اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہدی کے جانوروں کے قلادے خود بٹے ،پھر انھیں نشان زد کیا اور آپ ﷺ نے ا…
صحیح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعائشة رضي الله عنها قالت: «فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم ، ثم أَشْعَرْتُها وَقَلَّدَهَا -أو قَلَّدْتُها-، ثم بعث بها إلى البيت، وأقام بالمدينة، فما حَرُمَ عليه شيءٌ كان له حِلًّا».
نبی ﷺ بیت اللہ کی بہت تعظیم و تکریم کر تے تھے۔ جب آپ ﷺخود اس تک نہ پہنچ پاتے، تو اس کی تعظیم اور اس کے باشندوں پر فراخی کے لیے اس کی طرف ہدی کے جانور بھیج دیتے تھے۔ جب آپ ﷺ ہدی کے جانور بھیجتے تو انھیں نشان زد کر دیتے اور قلادے پہنا دیتے؛ تا کہ لوگوں کو پتہ لگ جائے کہ یہ بیت الحرام کی طرف جانے والے ہدی کے جانور ہیں اور یہ جان کر وہ ان کا احترام کریں اور انھیں کوئی گزند نہ پہنچائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہ بات میں تاکید پیدا کرنے کے لیے بیان کرتی ہیں کہ وہ ان ہدی کے جانوروں کے قلادے خود بٹا کرتی تھیں اور نبی ﷺ جب انھیں بھیج دیتے اور خود مدینے میں ہی مقیم ہوتے، تو آپ ﷺ ان اشیا سے اجتناب نہیں کرتے تھے، جن سے مُحرم شخص اجتناب کرتا ہے۔ یعنی عورتوں سے مباشرت، خوش بو اور سلے ہوئے کپڑے وغیرہ سے، بلکہ آپ ﷺ اپنے لیے ہر وہ شے حلال رکھتے، جو اس سے پہلے آپ ﷺ کے لیے حلال ہوتی۔
موضوعات : ہدی اور کفارات