قرآن کا صفحہ 584 پڑھیں

مصحف کا صفحہ 584 31 آیات پر مشتمل ہے۔ یہ جُز 30، حزب 59 میں شامل ہے۔

05 اگست 2026 کو 16:34 بجے اپڈیٹ کیا گیا

قرآن میں صفحہ 584

31
آیات
30
جُز
59
حزب
1
سورت

صفحہ 584 میں سورتیں

النازعات · جُز 30
جُز 30
صفحہ 584
سورة النازعات
جُز 30 9.8% (55/564)
حزب 59 19.9% (55/276)

إِذْ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٦﴾

جب اُن کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طویٰ میں پکارا

ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ﴿١٧﴾

(اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے

فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾

اور (اس سے) کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے؟

وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ ﴿١٩﴾

اور میں تجھے تیرے پروردگار کا رستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو

فَأَرَىٰهُ ٱلْـَٔايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ ﴿٢٠﴾

غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی

فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ﴿٢١﴾

مگر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ ﴿٢٢﴾

پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا

فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ﴿٢٣﴾

اور (لوگوں کو) اکٹھا کیا اور پکارا

فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ ﴿٢٤﴾

کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں

فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْـَٔاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ ﴿٢٥﴾

تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّمَن يَخْشَىٰٓ ﴿٢٦﴾

جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے) میں عبرت ہے

ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا ﴿٢٧﴾

بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا ﴿٢٨﴾

اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا

وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا ﴿٢٩﴾

اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی

وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ ﴿٣٠﴾

اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا ﴿٣١﴾

اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا

وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا ﴿٣٢﴾

اور اس پر پہاڑوں کابوجھ رکھ دیا

مَتَـٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ ﴿٣٣﴾

یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لیے (کیا)

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ ﴿٣٤﴾

تو جب بڑی آفت آئے گی

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا سَعَىٰ ﴿٣٥﴾

اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا

وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ ﴿٣٦﴾

اور دوزخ دیکھنے والے کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ﴿٣٧﴾

تو جس نے سرکشی کی

وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ﴿٣٨﴾

اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا

فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ﴿٣٩﴾

اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ ﴿٤٠﴾

اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہا

فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ﴿٤١﴾

اس کا ٹھکانہ بہشت ہے

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ﴿٤٢﴾

(اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟

فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ ﴿٤٣﴾

سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو

إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ﴿٤٤﴾

اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)

إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا ﴿٤٥﴾

جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو

كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا ﴿٤٦﴾

جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کریں گے) کہ گویا (دنیا میں صرف) ایک شام یا صبح رہے تھے

بسم الله الرحمن الرحيم ہفتہ 8 ربیع الاول
السبت 8 ربيع الأول
التربيع الأول پہلی سہ ماہی دن 9.1 / 29.5
روشنی 67%
پورا چاند 6 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد