اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > رسول الله ﷺ نے ایک دفعہ بطور ہدی (قربانی کے لیے بیت اللہ شریف کی طرف) بکریاں بھیجی تھیں۔
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعن عائشة رضي الله عنها قالت: «أَهدَى رسول الله صلى الله عليه وسلم مَرَّةً غَنَمًا».
عائشہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی ہدی کے بارے میں بتا رہی ہیں۔ ہدی سے مراد وہ جانور ہے، جو مکہ کی طرف اللہ کی خوش نودی کے حصول کے لیے بھیجا جاتا ہے؛ تاکہ اسے حرم میں ذبح کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کی طرف ہدی کا جانور بھیجنا سنت اور نیکی کا کام ہے۔ نبی ﷺ نے بطور ہدی بھیڑ بکریاں بھی بھیجیں اور اونٹ بھی۔ سنت یہ ہے کہ اللہ کی خوش نودی کی غرض سے ان جانوروں کو حرم میں ذبح کیا جائے اور فقرا اور مساکین حرم میں تقسیم کر دیا جائے۔ وہ ہدی جو حج تمتع یا حج قران یا پھر واجبات میں سے کسی واجب کو ترک کرنے یا پھر کسی حرام کا ارتکاب کرنے لینے کی وجہ سے لازم ہوتی ہے، اسے فدیہ کہا جاتا ہے۔ یہ ہدی واجب ہوتی ہے۔ جب کہ وہ ہدی جس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا ہے، اسے مؤمن اپنے علاقے سے بطور نفل پیش کرتا ہے یا پھر راستے میں اسے خریدتا ہے اور حرم کعبہ تک پہنچا دیتا ہے اور اس سے اس کی نیت اللہ عز و وجل کی خوش نودی ہوتی ہے۔
موضوعات : ہدی اور کفارات