اسلام > Ur > حدیث > فضائل و آداب > مرغے کو گالی مت دو، کیونکہ وہ نمازِ فجر کے لیے جگاتا ہے۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن زيد بن خالد الجُهني رضي الله عنه مرفوعاً: «لا تَسُبُّوا الدِّيْك فإنه يُوْقِظ للصلاة».
زید بن خالد الجُہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مرغے کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے اور اس کی علت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ سوئے ہوئے کو اپنی بانگ سے نماز کے لیے جگاتا ہے۔ اور امام احمد اور امام نسائی کی روایت میں ہے کہ وہ ( مرغ) نماز کے لیے آگاہ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اسے گالی دینے سے منع فرمایا، اس لیے کہ لوگوں کو نماز کے لیے جگانا ایک ظاہری مصلحت ہے کہ وہ نیکی کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے اور جو نیکی میں مدد کرتا ہے وہ تعریف کا حقدار ہوتا ہے مذمت کا نہیں۔
مرغے کی بہت عجیب صفت یہ ہے کہ وہ رات کے اوقات جانتا ہے اور فجر سے پہلے نیز اس کے بعد بانگ دیتا رہتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے مرغے کی اس طرف رہنمائی فرمائی۔
موضوعات : گفتگو اور خاموشی کے آداب