اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اس میں غور وفکر نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں ات…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة رضي الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ -صلّى اللهُ عليه وسَلَّم يقول-: «إن العبد ليتكلم بالكلمة ما يتبين فيها يزلُّ بها إلى النار أبعدَ مما بين المشرق والمغرب».
نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کوئی آدمی جب گفتگو کرتا ہے تو بالکل بھی نہیں سوچتا کہ آیا یہ بات جو وہ کر رہا ہے اچھی ہے یا نہیں؟۔
اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی گفتگو کرنے والا اس عدمِ تفکیر کی وجہ سے کسی حرام میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو جہنم کی آگ کی صورت میں اللہ کے عذاب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ عیاذا باللہ۔ اور بعض اوقات تو وہ اتنی دور جہنم میں جا گرتا ہے جتنی مشرق و مغرب کے مابین مسافت ہوتی ہے۔
موضوعات : گفتگو اور خاموشی کے آداب