رسول اللہ ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے ممانعت فرمائی ہے۔

اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > رسول اللہ ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے ممانعت فرمائی ہے۔

حدیث کے راوی: اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 1 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: رسول اللہ ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے مما…

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنْ يُتَنَفَّسَ في الإناء، أو يُنْفَخَ فيه».

حدیث کی وضاحت: رسول اللہ ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے مما…

اس حدیث میں کھانے اور پینے کے آداب میں سے ایک ادب کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے جس میں سے کھایا یا پیا جاتا ہے۔ برتن میں سانس لینے سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کئی نقصانات پائے جاتے ہیں جیسے سانس چھوڑ کر پینے والے کے بعد (دوسرے) پینے والے کے لیے وہ برتن اور اس کا مشروب مکدر ہو جاتا ہے جیسے کوئی شخص بیک وقت سانس لیتا ہے اور پیتا بھی ہے تو اکثر اوقات اس کی وجہ سے دم گھٹنے کی شکایت ہوتی ہے، لہذا سنت سے ثابت ہے کہ برتن کے باہر تین سانس لیتے ہوئے پانی پینے میں، بہت زیادہ حفاظت، بہت خوشگواری اور بہت زیادہ لطف اندوزی کا باعث ہوتا ہے۔ نیز کھانےاور پینے میں پائی جانے والی گرمی کے سبب یا اس میں پائی جانے والی کسی چیز کو دور کرنے کے لئے پھونک مارنے کی ممانعت بھی اس حدیث میں موجود ہے۔ یہ اس لیے کہ کھانے اور پینے کی اشیاء کا تحفظ کیا جائےتاکہ تھوک یا پانی سے متعلق کسی بدبو کے اثر سے وہ مکدر نہ ہونے پائے۔

موضوعات : کھانے پینے کے آداب

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود