیے، اللہ کے دین کی مدد اور دین کی سربلندی کے لیے لڑنے والے مجاہدین کے تعاون کے لیے، وہ مسافر جو اپنے شہر سے دور ہو اور اس کا زادِ راہ ختم ہو گیا ہو نیز مہمانوں کو کھلانے کے لیے وقف کردیا۔ مہمان کا اکرام کرنا اللہ تعالیٰ پر ایمان کا حصہ ہے۔

یہ ضروت مند کی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے اور نیکی اور بھلائی کے کام کی نگرانی بھی ہے اور ساتھ ساتھ مالکِ زمین سے حرج اور گناہ کو دور کرنا ہے کہ وہ اچھے طریقے سے خود بھی اپنی ضرورت کے مطابق اس سے کھا سکتا ہے اور اس دوست کو بھی کھلا سکتا ہے جس کے پاس ضرورت سے زیادہ مال نہ ہو۔ یہ خیر اور احسان کے راستے میں مال کا خرچ کرنا ہے۔ نہ کہ مال جمع کرکے مالدار ہونا مقصود ہو۔

تنبیہ:

وقف یہ ہے کہ مسلمان اپنے مال کو صدقہ کر کے اس کی پیداوار کو بھلائی کے جس کام میں چاہے استعمال کرسکتا ہے، پیداوار کو اسی مصرف میں خرچ کرکے اصل مال کو باقی رکھا جائے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کھیتی فقراء پر وقف کردے، تو پھل اور پیدا ہونے والی فصل فقراء کو دے دی جائے گی اور کھیتی ان کے پاس باقی رہے گی۔

موضوعات : وقف

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
الله أكبر اللہ سب سے بڑا ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود