میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین م…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین م…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 2 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے ال…

عن أبي ثَعْلبة الخُشني رضي الله عنه قال: «أَتَيْتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله، إنا بأرض قوم أهل كتاب، أَفَنَأْكُلُ في آنِيَتِهِم؟ وفي أرض صيد، أَصِيدُ بِقَوْسِي وبِكَلْبِي الذي ليس بِمُعَلَّمٍ، وبِكَلْبِي المُعَلَّمِ، فما يَصلح لي؟ قال: أمَّا مَا ذَكَرْتَ- يعني من آنية أهل الكتاب-: فإِنْ وجدْتُمْ غيرها فلا تأكلوا فيها، وإِنْ لم تَجِدُوا فاغسِلوهَا، وكلوا فِيهَا، وما صدتَ بِقَوْسِكَ، فذَكَرْتَ اسمَ الله عَلَيه فَكُلْ، وما صِدْتَ بِكَلْبِكَ المُعَلَّمِ، فَذَكَرْتَ اسْمَ الله عليه فَكُلْ، وما صِدْتَ بِكَلْبِكَ غيرِ المُعَلَّمِ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ».

حدیث کی وضاحت: میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے ال…

ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ وہ لوگ، اہل کتاب کے ہمسائیگی میں رہنے کی بنا پر کچھ مسائل کے شکار ہیں۔ یہاں اہل کتاب سے ان کی مراد یہود و نصاری ہیں۔ ایسے میں کیا ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ان کے برتنوں میں گندگی کایقین رکھتے ہوئے بھی کھاسکتے ہیں؟ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں دو شرطوں کے ساتھ ان کے برتنوں میں کھانے کے جواز کا فتویٰ دیا۔ کھانے کے علاوہ دیگر امور میں ان برتنوں کا استعمال بدرجۂ اولی جائز ہوگا۔

(1) ایک یہ کہ انھیں ان کےعلاوہ برتن میسر نہ آئیں (2) اور دوسری یہ کہ وہ ان برتنوں کو دھو کر ہی استعمال کریں۔

انھوں نے آپ ﷺ سے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ وہ ایسی سرزمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت زیادہ عام ہے اور وہ اپنی کمان، شکار اور اس کے آداب کے بارے میں تربیت یافتہ کتے اور بلا تربیت یافتہ کتے سے بھی شکار کرتے ہیں، تو ان کے لیے کس شکار کا کھانا جائز ہے اور ان آلات سےکیے گئے شکار میں سے کون سا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے انھیں فتویٰ دیا کہ تیر وکمان سے کیا جانے والا شکار اس شرط کے ساتھ حلال ہے کہ "بسم اللہ" کہتے ہوئے تیر چھوڑا جائے۔

جہاں تک کتوں سے کیے جانے والے شکار کا معاملہ ہے، توسکھائے گئے کتوں کو چھوڑتے وقت بسم اللہ کہنے سے، وہ شکار بھی حلال ہوجاتا ہے اور غیر سکھائے گئے کتوں کے ذریعے کیا جانے والا شکار اسی صورت میں حلال ہے کہ شکار زندہ حالت میں دستیاب ہو اور اس کو شرعی طور پر ذبح کیا جائے۔

موضوعات : کھانے پینے کی اشیاء کے احکام · شکار

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
حسبنا الله ونعم الوكيل اللہ ہمارے لیے کافی ہے، کیا اچھا کارساز ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود