الطلاق (الطلاق) لفظ بہ لفظ، مکمل: مدنی، مدینہ میں نازل ہوئی، 12 آیات، 287 الفاظ۔ ہر آیت عربی میں اردو ترجمے کے ساتھ دکھائی جاتی ہے، پھر لفظوں میں تقسیم ہوتی ہے، ہر لفظ کے تلفظ اور معنی کے ساتھ۔
287 الفاظ سیکھنے کے ساتھ سورہ الطلاق عربی پڑھنا سیکھے بغیر بھی آسان ہو جاتی ہے: تلفظ ادائیگی میں رہنمائی کرتا ہے اور معنی سمجھ دیتا ہے۔ ہر لفظ دہرائیں، پھر پوری آیت دوبارہ پڑھیں: یہ اس سورہ کو حفظ کرنے، نماز کی تلاوت سمجھنے اور قرآنی ذخیرۂ الفاظ بڑھانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیئے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے
پھر جب وہ اپنی میعاد (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو ان کو اچھی طرح (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور (گواہ ہو!) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کے لئے (رنج ومحن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کرے گا
اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو۔ اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔ خدا اپنے کام کو (جو وہ کرنا چاہتا ہے) پورا کردیتا ہے۔ خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے
اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (ان کی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (ان کی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچّہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا
وَٱلَّـٰٓـِٔىwa-allāīاور وہ عورتیں
يَئِسْنَya-is'naجو مایوس ہوچکی ہوں
مِنَminaسے
ٱلْمَحِيضِl-maḥīḍiحیض (سے)
مِنminسے
نِّسَآئِكُمْnisāikumتمہاری عورتوں میں (سے)
إِنِiniاگر
ٱرْتَبْتُمْir'tabtumشک ہو تم کو
فَعِدَّتُهُنَّfaʿiddatuhunnaتو ان کی عدت
ثَلَـٰثَةُthalāthatuتین
أَشْهُرٍۢashhurinمہینے ہے
وَٱلَّـٰٓـِٔىwa-allāīاور وہ عورتیں
لَمْlamنہیں
يَحِضْنَ ۚyaḥiḍ'naجنہیں ابھی حیض آیا ہو۔ جو حائضہ ہوئی ہوں
عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچّہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو۔ پھر اگر وہ بچّے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔ اور (بچّے کے بارے میں) پسندیدہ طریق سے مواقفت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچّے کو) اس کے (باپ کے) کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی
أَسْكِنُوهُنَّaskinūhunnaبساؤ ان عورتوں کو
مِنْminسٰے
حَيْثُḥaythuجہاں
سَكَنتُمsakantumتم رہتے ہو
مِّنminکے
وُجْدِكُمْwuj'dikumاپنی وسعت کے مطابق
وَلَاwalāاور نہ
تُضَآرُّوهُنَّtuḍārrūhunnaتم ضرر پہنچاؤ ان کو
لِتُضَيِّقُوا۟lituḍayyiqūتاکہ تم تنگ کرو۔ تنگی کرو
صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیئے۔ اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے۔ خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے۔ اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا
اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا
وَكَأَيِّنwaka-ayyinاور کتنی ہی
مِّنminسے
قَرْيَةٍqaryatinبستیوں میں (سے)
عَتَتْʿatatانہوں نے سرکشی کی
عَنْʿanسے
أَمْرِamriحکم (سے)
رَبِّهَاrabbihāاپنے رب کے
وَرُسُلِهِۦwarusulihiاور اس کے رسولوں سے
فَحَاسَبْنَـٰهَاfaḥāsabnāhāتو حساب لیا ہم نے اس سے
حِسَابًۭاḥisābanحساب
شَدِيدًۭاshadīdanسخت
وَعَذَّبْنَـٰهَاwaʿadhabnāhāاور عذاب دیا ہم نے اس کو
(اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئیں اور جو شخص ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا ان کو باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہیں ہیں ابد الاآباد ان میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے
خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ایسی ہی زمینیں۔ ان میں (خدا کے) حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا چیز پر قادر ہے۔ اور یہ کہ خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے