نماز کا طریقہ پر احادیث

اسلام > Ur > حدیث > نماز کا طریقہ

«نماز کا طریقہ» پر 53 نبوی احادیث وضاحت کے ساتھ: عربی متن، ترجمہ، وضاحت اور سبق، درجہ استناد اور حوالوں کے ساتھ۔

27 اکتوبر 2026 کو 14:02 بجے اپڈیٹ کیا گیا

نماز کا طریقہ پر احادیث کی فہرست

صحیح رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے قبا تشریف لے گئے۔ صحیح میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ لوگوں کی امامت کر رہے تھے اور ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا جو نبی ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہ صحیح نماز میں دو سیاہوں (یعنی) سانپ اور بچھو کو مار ڈالو۔ حَسَنْ اپنی نماز کو اچھی طرح نہ پڑھنے والے کی حديث جس کو رفاعہ رضی اللہ عنہ نے روايت کيا ہے۔ صحیح ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ کہنا کہ میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ ر صحیح رسول اللہ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے اور آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اُس وقت بھی دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر صحیح میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔ یہ حدیث اپنی تمام روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔ نبی کریم ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز ”الحمد للہ رب العالمین“ کے ساتھ شروع کرتے تھے۔ صحیح نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور دو مزید سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا صحیح ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے۔ ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ الٓم :تنزيل (السجدہ) کی قراءت کے بقدر لگایا صحیح میں نے رسول کریم ﷺ سے زیادہ مشابہت والی نماز فلاں شخص کے علاوہ کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، چنانچہ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رک صحیح میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے ہوۓ سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے ﴿ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ، أَمْ صحیح رسول اللہ ﷺ کی نماز آپ کا رکوع کرنا، رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، نیز دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔ صحیح نبی ﷺ رکوع کرتے وقت اپنی انگلیاں کشادہ کر لیتے اور سجدہ کرتے وقت اپنی انگلیاں سمیٹ لیا کرتے تھے۔ حسن بشواهده اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "اللَّهمَّ اغْفِرْ لي، وارْحَمْنِي، وعافِني، واهْدِني، وارزقْنِي"۔ (اے اللہ! صحیح جب نبی ﷺ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔ صحیح نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی۔ جس میں آپ ﷺ بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کر رہے تھے۔ صحیح نبیﷺ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بد دعا کرتے، تو اس صورت میں قنوت پڑھتے، ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔ صحیح اے ابا جان! آپ نے تو رسول اللہ ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمررضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ اور یہاں کوفہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے تقریبا پانچ سال تک صحیح جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، اسے چاہیے کہ گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) رکھے۔ صحیح ابن عمر رضی اللہ عنہما (نماز میں سجدے میں جاتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا صحیح جب(نماز میں )بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پراور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے او صحيح اللہ کے رسول ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھاتے صحيح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے اسی طرح تشہد سکھایا، جیسے قرآن کی سورہ سکھاتے تھے۔ اس وقت میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے بیچ میں تھی صحیح رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے، تو جس وقت کھڑے ہوتے تکبیر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع سے اپنی پیٹھ اٹھاتے تو ”سَمِعَ اللّ صحیح سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اورتم میں سے کوئی بھی شخص اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔ صحیح میں نے محمد ﷺ کے ساتھ نماز کو غور سے دیکھا۔ آپ ﷺ کا قیام، رکوع، رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا، آپ ﷺ کا سجدہ اور دونوں سجدوں کے مابین بیٹھنا، آپ ﷺ کا (دو صحیح نبی ﷺ اُمامہ بنت زینب بنت رسول اللہ ﷺ کو اٹھائے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ صحیح میں نے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، تو میں نے ان میں سے کسی کو بھی ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“ پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ صحیح رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں (قراءت کا) اختتام ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ صحیح رسول اللہ ﷺ اپنی نماز کا آغاز ”اللَّهُ أَكْبَرُ“ کہہ کر فرمایا کرتے تھے اور﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ سے قراءت شروع کر تے تھے اور جب آپ صحیح اہل کوفہ نے سعد یعنی ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر کے عمار رضی اللہ عنہ کو ک صحیح میں اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور جب سر اٹھاتے تو بھی تکبیر کہت صحیح میں نے بنی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۂ طور پڑھتے سنا۔ صحیح میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، اور میرا ارادہ نماز کا نہیں بلکہ (میں صرف یہ بتانے کے لئے) نماز پڑھوں گا کہ میں ںے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ صحیح جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہو جاتی ہے اس کے پچھلےگناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ صحیح جب آپ ﷺ فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھاتے تو ”سَمِعَ الله لمن حَمِدَه“ اور”رَبَّنا ولك الحَمْدُ“ کہنے کے بعد فرماتے:”اللهمَّ الْعَنْ فُلانًا وفُل صحيح لوگو! میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا، تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔‘‘ صحيح جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست کر لو۔ پھر تم میں سے ایک شخص تمھارا امام بن کر نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب وہ تکبیر کہے، تو تم تکبیر کہو صحيح اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میں تم سب کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ بےشک یہی آپ کی نماز ہوتی تھی تا صحيح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے : "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ صحيح اللہ کے نبی صلی اللہ عليه وسلم دو سجدوں کے بیچ یہ دعا پڑھا کرتے تھے : "رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي"۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے۔ اے میرے رب مجھ صحيح وہ ایک شیطان ہے، جسے خِِنزَب کہا جاتا ہے۔ جب تمھیں اس کے خلل انداز ہونے کا احساس ہو، تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین بار تھتکارو صحیح اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گنا ہوں کی مغفرت فرما اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے درگزر فرما جن کو تو مجھ سے زیا صحیح اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، یا اللہ! بے بس و ناتواں مسلمانوں کو نجات بخ
بسم الله الرحمن الرحيم منگل 15 جمادی الاول
الثلاثاء 15 جمادى الأولى
بدر پورا چاند دن 16.5 / 29.5
روشنی 97%
نیا چاند 13 دنوں میں
الله أكبر اللہ سب سے بڑا ہے

إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَٰٓئِكَتَهُۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّ ۚ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ صَلُّوا۟ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو

Al-Ahzab 33:56

نبی پر درود