اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اللہ کی لعنت ہو چور پر، جو ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لعن الله السارق، يسرق البَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يده، ويسرِقُ الحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ».
اس حدیث میں چوری کرنے والے پر لعنت یعنی اسے اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کی بات ہے؛ کیونکہ وہ انڈے اور رسی جیسی معمولی چیزیں چراتا ہے۔ لیکن چوں کہ یہ معمولی چیزیں چرانے والے کو جب چوری کی لت لگ جائے گی، تو وہ اس سے بڑی چیزیں چرانے لگے گا، اس لیے ان معمولی چیزوں کی چوری بھی چرانے والے کا ہاتھ کاٹے جانے اور اس کے لعنت کی بد دعا کے حق دار ہونے یا اس کے اوپر لعنت پڑنے کی اطلاع دینے کا سبب بن جاتی ہے۔
موضوعات : حدِ سرقہ/ چوری کی حد · گناہوں کی مذمت