اگر يہ بات جس كا علم مجھے بعد ميں ہوا، پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا، او…

اسلام > Ur > حدیث > فقہ و اصول فقہ > اگر يہ بات جس كا علم مجھے بعد ميں ہوا، پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا، او…

حدیث کے راوی: متفق علیہ

صحیح

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

📖 3 منٹ مطالعہ

حدیث کا متن: اگر يہ بات جس كا علم مجھے بعد ميں ہوا، پہلے سے معلوم ہو…

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: «أَهَلَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم وأصحابُه بالحج، وليس مع أحد منهم هَدْيٌ غير النبي صلى الله عليه وسلم وطلحة، وقدم علي رضي الله عنه من اليمن. فقال: أَهْلَلْتُ بما أَهَلَّ به النبي صلى الله عليه وسلم فأمر النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه: أن يجعلوها عمرة، فيطوفوا ثم يُقَصِّرُوا ويَحِلُّوا، إلا من كان معه الهَدْي، فقالوا: ننطلق إلى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ؟
فبلغ ذلك النبي - صلى الله عليه وسلم- فقال: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ من أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ؛ ما أَهْدَيْتُ ، ولولا أن معي الهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ.
وحاضت عائشة. فَنَسَكَتْ المنَاسِك كلها، غير أنها لم تَطُفْ بالبيت. فلما طَهُرت وطافت بالبيت قالت: يا رسول الله، تَنْطَلِقُونَ بحج وعمرة، وأنطلق بحج؟ فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر: أن يخرج معها إلى التَّنْعِيمِ ، فاعتمرت بعد الحج».

حدیث کی وضاحت: اگر يہ بات جس كا علم مجھے بعد ميں ہوا، پہلے سے معلوم ہو…

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے حج کے بارے ميں بتلا رہے ہیں کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے حج كا احرام باندھا، تاہم نبی ﷺ اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے سوا ان میں سے کسی کے پاس بھی ہدی کا جانور نہیں تھا۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس وقت یمن میں تھے۔ چنانچہ وہ آئے، اور ان کی فقاہت دیکھیے کہ انہوں نے احرام باندھا اور اپنے احرام کو نبی ﷺ کے احرام کے ساتھ معلق کردیا۔

جب وہ لوگ مکہ آئے تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کا احرام ختم کر کے اسے عمرہ کے لئے کر دیں اور عمرہ کے لیے طواف اور سعی کریں اور پھر بال کتروا کر مکمل طور پر حلال ہوجائيں۔ یہ حکم اس شخص کے بارے میں تھا جو اپنے ساتھ ہدی نہیں لایا تھا۔

البتہ جو لوگ ہدی لے کر آئے تھے بشمول نبی ﷺ کے وہ طواف او ر سعی کرنے کے بعد اپنے احرام ہی ميں رہے۔

جن لوگوں کو حج کو عمرہ ميں تبديل کرنے کے ليے کہا گیا تھا وہ حيرت واستعجاب سے کہنے لگے: ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم حلال ہوکر اپنی بیویوں سے صحبت کریں اور پھر حج کا احرام باندھ کر منی کی طرف روانہ ہوں حالانکہ ہم نے ابھی ابھی اپنی بیویوں سے ہم بستری کی ہو؟

نبی ﷺ تک جب ان کی یہ بات پہنچی اور آپ ﷺ کو علم ہوا کہ ان پر یہ بات بڑی گراں گزر رہی ہے تو آپ ﷺ نے انہیں حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے دلاسہ دیا کہ: اگر مجھے یہ بات پہلے معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی ہے تو میں اپنے ساتھ یہ ہدی کا جانور نہ لاتا جس نے مجھے حلال ہونے سے روک دیا اور میں بھی تمہارے ساتھ حلال ہو جاتا۔ اس پر ان کے دل راضی اور مطمئن ہو گئے۔

جب وہ مکہ میں داخل ہونے والے تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہوگئيں۔ چنانچہ وہ حج قران کرنے والی ہو گئیں کیونکہ حیض آنے کی وجہ سے وہ بیت اللہ کا طواف نہ کر سکیں۔ تاہم طواف اور سعی کے علاوہ انہوں نے تمام مناسک ادا کئے۔

جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں اور اپنے حج کے لیے بیت اللہ کا طواف کیا تو ان کے دل میں گرہ پڑ گئی کہ اکثر صحابہ بشمول نبی ﷺ کی ازواج نےتو الگ سے عمرہ بھی کیا اور حج بھی، جب کہ ان کا عمرہ، حج کے اندر شامل ہو گیا۔

اس پر وہ رسول اللہ ﷺ سے کہنے لگیں: آپ لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں صرف حج کرکے واپس ہوجاؤں؟

آپ ﷺ نے ان کی دل جوئی کے لیے ان کے بھائی عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو حکم ديا کہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کر جائیں (تا کہ وہ وہاں سے احرام باندھ لیں)۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد عمرہ کی ادائیگی کی۔

موضوعات : حج کے اقسام · ہدی اور کفارات

بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.6 / 29.5
روشنی 96%
نیا چاند 13 دنوں میں
اللهم صل على محمد اے اللہ محمد پر درود بھیج

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود