اسلام > Ur > حدیث > عقیدہ > وہاں پہنچ کر ہم نے کہا : آپ ہمارے سید ہیں۔ لہذا آپ نے کہا : "سید تو اللہ ہے۔" ہم نے عرض کی…
صحيح27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 1 منٹ مطالعہعَن عَبدِ الله بنِ الشِّخِّير رضي الله عنه قَالَ: انْطَلَقْتُ في وَفدِ بَنِي عَامِرٍ إِلى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم، فَقُلنا: أَنتَ سيّدُنَا، فقال: «السَّيدُ اللهُ»، قُلنا: وَأَفْضَلُنا فَضْلاً، وأعظَمُنا طَوْلاً، فقال: «قُولُوا بِقَولِكُم، أَو بَعضِ قولِكُم، وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُم الشَّيطَانُ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ لوگ پہنچے۔ پہنچنے کے بعد انھوں نے آپ کی تعریف میں کچھ باتیں کہیں، جو آپ کو پسند نہيں آئیں۔ انھوں نے کہا : "آپ ہمارے سید ہیں"۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے کہا: "سید تو اللہ ہے"۔ اسی کے پاس مخلوقات کی مکمل سرداری ہے۔ سب اس کے غلام ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا : "آپ ہم میں سب سے فضیلت والے" یعنی سب سے اونچے مرتبے، شرف و منزلت اور امتیازی شان والے ہیں۔ "اور آپ ہم میں سب سے صاحب جود و سخا" یعنی داد و دہش کرنے والے اور اونچی شان کے حامل ہيں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہدایت کی کہ آپ کو سادہ الفاظ میں مخاطب کریں اور بھاری بھرکم الفاظ تلاش نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ شیطان انہیں مبالغہ آرائی کی راہ پر لے جائے، جو شرک اور اس کے اسباب کی طرف لے جاتا ہے۔
موضوعات : ہمارے نبی محمدﷺ