سورہ يوسف لفظ بہ لفظ
اسلام > Ur > قرآن > Quran_wbw > سورہ يوسف لفظ بہ لفظ
يوسف (يوسف) لفظ بہ لفظ، مکمل: مکی، مکہ میں نازل ہوئی، 111 آیات، 1,777 الفاظ۔ ہر آیت عربی میں اردو ترجمے کے ساتھ دکھائی جاتی ہے، پھر لفظوں میں تقسیم ہوتی ہے، ہر لفظ کے تلفظ اور معنی کے ساتھ۔
1,777 الفاظ سیکھنے کے ساتھ سورہ يوسف عربی پڑھنا سیکھے بغیر بھی آسان ہو جاتی ہے: تلفظ ادائیگی میں رہنمائی کرتا ہے اور معنی سمجھ دیتا ہے۔ ہر لفظ دہرائیں، پھر پوری آیت دوبارہ پڑھیں: یہ اس سورہ کو حفظ کرنے، نماز کی تلاوت سمجھنے اور قرآنی ذخیرۂ الفاظ بڑھانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
30 ستمبر 2026 کو 04:42 بجے اپڈیٹ کیا گیا
📖 9 منٹ مطالعہ
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
آیت 1 - سورہ يوسف: 5 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ
الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
▶
الٓر ۚ
alif-lam-ra
ا ل ر
▶
تِلْكَ
til'ka
یہ
▶
ءَايَـٰتُ
āyātu
آیات ہیں
▶
ٱلْكِتَـٰبِ
l-kitābi
کتاب
▶
ٱلْمُبِينِ
l-mubīni
روشن کی۔ واضح کتاب کی
آیت 2 - سورہ يوسف: 6 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّۭا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو
▶
إِنَّآ
innā
بیشک ہم نے
▶
أَنزَلْنَـٰهُ
anzalnāhu
نازل کیا ہم نے اس کو
▶
قُرْءَٰنًا
qur'ānan
ایک قرآن
▶
عَرَبِيًّۭا
ʿarabiyyan
عربی
▶
لَّعَلَّكُمْ
laʿallakum
تاکہ تم
▶
تَعْقِلُونَ
taʿqilūna
تم سمجھ سکو۔ عقل سے کام لو
آیت 3 - سورہ يوسف: 16 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَـٰفِلِينَ
(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے
▶
نَحْنُ
naḥnu
ہم
▶
نَقُصُّ
naquṣṣu
بیان کرتے ہیں
▶
عَلَيْكَ
ʿalayka
آپ پر
▶
أَحْسَنَ
aḥsana
بہترین
▶
ٱلْقَصَصِ
l-qaṣaṣi
بیان۔ بہترین واقعہ۔ قصوں میں سے بہترین قصہ
▶
بِمَآ
bimā
ساتھ اس کے جو
▶
أَوْحَيْنَآ
awḥaynā
وحی کررہے ہیں ہم
▶
إِلَيْكَ
ilayka
آپ کی طرف
▶
هَـٰذَا
hādhā
اس
▶
ٱلْقُرْءَانَ
l-qur'āna
قرآن (نہیں)
▶
وَإِن
wa-in
اور بیشک
▶
كُنتَ
kunta
تھے آپ
▶
مِن
min
سے
▶
قَبْلِهِۦ
qablihi
اس سے پہلے
▶
لَمِنَ
lamina
البتہ میں سے
▶
ٱلْغَـٰفِلِينَ
l-ghāfilīna
غافلوں (میں سے)
آیت 4 - سورہ يوسف: 15 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَـٰجِدِينَ
جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں
▶
إِذْ
idh
جب
▶
قَالَ
qāla
کہا تھا
▶
يُوسُفُ
yūsufu
یوسف نے
▶
لِأَبِيهِ
li-abīhi
اپنے والد سے
▶
يَـٰٓأَبَتِ
yāabati
اے میرے ابا جان
▶
إِنِّى
innī
بیشک میں نے
▶
رَأَيْتُ
ra-aytu
نے دیکھا ہے (خواب)
▶
أَحَدَ
aḥada
ایک
▶
عَشَرَ
ʿashara
دس (گیارہ)
▶
كَوْكَبًۭا
kawkaban
ستاروں کو
▶
وَٱلشَّمْسَ
wal-shamsa
اور سورج
▶
وَٱلْقَمَرَ
wal-qamara
اور چاند کو
▶
رَأَيْتُهُمْ
ra-aytuhum
میں نے دیکھا ان کو
▶
لِى
lī
میرے لیے
▶
سَـٰجِدِينَ
sājidīna
سجدہ کررہے ہیں
آیت 5 - سورہ يوسف: 15 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ يَـٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لِلْإِنسَـٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ
انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
يَـٰبُنَىَّ
yābunayya
اے میرے بیٹے
▶
لَا
lā
نہ
▶
تَقْصُصْ
taqṣuṣ
تم بتانا۔ نہ تم بیان کرنا
▶
رُءْيَاكَ
ru'yāka
اپنا خواب
▶
عَلَىٰٓ
ʿalā
پر
▶
إِخْوَتِكَ
ikh'watika
اپنے بھائیوں پر
▶
فَيَكِيدُوا۟
fayakīdū
ورنہ وہ چال چلیں گے
▶
لَكَ
laka
تیرے لیے
▶
كَيْدًا ۖ
kaydan
ایک چال
▶
إِنَّ
inna
بیشک
▶
ٱلشَّيْطَـٰنَ
l-shayṭāna
شیطان
▶
لِلْإِنسَـٰنِ
lil'insāni
انسان کے لیے
▶
عَدُوٌّۭ
ʿaduwwun
دشمن ہے
▶
مُّبِينٌۭ
mubīnun
کھلا
آیت 6 - سورہ يوسف: 25 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ
اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
▶
وَكَذَٰلِكَ
wakadhālika
اور اسی طرح
▶
يَجْتَبِيكَ
yajtabīka
چن لے گا تجھ کو
▶
رَبُّكَ
rabbuka
تیرا رب
▶
وَيُعَلِّمُكَ
wayuʿallimuka
اور سکھائے گا تجھ کو
▶
مِن
min
کی
▶
تَأْوِيلِ
tawīli
اور پورا کردے گا
▶
ٱلْأَحَادِيثِ
l-aḥādīthi
باتوں کا مطلب۔ باتوں کی تہہ تک پہنچنا
▶
وَيُتِمُّ
wayutimmu
اور پورا کر دے گا
▶
نِعْمَتَهُۥ
niʿ'matahu
اپنی نعمت کو
▶
عَلَيْكَ
ʿalayka
تجھ پر
▶
وَعَلَىٰٓ
waʿalā
اور پر
▶
ءَالِ
āli
آل
▶
يَعْقُوبَ
yaʿqūba
یعقوب پر
▶
كَمَآ
kamā
جیسا کہ
▶
أَتَمَّهَا
atammahā
اس نے پورا کیا اس کو
▶
عَلَىٰٓ
ʿalā
پر
▶
أَبَوَيْكَ
abawayka
تیرے دو باپوں پر
▶
مِن
min
سے
▶
قَبْلُ
qablu
اس (سے) پہلے
▶
إِبْرَٰهِيمَ
ib'rāhīma
ابراہیم پر
▶
وَإِسْحَـٰقَ ۚ
wa-is'ḥāqa
اور اسحاق
▶
إِنَّ
inna
بیشک
▶
رَبَّكَ
rabbaka
تیرا رب
▶
عَلِيمٌ
ʿalīmun
علم والا
▶
حَكِيمٌۭ
ḥakīmun
حکمت والا ہے
آیت 7 - سورہ يوسف: 7 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
۞ لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَـٰتٌۭ لِّلسَّآئِلِينَ
ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں
▶
۞ لَّقَدْ
laqad
البتہ تحقیق
▶
كَانَ
kāna
ہیں
▶
فِى
fī
میں
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف
▶
وَإِخْوَتِهِۦٓ
wa-ikh'watihi
اور اس کے بھائیوں میں
▶
ءَايَـٰتٌۭ
āyātun
نشانیاں
▶
لِّلسَّآئِلِينَ
lilssāilīna
سوال کرنے والوں کے لیے
آیت 8 - سورہ يوسف: 15 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍ
جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں
▶
إِذْ
idh
جب
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا تھا
▶
لَيُوسُفُ
layūsufu
بلاشبہ یوسف
▶
وَأَخُوهُ
wa-akhūhu
اور اس کا بھائی
▶
أَحَبُّ
aḥabbu
زیادہ پیارے ہیں۔ محبوب ہیں
▶
إِلَىٰٓ
ilā
طرف
▶
أَبِينَا
abīnā
ہمارے باپ کے
▶
مِنَّا
minnā
بہ نسبت ہمارے
▶
وَنَحْنُ
wanaḥnu
حالانکہ ہم
▶
عُصْبَةٌ
ʿuṣ'batun
ایک گروہ ہیں۔ جتھہ ہیں
▶
إِنَّ
inna
بیشک
▶
أَبَانَا
abānā
ہمارے والد
▶
لَفِى
lafī
البتہ میں
▶
ضَلَـٰلٍۢ
ḍalālin
بھول میں ہیں
▶
مُّبِينٍ
mubīnin
واضح
آیت 9 - سورہ يوسف: 14 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًۭا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًۭا صَـٰلِحِينَ
تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے
▶
ٱقْتُلُوا۟
uq'tulū
قتل کردو
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف کو
▶
أَوِ
awi
یا
▶
ٱطْرَحُوهُ
iṭ'raḥūhu
پھینک دو اس کو
▶
أَرْضًۭا
arḍan
کسی زمین میں
▶
يَخْلُ
yakhlu
خالی ہوجائے گا
▶
لَكُمْ
lakum
تمہارے لیے
▶
وَجْهُ
wajhu
چہرہ
▶
أَبِيكُمْ
abīkum
تمہارے باپ کا
▶
وَتَكُونُوا۟
watakūnū
اور تم ہوجانا
▶
مِنۢ
min
کے
▶
بَعْدِهِۦ
baʿdihi
اس کام کے بعد
▶
قَوْمًۭا
qawman
لوگ
▶
صَـٰلِحِينَ
ṣāliḥīna
نیک
آیت 10 - سورہ يوسف: 16 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ قَآئِلٌۭ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَـٰعِلِينَ
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
قَآئِلٌۭ
qāilun
ایک کہنے والے نے
▶
مِّنْهُمْ
min'hum
انہی میں سے
▶
لَا
lā
مت
▶
تَقْتُلُوا۟
taqtulū
قتل کرو
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف کو
▶
وَأَلْقُوهُ
wa-alqūhu
بلکہ ڈال دو اس کو
▶
فِى
fī
میں
▶
غَيَـٰبَتِ
ghayābati
اندھیرے
▶
ٱلْجُبِّ
l-jubi
کنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میں
▶
يَلْتَقِطْهُ
yaltaqiṭ'hu
اٹھا لے گا اس کو
▶
بَعْضُ
baʿḍu
کوئی
▶
ٱلسَّيَّارَةِ
l-sayārati
قافلہ
▶
إِن
in
اگر
▶
كُنتُمْ
kuntum
ہو تم
▶
فَـٰعِلِينَ
fāʿilīna
کرنے والے
آیت 11 - سورہ يوسف: 11 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مَا لَكَ لَا تَأْمَ۫نَّا عَلَىٰ يُوسُفَ وَإِنَّا لَهُۥ لَنَـٰصِحُونَ
(یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
يَـٰٓأَبَانَا
yāabānā
اے ہمارے ابا جان
▶
مَا
mā
کیا ہے
▶
لَكَ
laka
آپ کو
▶
لَا
lā
نہیں
▶
تَأْمَ۫نَّا
tamannā
آپ بھروسہ کرتے ہم
▶
عَلَىٰ
ʿalā
پر
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف کے معاملے میں
▶
وَإِنَّا
wa-innā
اور بیشک ہم
▶
لَهُۥ
lahu
اس کے لیے
▶
لَنَـٰصِحُونَ
lanāṣiḥūna
یقینا خیرخواہ ہیں
آیت 12 - سورہ يوسف: 8 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًۭا يَرْتَعْ وَيَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں
▶
أَرْسِلْهُ
arsil'hu
بھیجئے اس کو
▶
مَعَنَا
maʿanā
ہمارے ساتھ
▶
غَدًۭا
ghadan
کل
▶
يَرْتَعْ
yartaʿ
وہ چرلے۔ کھالے
▶
وَيَلْعَبْ
wayalʿab
اور کھیلے
▶
وَإِنَّا
wa-innā
اور بیشک ہم
▶
لَهُۥ
lahu
اس کے لیے
▶
لَحَـٰفِظُونَ
laḥāfiẓūna
البتہ حفاظت کرنے والے ہیں
آیت 13 - سورہ يوسف: 13 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ إِنِّى لَيَحْزُنُنِىٓ أَن تَذْهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ ٱلذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَـٰفِلُونَ
انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
إِنِّى
innī
بیشک مجھے
▶
لَيَحْزُنُنِىٓ
layaḥzununī
البتہ غمگین کرتی ہے مجھ (یہ بات)
▶
أَن
an
کہ
▶
تَذْهَبُوا۟
tadhhabū
تم لے جاؤ
▶
بِهِۦ
bihi
اس کو
▶
وَأَخَافُ
wa-akhāfu
اور میں ڈرتا ہوں
▶
أَن
an
کہ
▶
يَأْكُلَهُ
yakulahu
کھاجائے گا اس کو
▶
ٱلذِّئْبُ
l-dhi'bu
بھیڑیا
▶
وَأَنتُمْ
wa-antum
اس حال میں کہ تم
▶
عَنْهُ
ʿanhu
اس سے
▶
غَـٰفِلُونَ
ghāfilūna
غافل ہو
آیت 14 - سورہ يوسف: 9 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ لَئِنْ أَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّآ إِذًۭا لَّخَـٰسِرُونَ
وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
لَئِنْ
la-in
البتہ اگر
▶
أَكَلَهُ
akalahu
تو کھا گیا اس کو
▶
ٱلذِّئْبُ
l-dhi'bu
بھیڑیا
▶
وَنَحْنُ
wanaḥnu
جبکہ ہم
▶
عُصْبَةٌ
ʿuṣ'batun
ایک گروہ ہیں
▶
إِنَّآ
innā
بیشک ہم
▶
إِذًۭا
idhan
تب
▶
لَّخَـٰسِرُونَ
lakhāsirūna
البتہ خسارہ پانے والے ہیں
آیت 15 - سورہ يوسف: 17 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی
▶
فَلَمَّا
falammā
تو جب
▶
ذَهَبُوا۟
dhahabū
وہ لے گئے
▶
بِهِۦ
bihi
اس کو
▶
وَأَجْمَعُوٓا۟
wa-ajmaʿū
اور انہوں نے اتفاق طے کرلیا
▶
أَن
an
کہ
▶
يَجْعَلُوهُ
yajʿalūhu
ڈالیں اس کو
▶
فِى
fī
میں
▶
غَيَـٰبَتِ
ghayābati
اندھے
▶
ٱلْجُبِّ ۚ
l-jubi
کنوئیں میں۔ کنوئیں کی گہرائی میں
▶
وَأَوْحَيْنَآ
wa-awḥaynā
اور وحی کی ہم نے
▶
إِلَيْهِ
ilayhi
اس کی طرف
▶
لَتُنَبِّئَنَّهُم
latunabbi-annahum
البتہ تو ضرور آگاہ کرے گا ان کو
▶
بِأَمْرِهِمْ
bi-amrihim
ان کے کام کے بارے میں
▶
هَـٰذَا
hādhā
اس
▶
وَهُمْ
wahum
اور وہ
▶
لَا
lā
نہ
▶
يَشْعُرُونَ
yashʿurūna
شعور رکھتے ہوں گے
آیت 16 - سورہ يوسف: 4 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءًۭ يَبْكُونَ
(یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے
▶
وَجَآءُوٓ
wajāū
اور وہ آگئے
▶
أَبَاهُمْ
abāhum
اپنے باپ کے پاس
▶
عِشَآءًۭ
ʿishāan
عشاء کے وقت
▶
يَبْكُونَ
yabkūna
روتے پیٹتے
آیت 17 - سورہ يوسف: 18 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَـٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍۢ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَـٰدِقِينَ
(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے
▶
قَالُوا۟
qālū
کہنے لگے
▶
يَـٰٓأَبَانَآ
yāabānā
اے ابا جان
▶
إِنَّا
innā
بیشک ہم
▶
ذَهَبْنَا
dhahabnā
ہم چلے گئے تھے
▶
نَسْتَبِقُ
nastabiqu
دوڑ لگانے کے لیے
▶
وَتَرَكْنَا
wataraknā
اور ہم چھوڑ گئے
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف کو
▶
عِندَ
ʿinda
پاس
▶
مَتَـٰعِنَا
matāʿinā
اپنے سامان کے
▶
فَأَكَلَهُ
fa-akalahu
پھر کھا گیا اس کو
▶
ٱلذِّئْبُ ۖ
l-dhi'bu
بھیڑیا
▶
وَمَآ
wamā
اور نہیں
▶
أَنتَ
anta
تو
▶
بِمُؤْمِنٍۢ
bimu'minin
ماننے والا
▶
لَّنَا
lanā
ہم کو
▶
وَلَوْ
walaw
اور اگرچہ
▶
كُنَّا
kunnā
ہوں ہم
▶
صَـٰدِقِينَ
ṣādiqīna
سچ بولنے والے
آیت 18 - سورہ يوسف: 18 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍۢ كَذِبٍۢ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌۭ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے
▶
وَجَآءُو
wajāū
اور وہ لائے تھے
▶
عَلَىٰ
ʿalā
پر
▶
قَمِيصِهِۦ
qamīṣihi
اس کی قمیص
▶
بِدَمٍۢ
bidamin
خون
▶
كَذِبٍۢ ۚ
kadhibin
جھوٹا
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
بَلْ
bal
بلکہ
▶
سَوَّلَتْ
sawwalat
آسان کردیا
▶
لَكُمْ
lakum
تمہارے لیے
▶
أَنفُسُكُمْ
anfusukum
تمہارے نفسوں نے
▶
أَمْرًۭا ۖ
amran
ایک کام کو
▶
فَصَبْرٌۭ
faṣabrun
تو صبر ہی
▶
جَمِيلٌۭ ۖ
jamīlun
اچھا ہے
▶
وَٱللَّهُ
wal-lahu
اور اللہ ہی ہے
▶
ٱلْمُسْتَعَانُ
l-mus'taʿānu
جس سے مدد چاہی جاسکتی ہے
▶
عَلَىٰ
ʿalā
اس کے خلاف
▶
مَا
mā
جو
▶
تَصِفُونَ
taṣifūna
تم بیان کررہے ہو
آیت 19 - سورہ يوسف: 16 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌۭ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَـٰبُشْرَىٰ هَـٰذَا غُلَـٰمٌۭ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَـٰعَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ
(اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا
▶
وَجَآءَتْ
wajāat
اور آیا
▶
سَيَّارَةٌۭ
sayyāratun
ایک قافلہ
▶
فَأَرْسَلُوا۟
fa-arsalū
تو انہوں نے بھیجا
▶
وَارِدَهُمْ
wāridahum
اپنا پانی پلانے والا
▶
فَأَدْلَىٰ
fa-adlā
تو اس نے ڈالا
▶
دَلْوَهُۥ ۖ
dalwahu
اپنا ڈول
▶
قَالَ
qāla
بولا
▶
يَـٰبُشْرَىٰ
yābush'rā
واہ خوش خبری
▶
هَـٰذَا
hādhā
یہ
▶
غُلَـٰمٌۭ ۚ
ghulāmun
تو ایک لڑکا ہے
▶
وَأَسَرُّوهُ
wa-asarrūhu
اور انہوں نے چھپالیا اس کو
▶
بِضَـٰعَةًۭ ۚ
biḍāʿatan
سامان سمجھ کر۔ مال تجارت سمجھ کر
▶
وَٱللَّهُ
wal-lahu
اور اللہ
▶
عَلِيمٌۢ
ʿalīmun
علم والا ہے
▶
بِمَا
bimā
ساتھ اس کے جو
▶
يَعْمَلُونَ
yaʿmalūna
وہ کررہے تھے
آیت 20 - سورہ يوسف: 9 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍۢ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍۢ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ
اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا
▶
وَشَرَوْهُ
washarawhu
اور انہوں نے بیچ ڈالا اس کو
▶
بِثَمَنٍۭ
bithamanin
قیمت پر
▶
بَخْسٍۢ
bakhsin
کم
▶
دَرَٰهِمَ
darāhima
درہموں میں
▶
مَعْدُودَةٍۢ
maʿdūdatin
گنے چنے
▶
وَكَانُوا۟
wakānū
اور وہ تھے
▶
فِيهِ
fīhi
اس کے بارے میں
▶
مِنَ
mina
سے
▶
ٱلزَّٰهِدِينَ
l-zāhidīna
بےرغبت لوگوں میں سے
آیت 21 - سورہ يوسف: 32 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
▶
وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
ٱلَّذِى
alladhī
اس شخص نے
▶
ٱشْتَرَىٰهُ
ish'tarāhu
جس نے خریدا تھا اس کو
▶
مِن
min
سے
▶
مِّصْرَ
miṣ'ra
مصر سے
▶
لِٱمْرَأَتِهِۦٓ
li-im'ra-atihi
اپنی بیوی کو
▶
أَكْرِمِى
akrimī
باعزت رکھ۔ عزت کے ساتھ دے
▶
مَثْوَىٰهُ
mathwāhu
ٹھکانہ اس کو
▶
عَسَىٰٓ
ʿasā
امید ہے
▶
أَن
an
کہ
▶
يَنفَعَنَآ
yanfaʿanā
نفع دے گا ہم کو
▶
أَوْ
aw
یا
▶
نَتَّخِذَهُۥ
nattakhidhahu
ہم بنالیں گے اس کو
▶
وَلَدًۭا ۚ
waladan
بیٹا
▶
وَكَذَٰلِكَ
wakadhālika
اور اسی طرح
▶
مَكَّنَّا
makkannā
ٹھکانہ دیا ہم نے
▶
لِيُوسُفَ
liyūsufa
یوسف کو
▶
فِى
fī
میں
▶
ٱلْأَرْضِ
l-arḍi
زمین میں
▶
وَلِنُعَلِّمَهُۥ
walinuʿallimahu
اور تاکہ ہم سکھائیں اس کو
▶
مِن
min
سے
▶
تَأْوِيلِ
tawīli
مطلب مٰیں سے
▶
ٱلْأَحَادِيثِ ۚ
l-aḥādīthi
باتوں کے (مطلب مٰیں سے)
▶
وَٱللَّهُ
wal-lahu
اور اللہ تعالیٰ
▶
غَالِبٌ
ghālibun
غالب ہے
▶
عَلَىٰٓ
ʿalā
میں۔ پر
▶
أَمْرِهِۦ
amrihi
اپنے فیصلے (میں) اپنے کام پر
▶
وَلَـٰكِنَّ
walākinna
اور لیکن
▶
أَكْثَرَ
akthara
اکثر
▶
ٱلنَّاسِ
l-nāsi
لوگ
▶
لَا
lā
نہیں
▶
يَعْلَمُونَ
yaʿlamūna
علم رکھتے
آیت 22 - سورہ يوسف: 9 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَـٰهُ حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
▶
وَلَمَّا
walammā
اور جب
▶
بَلَغَ
balagha
وہ پہنچا
▶
أَشُدَّهُۥٓ
ashuddahu
اپنی جوانی کو
▶
ءَاتَيْنَـٰهُ
ātaynāhu
دی ہم نے اس کو
▶
حُكْمًۭا
ḥuk'man
قوت فیصلہ
▶
وَعِلْمًۭا ۚ
waʿil'man
اور علم
▶
وَكَذَٰلِكَ
wakadhālika
اور اسی طرح
▶
نَجْزِى
najzī
ہم جزا دیتے ہیں
▶
ٱلْمُحْسِنِينَ
l-muḥ'sinīna
احسان کرنے والوں کو
آیت 23 - سورہ يوسف: 23 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے
▶
وَرَٰوَدَتْهُ
warāwadathu
اور پھسلانا چاہا اس کو
▶
ٱلَّتِى
allatī
اس عورت نے
▶
هُوَ
huwa
وہ
▶
فِى
fī
میں
▶
بَيْتِهَا
baytihā
جس کے گھر میں تھے
▶
عَن
ʿan
سے
▶
نَّفْسِهِۦ
nafsihi
اس کے نفس سے
▶
وَغَلَّقَتِ
waghallaqati
اور بند کرلیے
▶
ٱلْأَبْوَٰبَ
l-abwāba
دروازے
▶
وَقَالَتْ
waqālat
اور بولی
▶
هَيْتَ
hayta
آجاؤ
▶
لَكَ ۚ
laka
تم
▶
قَالَ
qāla
بولے
▶
مَعَاذَ
maʿādha
پناہ
▶
ٱللَّهِ ۖ
l-lahi
اللہ کی
▶
إِنَّهُۥ
innahu
بیشک وہ
▶
رَبِّىٓ
rabbī
میرا رب ہے
▶
أَحْسَنَ
aḥsana
جس نے اچھا دیا
▶
مَثْوَاىَ ۖ
mathwāya
مجھے ٹھکانہ
▶
إِنَّهُۥ
innahu
بیشک وہ
▶
لَا
lā
نہیں
▶
يُفْلِحُ
yuf'liḥu
فلاح پاتے
▶
ٱلظَّـٰلِمُونَ
l-ẓālimūna
وہ جو ظالم ہیں
آیت 24 - سورہ يوسف: 19 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَـٰنَ رَبِّهِۦ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ
اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے
▶
وَلَقَدْ
walaqad
اور البتہ تحقیق
▶
هَمَّتْ
hammat
اس عورت نے ارادہ کیا
▶
بِهِۦ ۖ
bihi
اس کا
▶
وَهَمَّ
wahamma
اور وہ بھی ارادہ کرلیتا
▶
بِهَا
bihā
اس کا
▶
لَوْلَآ
lawlā
اگر نہ
▶
أَن
an
کہ
▶
رَّءَا
raā
وہ دیکھ لیتا
▶
بُرْهَـٰنَ
bur'hāna
برہان
▶
رَبِّهِۦ ۚ
rabbihi
اپنے رب کی
▶
كَذَٰلِكَ
kadhālika
اسی طرح
▶
لِنَصْرِفَ
linaṣrifa
تاکہ ہم پھیر دیں
▶
عَنْهُ
ʿanhu
اس سے
▶
ٱلسُّوٓءَ
l-sūa
برائی کو
▶
وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ
wal-faḥshāa
اور بےحیائی کو
▶
إِنَّهُۥ
innahu
کیونکہ وہ
▶
مِنْ
min
سے
▶
عِبَادِنَا
ʿibādinā
ہمارے بندوں میں (سے) تھا
▶
ٱلْمُخْلَصِينَ
l-mukh'laṣīna
چنے ہوئے
آیت 25 - سورہ يوسف: 23 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍۢ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ ۚ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے
▶
وَٱسْتَبَقَا
wa-is'tabaqā
اور وہ دونوں بڑھے
▶
ٱلْبَابَ
l-bāba
دروازے کی طرف
▶
وَقَدَّتْ
waqaddat
اور اس عورت نے پھاڑ دیا
▶
قَمِيصَهُۥ
qamīṣahu
اس کا قمیص
▶
مِن
min
سے
▶
دُبُرٍۢ
duburin
پچھلی طرف سے
▶
وَأَلْفَيَا
wa-alfayā
اور دونوں نے پایا
▶
سَيِّدَهَا
sayyidahā
اس کے شوہر کو
▶
لَدَا
ladā
پاس
▶
ٱلْبَابِ ۚ
l-bābi
دروازے کے (پاس)
▶
قَالَتْ
qālat
بول اٹھی
▶
مَا
mā
کیا
▶
جَزَآءُ
jazāu
بدلہ ہوسکتا ہے
▶
مَنْ
man
جو
▶
أَرَادَ
arāda
ارادہ کرے
▶
بِأَهْلِكَ
bi-ahlika
تیری گھروالی کے ساتھ
▶
سُوٓءًا
sūan
برائی کا
▶
إِلَّآ
illā
مگر
▶
أَن
an
یہ کہ
▶
يُسْجَنَ
yus'jana
قید کیا جائے
▶
أَوْ
aw
یا
▶
عَذَابٌ
ʿadhābun
سزا دیا جائے
▶
أَلِيمٌۭ
alīmun
دردناک
آیت 26 - سورہ يوسف: 19 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى ۚ وَشَهِدَ شَاهِدٌۭ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍۢ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
هِىَ
hiya
یہ
▶
رَٰوَدَتْنِى
rāwadatnī
پھسلانا چاہتی تھی تجھ کو
▶
عَن
ʿan
سے
▶
نَّفْسِى ۚ
nafsī
میرے نفس
▶
وَشَهِدَ
washahida
اور گواہی دی
▶
شَاهِدٌۭ
shāhidun
ایک گواہ نے
▶
مِّنْ
min
سے
▶
أَهْلِهَآ
ahlihā
اس کے گھروالوں میں سے
▶
إِن
in
اگر
▶
كَانَ
kāna
ہے
▶
قَمِيصُهُۥ
qamīṣuhu
اس کی قمیص
▶
قُدَّ
qudda
پھاڑی گئی
▶
مِن
min
سے
▶
قُبُلٍۢ
qubulin
سامنے سے
▶
فَصَدَقَتْ
faṣadaqat
تو یہ سچی ہے
▶
وَهُوَ
wahuwa
اور وہ
▶
مِنَ
mina
سے
▶
ٱلْكَـٰذِبِينَ
l-kādhibīna
جھوٹوں میں سے ہے
آیت 27 - سورہ يوسف: 10 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍۢ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے
▶
وَإِن
wa-in
اور اگر
▶
كَانَ
kāna
ہے
▶
قَمِيصُهُۥ
qamīṣuhu
اس کی قمیص
▶
قُدَّ
qudda
پھاڑی گئی
▶
مِن
min
سے
▶
دُبُرٍۢ
duburin
پچھلی طرف
▶
فَكَذَبَتْ
fakadhabat
تو وہ جھوٹی ہے
▶
وَهُوَ
wahuwa
اور وہ
▶
مِنَ
mina
سے
▶
ٱلصَّـٰدِقِينَ
l-ṣādiqīna
سچوں میں سے ہے
آیت 28 - سورہ يوسف: 13 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍۢ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيْدِكُنَّ ۖ إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌۭ
اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں
▶
فَلَمَّا
falammā
تو جب
▶
رَءَا
raā
اس نے دیکھا
▶
قَمِيصَهُۥ
qamīṣahu
اس کی قمیص کو
▶
قُدَّ
qudda
پھاڑ دی گئی ہے
▶
مِن
min
سے
▶
دُبُرٍۢ
duburin
پچھلی طرف سے
▶
قَالَ
qāla
کہا۔ بولا
▶
إِنَّهُۥ
innahu
بیشک وہ
▶
مِن
min
سے
▶
كَيْدِكُنَّ ۖ
kaydikunna
تم عورتوں کی چال میں سے ہے
▶
إِنَّ
inna
بیشک
▶
كَيْدَكُنَّ
kaydakunna
تم عورتوں کی چالیں
▶
عَظِيمٌۭ
ʿaẓīmun
بہت بڑی ہوتی ہیں
آیت 29 - سورہ يوسف: 10 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَا ۚ وَٱسْتَغْفِرِى لِذَنۢبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلْخَاطِـِٔينَ
یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے
▶
يُوسُفُ
yūsufu
یوسف
▶
أَعْرِضْ
aʿriḍ
درگزر کرو
▶
عَنْ
ʿan
سے
▶
هَـٰذَا ۚ
hādhā
اس (سے)
▶
وَٱسْتَغْفِرِى
wa-is'taghfirī
اور بخشش مانگ
▶
لِذَنۢبِكِ ۖ
lidhanbiki
اے عورت اپنے گناہ کی
▶
إِنَّكِ
innaki
کیونکہ تو
▶
كُنتِ
kunti
ہی ہے تو
▶
مِنَ
mina
سے
▶
ٱلْخَاطِـِٔينَ
l-khāṭiīna
خطا کاروں میں سے
آیت 30 - سورہ يوسف: 18 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
۞ وَقَالَ نِسْوَةٌۭ فِى ٱلْمَدِينَةِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفْسِهِۦ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ
اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے
▶
۞ وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
نِسْوَةٌۭ
nis'watun
عورتوں نے
▶
فِى
fī
میں
▶
ٱلْمَدِينَةِ
l-madīnati
شہر
▶
ٱمْرَأَتُ
im'ra-atu
بیوی۔ عورت
▶
ٱلْعَزِيزِ
l-ʿazīzi
عزیز کی
▶
تُرَٰوِدُ
turāwidu
اکساتی ہے۔ پھسلاتی ہے
▶
فَتَىٰهَا
fatāhā
اس کو
▶
عَن
ʿan
سے
▶
نَّفْسِهِۦ ۖ
nafsihi
اس کے نفس سے
▶
قَدْ
qad
تحقیق
▶
شَغَفَهَا
shaghafahā
بےقابو کررکھا ہے اس کو
▶
حُبًّا ۖ
ḥubban
محبت نے
▶
إِنَّا
innā
بیشک ہم
▶
لَنَرَىٰهَا
lanarāhā
البتہ ہم دیکھتے ہیں اس کو
▶
فِى
fī
میں
▶
ضَلَـٰلٍۢ
ḍalālin
گمراہی
▶
مُّبِينٍۢ
mubīnin
کھلی
آیت 31 - سورہ يوسف: 32 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـًۭٔا وَءَاتَتْ كُلَّ وَٰحِدَةٍۢ مِّنْهُنَّ سِكِّينًۭا وَقَالَتِ ٱخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۖ فَلَمَّا رَأَيْنَهُۥٓ أَكْبَرْنَهُۥ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا هَـٰذَا بَشَرًا إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا مَلَكٌۭ كَرِيمٌۭ
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے
▶
فَلَمَّا
falammā
تو جب
▶
سَمِعَتْ
samiʿat
اس نے سنا
▶
بِمَكْرِهِنَّ
bimakrihinna
ان عورتوں کے مکر کو
▶
أَرْسَلَتْ
arsalat
اس نے بھیجا
▶
إِلَيْهِنَّ
ilayhinna
ان کی طرف (بلا بھیجنا ان کو)
▶
وَأَعْتَدَتْ
wa-aʿtadat
اور تیار کیں
▶
لَهُنَّ
lahunna
ان کے لیے
▶
مُتَّكَـًۭٔا
muttaka-an
تکیہ لگانے کی جگہ (مجلس)
▶
وَءَاتَتْ
waātat
اور دی
▶
كُلَّ
kulla
ہر
▶
وَٰحِدَةٍۢ
wāḥidatin
ایک عورت کو
▶
مِّنْهُنَّ
min'hunna
ان میں سے
▶
سِكِّينًۭا
sikkīnan
ایک چھری
▶
وَقَالَتِ
waqālati
اور کہنے لگی
▶
ٱخْرُجْ
ukh'ruj
نکل آ
▶
عَلَيْهِنَّ ۖ
ʿalayhinna
ان پر
▶
فَلَمَّا
falammā
تو جب
▶
رَأَيْنَهُۥٓ
ra-aynahu
ان عورتوں نے دیکھا اس کو
▶
أَكْبَرْنَهُۥ
akbarnahu
بڑا سمجھا اس کو۔ مرعوب ہوگئیں اس سے
▶
وَقَطَّعْنَ
waqaṭṭaʿna
اور کاٹ بیٹھیں
▶
أَيْدِيَهُنَّ
aydiyahunna
اپنے ہاتھ
▶
وَقُلْنَ
waqul'na
اور کہنے لگیں
▶
حَـٰشَ
ḥāsha
حاش۔پاکی
▶
لِلَّهِ
lillahi
للہ۔ پاکی ہے اللہ کے لیے
▶
مَا
mā
نہیں
▶
هَـٰذَا
hādhā
ہے یہ
▶
بَشَرًا
basharan
ایک انسان
▶
إِنْ
in
نہیں
▶
هَـٰذَآ
hādhā
یہ
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
مَلَكٌۭ
malakun
ایک فرشتہ
▶
كَرِيمٌۭ
karīmun
معزز
آیت 32 - سورہ يوسف: 19 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِى لُمْتُنَّنِى فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ فَٱسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًۭا مِّنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ
تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا
▶
قَالَتْ
qālat
وہ کہنے لگی
▶
فَذَٰلِكُنَّ
fadhālikunna
تو یہ ہے
▶
ٱلَّذِى
alladhī
وہ شخص
▶
لُمْتُنَّنِى
lum'tunnanī
تم ملامت کرتی تھیں مجھ کو
▶
فِيهِ ۖ
fīhi
اس کے بارے میں
▶
وَلَقَدْ
walaqad
اور البتہ تحقیق
▶
رَٰوَدتُّهُۥ
rāwadttuhu
میں نے پھسلانا چاہا اس کو
▶
عَن
ʿan
سے
▶
نَّفْسِهِۦ
nafsihi
اس کے نفس سے
▶
فَٱسْتَعْصَمَ ۖ
fa-is'taʿṣama
تو بچا گیا۔ بچ نکلا
▶
وَلَئِن
wala-in
اور البتہ اگر
▶
لَّمْ
lam
نہ
▶
يَفْعَلْ
yafʿal
کرے
▶
مَآ
mā
جو
▶
ءَامُرُهُۥ
āmuruhu
میں حکم دیتی ہوں اس کو
▶
لَيُسْجَنَنَّ
layus'jananna
البتہ ضرور قید کیا جائے گا
▶
وَلَيَكُونًۭا
walayakūnan
اور البتہ ہوجائے گا
▶
مِّنَ
mina
سے
▶
ٱلصَّـٰغِرِينَ
l-ṣāghirīna
ذلیل ہونے والوں میں سے
آیت 33 - سورہ يوسف: 17 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَـٰهِلِينَ
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
رَبِّ
rabbi
اے میرے رب
▶
ٱلسِّجْنُ
l-sij'nu
قیدخانہ
▶
أَحَبُّ
aḥabbu
زیادہ پیارا ہے
▶
إِلَىَّ
ilayya
میری طرف
▶
مِمَّا
mimmā
اس سے جو
▶
يَدْعُونَنِىٓ
yadʿūnanī
وہ بلاتی ہیں مجھ کو
▶
إِلَيْهِ ۖ
ilayhi
اس کی طرف
▶
وَإِلَّا
wa-illā
اور اگر نہیں
▶
تَصْرِفْ
taṣrif
تو پھیرے گا
▶
عَنِّى
ʿannī
مجھ سے
▶
كَيْدَهُنَّ
kaydahunna
ان عورتوں کی چال کو
▶
أَصْبُ
aṣbu
میں مائل ہوجاؤں گا
▶
إِلَيْهِنَّ
ilayhinna
ان کی طرف
▶
وَأَكُن
wa-akun
اور میں ہوجاؤں گا
▶
مِّنَ
mina
سے
▶
ٱلْجَـٰهِلِينَ
l-jāhilīna
جاہلوں میں سے
آیت 34 - سورہ يوسف: 10 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَٱسْتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے
▶
فَٱسْتَجَابَ
fa-is'tajāba
تو دعا قبول کرلی
▶
لَهُۥ
lahu
اس کے لیے
▶
رَبُّهُۥ
rabbuhu
اس کے رب نے
▶
فَصَرَفَ
faṣarafa
تو دور کردیں۔ پھیر دیں
▶
عَنْهُ
ʿanhu
اس سے
▶
كَيْدَهُنَّ ۚ
kaydahunna
ان عورتوں کی چال
▶
إِنَّهُۥ
innahu
بیشک وہ
▶
هُوَ
huwa
وہ
▶
ٱلسَّمِيعُ
l-samīʿu
سننے والا ہے
▶
ٱلْعَلِيمُ
l-ʿalīmu
جاننے والا ہے
آیت 35 - سورہ يوسف: 11 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعْدِ مَا رَأَوُا۟ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَيَسْجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٍۢ
پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں
▶
ثُمَّ
thumma
پھر
▶
بَدَا
badā
ظاہر ہوگیا
▶
لَهُم
lahum
ان کے لیے
▶
مِّنۢ
min
کے
▶
بَعْدِ
baʿdi
اس کے بعد
▶
مَا
mā
جو
▶
رَأَوُا۟
ra-awū
انہوں نے دیکھیں
▶
ٱلْـَٔايَـٰتِ
l-āyāti
نشانیاں
▶
لَيَسْجُنُنَّهُۥ
layasjununnahu
البتہ ضرور قید کردیں گے اس کو
▶
حَتَّىٰ
ḥattā
تک
▶
حِينٍۢ
ḥīnin
ایک وقت
آیت 36 - سورہ يوسف: 27 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ ۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًۭا ۖ وَقَالَ ٱلْـَٔاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًۭا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ ۖ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ
اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں
▶
وَدَخَلَ
wadakhala
اور داخل ہوئے
▶
مَعَهُ
maʿahu
اس کے ساتھ
▶
ٱلسِّجْنَ
l-sij'na
قید خانہ میں
▶
فَتَيَانِ ۖ
fatayāni
دو غلام
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
أَحَدُهُمَآ
aḥaduhumā
ان دونوں میں سے ایک نے
▶
إِنِّىٓ
innī
بیشک میں
▶
أَرَىٰنِىٓ
arānī
میں دیکھتا ہوں خود کو
▶
أَعْصِرُ
aʿṣiru
میں نچوڑ رہا ہوں
▶
خَمْرًۭا ۖ
khamran
شراب
▶
وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
ٱلْـَٔاخَرُ
l-ākharu
دوسرے نے
▶
إِنِّىٓ
innī
بیشک میں
▶
أَرَىٰنِىٓ
arānī
دیکھتا ہوں خود کو
▶
أَحْمِلُ
aḥmilu
کہ میں اٹھائے ہوئے ہوں
▶
فَوْقَ
fawqa
اوپر
▶
رَأْسِى
rasī
اپنے سر کے
▶
خُبْزًۭا
khub'zan
روٹی
▶
تَأْكُلُ
takulu
کھاتے ہیں
▶
ٱلطَّيْرُ
l-ṭayru
پرندے
▶
مِنْهُ ۖ
min'hu
اس میں سے
▶
نَبِّئْنَا
nabbi'nā
بتاؤ ہم کو
▶
بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ
bitawīlihi
اس کی تعبیر۔ مطلب
▶
إِنَّا
innā
بیشک ہم
▶
نَرَىٰكَ
narāka
ہم دیکھتے ہیں تجھ کو
▶
مِنَ
mina
سے
▶
ٱلْمُحْسِنِينَ
l-muḥ'sinīna
محسنین میں سے
آیت 37 - سورہ يوسف: 26 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌۭ تُرْزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِۦ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِى رَبِّىٓ ۚ إِنِّى تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍۢ لَّا يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ كَـٰفِرُونَ
یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
لَا
lā
نہیں
▶
يَأْتِيكُمَا
yatīkumā
آئے گا تم دونوں کے پاس
▶
طَعَامٌۭ
ṭaʿāmun
کھانا
▶
تُرْزَقَانِهِۦٓ
tur'zaqānihi
تم کھلائے جاتے ہو اس کو
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
نَبَّأْتُكُمَا
nabbatukumā
میں بتادوں گا تم دونوں کو
▶
بِتَأْوِيلِهِۦ
bitawīlihi
اس کی تعبیر
▶
قَبْلَ
qabla
اس سے پہلے
▶
أَن
an
کہ
▶
يَأْتِيَكُمَا ۚ
yatiyakumā
وہ آئے تم دونوں کے پاس
▶
ذَٰلِكُمَا
dhālikumā
یہ
▶
مِمَّا
mimmā
اس میں سے ہے جو
▶
عَلَّمَنِى
ʿallamanī
سکھایا مجھ کو
▶
رَبِّىٓ ۚ
rabbī
میرے رب نے
▶
إِنِّى
innī
بیشک میں
▶
تَرَكْتُ
taraktu
میں نے چھوڑ دیا
▶
مِلَّةَ
millata
ملت کو
▶
قَوْمٍۢ
qawmin
ایک قوم کی
▶
لَّا
lā
نہیں
▶
يُؤْمِنُونَ
yu'minūna
جو ایمان رکھتی
▶
بِٱللَّهِ
bil-lahi
اللہ پر
▶
وَهُم
wahum
اور وہ
▶
بِٱلْـَٔاخِرَةِ
bil-ākhirati
آخرت کے ساتھ
▶
هُمْ
hum
وہ
▶
كَـٰفِرُونَ
kāfirūna
انکاری ہیں
آیت 38 - سورہ يوسف: 26 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَٱتَّبَعْتُ مِلَّةَ ءَابَآءِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشْرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ذَٰلِكَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ
اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
▶
وَٱتَّبَعْتُ
wa-ittabaʿtu
اور میں نے پیروی کی
▶
مِلَّةَ
millata
ملت کی
▶
ءَابَآءِىٓ
ābāī
اپنے آباء کی
▶
إِبْرَٰهِيمَ
ib'rāhīma
ابراہیم
▶
وَإِسْحَـٰقَ
wa-is'ḥāqa
اور اسحاق
▶
وَيَعْقُوبَ ۚ
wayaʿqūba
اور یعقوب
▶
مَا
mā
نہیں
▶
كَانَ
kāna
ہے
▶
لَنَآ
lanā
ہمارے لیے
▶
أَن
an
کہ
▶
نُّشْرِكَ
nush'rika
ہم شریک ٹھہرائیں
▶
بِٱللَّهِ
bil-lahi
ساتھ اللہ کے
▶
مِن
min
کسی
▶
شَىْءٍۢ ۚ
shayin
چیز کو
▶
ذَٰلِكَ
dhālika
یہ
▶
مِن
min
کے
▶
فَضْلِ
faḍli
فضل میں سے ہے
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ کے
▶
عَلَيْنَا
ʿalaynā
ہم پر
▶
وَعَلَى
waʿalā
اور پر
▶
ٱلنَّاسِ
l-nāsi
لوگوں
▶
وَلَـٰكِنَّ
walākinna
اور لیکن
▶
أَكْثَرَ
akthara
اکثر
▶
ٱلنَّاسِ
l-nāsi
لوگ
▶
لَا
lā
نہیں
▶
يَشْكُرُونَ
yashkurūna
شکرادا کرتے
آیت 39 - سورہ يوسف: 9 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌۭ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ
میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟
▶
يَـٰصَـٰحِبَىِ
yāṣāḥibayi
اے میرے دو ساتھیو
▶
ٱلسِّجْنِ
l-sij'ni
قیدخانے کے
▶
ءَأَرْبَابٌۭ
a-arbābun
کیا بہت سے رب
▶
مُّتَفَرِّقُونَ
mutafarriqūna
مختلف قسم کے
▶
خَيْرٌ
khayrun
بہتر ہیں
▶
أَمِ
ami
یا
▶
ٱللَّهُ
l-lahu
اللہ
▶
ٱلْوَٰحِدُ
l-wāḥidu
جو ایک ہے
▶
ٱلْقَهَّارُ
l-qahāru
زبردست ہے
آیت 40 - سورہ يوسف: 32 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسْمَآءًۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّآ إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
▶
مَا
mā
نہیں
▶
تَعْبُدُونَ
taʿbudūna
تم عبادت کرتے
▶
مِن
min
کے
▶
دُونِهِۦٓ
dūnihi
اس کے سوا
▶
إِلَّآ
illā
مگر
▶
أَسْمَآءًۭ
asmāan
کچھ ناموں کی
▶
سَمَّيْتُمُوهَآ
sammaytumūhā
نام رکھ لیے تم نے ان کے
▶
أَنتُمْ
antum
تم نے
▶
وَءَابَآؤُكُم
waābāukum
اور تمہارے آباؤ اجداد نے
▶
مَّآ
mā
نہیں
▶
أَنزَلَ
anzala
اتاری
▶
ٱللَّهُ
l-lahu
اللہ نے
▶
بِهَا
bihā
ان کے ساتھ
▶
مِن
min
کوئی
▶
سُلْطَـٰنٍ ۚ
sul'ṭānin
دلیل
▶
إِنِ
ini
نہیں
▶
ٱلْحُكْمُ
l-ḥuk'mu
فیصلہ۔ حکم
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
لِلَّهِ ۚ
lillahi
اللہ ہی کے لیے
▶
أَمَرَ
amara
اس نے حکم دیا
▶
أَلَّا
allā
کہ نہ
▶
تَعْبُدُوٓا۟
taʿbudū
تم عبادت کرو
▶
إِلَّآ
illā
مگر
▶
إِيَّاهُ ۚ
iyyāhu
صرف اسی کی
▶
ذَٰلِكَ
dhālika
یہ
▶
ٱلدِّينُ
l-dīnu
دین ہے
▶
ٱلْقَيِّمُ
l-qayimu
درست
▶
وَلَـٰكِنَّ
walākinna
لیکن
▶
أَكْثَرَ
akthara
اکثر
▶
ٱلنَّاسِ
l-nāsi
لوگ
▶
لَا
lā
نہیں
▶
يَعْلَمُونَ
yaʿlamūna
جانتے ہیں
آیت 41 - سورہ يوسف: 19 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًۭا ۖ وَأَمَّا ٱلْـَٔاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ ۚ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ
میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے
▶
يَـٰصَـٰحِبَىِ
yāṣāḥibayi
اے زنداں کے دونوں ساتھیو !
▶
ٱلسِّجْنِ
l-sij'ni
قیدخانہ کے
▶
أَمَّآ
ammā
رہا
▶
أَحَدُكُمَا
aḥadukumā
تم دونوں میں سے ایک
▶
فَيَسْقِى
fayasqī
پس وہ پلائے گا
▶
رَبَّهُۥ
rabbahu
اپنے رب کو
▶
خَمْرًۭا ۖ
khamran
شراب
▶
وَأَمَّا
wa-ammā
اور لیکن
▶
ٱلْـَٔاخَرُ
l-ākharu
دوسرا
▶
فَيُصْلَبُ
fayuṣ'labu
پس وہ سولی چڑھایا جائے گا
▶
فَتَأْكُلُ
fatakulu
تو کھائیں گے
▶
ٱلطَّيْرُ
l-ṭayru
پرندے
▶
مِن
min
سے
▶
رَّأْسِهِۦ ۚ
rasihi
اس کے سر میں سے
▶
قُضِىَ
quḍiya
فیصلہ کردیا گیا
▶
ٱلْأَمْرُ
l-amru
معاملے کا
▶
ٱلَّذِى
alladhī
وہ جو
▶
فِيهِ
fīhi
جس میں
▶
تَسْتَفْتِيَانِ
tastaftiyāni
تم دونوں جواب مانگتے ہو
آیت 42 - سورہ يوسف: 18 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٍۢ مِّنْهُمَا ٱذْكُرْنِى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيْطَـٰنُ ذِكْرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِى ٱلسِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
▶
وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
لِلَّذِى
lilladhī
اس کے لیے۔ اس کو
▶
ظَنَّ
ẓanna
کہ اس نے گمان کیا تھا
▶
أَنَّهُۥ
annahu
کہ بیشک وہ
▶
نَاجٍۢ
nājin
نجات پانے والا ہے
▶
مِّنْهُمَا
min'humā
ان دونوں میں سے
▶
ٱذْكُرْنِى
udh'kur'nī
ذکر کرنا میرا
▶
عِندَ
ʿinda
پاس
▶
رَبِّكَ
rabbika
اپنے آقا کے
▶
فَأَنسَىٰهُ
fa-ansāhu
تو بھلا دیا اس کو
▶
ٱلشَّيْطَـٰنُ
l-shayṭānu
شیطان نے
▶
ذِكْرَ
dhik'ra
ذکر کرنا
▶
رَبِّهِۦ
rabbihi
اپنے آقا کو
▶
فَلَبِثَ
falabitha
تو ٹھہرا رہا
▶
فِى
fī
میں
▶
ٱلسِّجْنِ
l-sij'ni
قید خانے
▶
بِضْعَ
biḍ'ʿa
چند
▶
سِنِينَ
sinīna
سال
آیت 43 - سورہ يوسف: 24 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعَ سُنۢبُلَـٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَـٰتٍۢ ۖ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَـٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ
اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ
▶
وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
ٱلْمَلِكُ
l-maliku
بادشاہ نے
▶
إِنِّىٓ
innī
بیشک میں
▶
أَرَىٰ
arā
میں دیکھتا ہوں
▶
سَبْعَ
sabʿa
سات
▶
بَقَرَٰتٍۢ
baqarātin
گائیں
▶
سِمَانٍۢ
simānin
موٹی
▶
يَأْكُلُهُنَّ
yakuluhunna
کھا رہی ہیں ان کو
▶
سَبْعٌ
sabʿun
سات
▶
عِجَافٌۭ
ʿijāfun
پتلی
▶
وَسَبْعَ
wasabʿa
اور سات
▶
سُنۢبُلَـٰتٍ
sunbulātin
بالیاں
▶
خُضْرٍۢ
khuḍ'rin
سرسبز
▶
وَأُخَرَ
wa-ukhara
اور دوسری
▶
يَابِسَـٰتٍۢ ۖ
yābisātin
خشک
▶
يَـٰٓأَيُّهَا
yāayyuhā
اے اہل
▶
ٱلْمَلَأُ
l-mala-u
دربار
▶
أَفْتُونِى
aftūnī
جواب دو مجھ کو میرے
▶
فِى
fī
میں
▶
رُءْيَـٰىَ
ru'yāya
خواب کے بارے میں
▶
إِن
in
اگر
▶
كُنتُمْ
kuntum
ہو تم
▶
لِلرُّءْيَا
lilrru'yā
خواب کے لیے
▶
تَعْبُرُونَ
taʿburūna
تعبیر کرتے
آیت 44 - سورہ يوسف: 8 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوٓا۟ أَضْغَـٰثُ أَحْلَـٰمٍۢ ۖ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِيلِ ٱلْأَحْلَـٰمِ بِعَـٰلِمِينَ
انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی
▶
قَالُوٓا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
أَضْغَـٰثُ
aḍghāthu
گڑ بڑ۔ پراگندہ
▶
أَحْلَـٰمٍۢ ۖ
aḥlāmin
خواب ہیں
▶
وَمَا
wamā
اور نہیں
▶
نَحْنُ
naḥnu
ہم
▶
بِتَأْوِيلِ
bitawīli
تعبیر کو
▶
ٱلْأَحْلَـٰمِ
l-aḥlāmi
خوابوں کی
▶
بِعَـٰلِمِينَ
biʿālimīna
جاننے والے
آیت 45 - سورہ يوسف: 11 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَقَالَ ٱلَّذِى نَجَا مِنْهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأْوِيلِهِۦ فَأَرْسِلُونِ
اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے
▶
وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
ٱلَّذِى
alladhī
اس شخص نے
▶
نَجَا
najā
جو نجات پا گیا تھا
▶
مِنْهُمَا
min'humā
ان دونوں میں سے
▶
وَٱدَّكَرَ
wa-iddakara
اور اس نے یاد کیا
▶
بَعْدَ
baʿda
بعد
▶
أُمَّةٍ
ummatin
ایک مدت کے
▶
أَنَا۠
anā
میں
▶
أُنَبِّئُكُم
unabbi-ukum
بتاتا ہوں تم کو
▶
بِتَأْوِيلِهِۦ
bitawīlihi
اس کی تعبیر
▶
فَأَرْسِلُونِ
fa-arsilūni
پس بھیجو مجھ کو
آیت 46 - سورہ يوسف: 22 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفْتِنَا فِى سَبْعِ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعِ سُنۢبُلَـٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَـٰتٍۢ لَّعَلِّىٓ أَرْجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُونَ
(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں
▶
يُوسُفُ
yūsufu
یوسف
▶
أَيُّهَا
ayyuhā
اے
▶
ٱلصِّدِّيقُ
l-ṣidīqu
سراپا سچائی
▶
أَفْتِنَا
aftinā
جواب دو ہم کو
▶
فِى
fī
میں
▶
سَبْعِ
sabʿi
سات
▶
بَقَرَٰتٍۢ
baqarātin
گائیوں کے بارے (میں)
▶
سِمَانٍۢ
simānin
موٹی
▶
يَأْكُلُهُنَّ
yakuluhunna
کھا رہی ہیں ان کو
▶
سَبْعٌ
sabʿun
سات
▶
عِجَافٌۭ
ʿijāfun
دبلی
▶
وَسَبْعِ
wasabʿi
اور سات
▶
سُنۢبُلَـٰتٍ
sunbulātin
بالیاں
▶
خُضْرٍۢ
khuḍ'rin
سرسبز
▶
وَأُخَرَ
wa-ukhara
اور دوسری
▶
يَابِسَـٰتٍۢ
yābisātin
خشک
▶
لَّعَلِّىٓ
laʿallī
تاکہ میں
▶
أَرْجِعُ
arjiʿu
لوٹوں
▶
إِلَى
ilā
طرف
▶
ٱلنَّاسِ
l-nāsi
لوگوں کی
▶
لَعَلَّهُمْ
laʿallahum
شاید کہ وہ
▶
يَعْلَمُونَ
yaʿlamūna
جان لیں
آیت 47 - سورہ يوسف: 14 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِينَ دَأَبًۭا فَمَا حَصَدتُّمْ فَذَرُوهُ فِى سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تَأْكُلُونَ
انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
تَزْرَعُونَ
tazraʿūna
تم اگاؤ گے۔ کھیتی باڑی کرو گے
▶
سَبْعَ
sabʿa
سات
▶
سِنِينَ
sinīna
سال
▶
دَأَبًۭا
da-aban
متواتر
▶
فَمَا
famā
تو جو
▶
حَصَدتُّمْ
ḥaṣadttum
تم کاٹو گے
▶
فَذَرُوهُ
fadharūhu
تو چھوڑ دینا اس کو
▶
فِى
fī
میں
▶
سُنۢبُلِهِۦٓ
sunbulihi
اس کی بالی (میں)
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
قَلِيلًۭا
qalīlan
تھوڑا
▶
مِّمَّا
mimmā
اس میں سے جو
▶
تَأْكُلُونَ
takulūna
تم کھاتے ہو
آیت 48 - سورہ يوسف: 15 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌۭ شِدَادٌۭ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّمَّا تُحْصِنُونَ
پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے
▶
ثُمَّ
thumma
پھر
▶
يَأْتِى
yatī
آئیں گے
▶
مِنۢ
min
کے
▶
بَعْدِ
baʿdi
بعد
▶
ذَٰلِكَ
dhālika
اس کے
▶
سَبْعٌۭ
sabʿun
سات
▶
شِدَادٌۭ
shidādun
سخت سال
▶
يَأْكُلْنَ
yakul'na
کھا جائیں گے
▶
مَا
mā
جو
▶
قَدَّمْتُمْ
qaddamtum
پیش کرو گے تم
▶
لَهُنَّ
lahunna
ان کے لیے
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
قَلِيلًۭا
qalīlan
تھوڑے
▶
مِّمَّا
mimmā
اس میں سے جو
▶
تُحْصِنُونَ
tuḥ'ṣinūna
تم روک رکھو گے
آیت 49 - سورہ يوسف: 11 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
ثُمَّ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌۭ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعْصِرُونَ
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے
▶
ثُمَّ
thumma
پھر
▶
يَأْتِى
yatī
آئے گا
▶
مِنۢ
min
کے
▶
بَعْدِ
baʿdi
بعد
▶
ذَٰلِكَ
dhālika
اس کے
▶
عَامٌۭ
ʿāmun
ایک سال
▶
فِيهِ
fīhi
جس میں
▶
يُغَاثُ
yughāthu
فریاد رسی کی جائے گی
▶
ٱلنَّاسُ
l-nāsu
لوگوں کی
▶
وَفِيهِ
wafīhi
اور اس میں
▶
يَعْصِرُونَ
yaʿṣirūna
وہ رس نچوڑیں گے
آیت 50 - سورہ يوسف: 22 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّـٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌۭ
(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے
▶
وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
ٱلْمَلِكُ
l-maliku
بادشاہ نے
▶
ٱئْتُونِى
i'tūnī
میرے پاس لے آؤ
▶
بِهِۦ ۖ
bihi
اس کو
▶
فَلَمَّا
falammā
تو جب
▶
جَآءَهُ
jāahu
آیا اس کے پاس
▶
ٱلرَّسُولُ
l-rasūlu
ایلچی۔ پیغام لانے والا
▶
قَالَ
qāla
(یوسف نے) کہا
▶
ٱرْجِعْ
ir'jiʿ
واپس جاؤ
▶
إِلَىٰ
ilā
پاس
▶
رَبِّكَ
rabbika
اپنے آقا کے
▶
فَسْـَٔلْهُ
fasalhu
پھر اس سے پوچھو
▶
مَا
mā
کیا
▶
بَالُ
bālu
حال ہے
▶
ٱلنِّسْوَةِ
l-nis'wati
عورتوں کا
▶
ٱلَّـٰتِى
allātī
جنہوں نے
▶
قَطَّعْنَ
qaṭṭaʿna
کاٹ دیے تھے
▶
أَيْدِيَهُنَّ ۚ
aydiyahunna
اپنے ہاتھ
▶
إِنَّ
inna
بے شک
▶
رَبِّى
rabbī
میرا رب
▶
بِكَيْدِهِنَّ
bikaydihinna
ان کی چال سے
▶
عَلِيمٌۭ
ʿalīmun
واقف ہے
آیت 51 - سورہ يوسف: 29 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍۢ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٔـٰنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
▶
قَالَ
qāla
کہا (بادشاہ نے (
▶
مَا
mā
کیا
▶
خَطْبُكُنَّ
khaṭbukunna
معاملہ ہے تمہارا
▶
إِذْ
idh
جب
▶
رَٰوَدتُّنَّ
rāwadttunna
تم سب نے پھسلانا چاہا تھا
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف کو
▶
عَن
ʿan
سے
▶
نَّفْسِهِۦ ۚ
nafsihi
اس کے نفس سے
▶
قُلْنَ
qul'na
کہنے لگیں
▶
حَـٰشَ
ḥāsha
حاش۔پاکی
▶
لِلَّهِ
lillahi
اللہ۔ پاکی اللہ کے لیے ہے
▶
مَا
mā
نہیں
▶
عَلِمْنَا
ʿalim'nā
جانا ہم نے
▶
عَلَيْهِ
ʿalayhi
اس پر
▶
مِن
min
کسی
▶
سُوٓءٍۢ ۚ
sūin
برائی کو
▶
قَالَتِ
qālati
کہنے لگی
▶
ٱمْرَأَتُ
im'ra-atu
بیوی
▶
ٱلْعَزِيزِ
l-ʿazīzi
عزیز کی
▶
ٱلْـَٔـٰنَ
l-āna
اب
▶
حَصْحَصَ
ḥaṣḥaṣa
واضح ہوگیا
▶
ٱلْحَقُّ
l-ḥaqu
حق
▶
أَنَا۠
anā
میں نے
▶
رَٰوَدتُّهُۥ
rāwadttuhu
پھسلانا چاہا تھا اس کو
▶
عَن
ʿan
سے
▶
نَّفْسِهِۦ
nafsihi
اس کے نفس سے
▶
وَإِنَّهُۥ
wa-innahu
اور بیشک وہ
▶
لَمِنَ
lamina
البتہ
▶
ٱلصَّـٰدِقِينَ
l-ṣādiqīna
سچوں میں سے ہے
آیت 52 - سورہ يوسف: 12 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّى لَمْ أَخُنْهُ بِٱلْغَيْبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى كَيْدَ ٱلْخَآئِنِينَ
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
▶
ذَٰلِكَ
dhālika
یہ
▶
لِيَعْلَمَ
liyaʿlama
تاکہ وہ جان لے
▶
أَنِّى
annī
بیشک میں
▶
لَمْ
lam
نہیں
▶
أَخُنْهُ
akhun'hu
میں نے خیانت کی اس کی
▶
بِٱلْغَيْبِ
bil-ghaybi
غائبانہ طور پر
▶
وَأَنَّ
wa-anna
اور بیشک
▶
ٱللَّهَ
l-laha
اللہ تعالیٰ
▶
لَا
lā
نہیں
▶
يَهْدِى
yahdī
رہنمائی کرتا
▶
كَيْدَ
kayda
چال کو
▶
ٱلْخَآئِنِينَ
l-khāinīna
خیانت کاروں کی
آیت 53 - سورہ يوسف: 15 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ ۚ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
▶
۞ وَمَآ
wamā
اور نہیں
▶
أُبَرِّئُ
ubarri-u
میں بری الذمہ کرتا
▶
نَفْسِىٓ ۚ
nafsī
اپنے نفس کو
▶
إِنَّ
inna
بیشک
▶
ٱلنَّفْسَ
l-nafsa
نفس
▶
لَأَمَّارَةٌۢ
la-ammāratun
البتہ بہت حکم دینے والا ہے
▶
بِٱلسُّوٓءِ
bil-sūi
برائی کا
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
مَا
mā
اس کے جو
▶
رَحِمَ
raḥima
رحم کرے
▶
رَبِّىٓ ۚ
rabbī
میرا رب
▶
إِنَّ
inna
▶
رَبِّى
rabbī
میرا رب
▶
غَفُورٌۭ
ghafūrun
غفور،
▶
رَّحِيمٌۭ
raḥīmun
رحیم ہے
آیت 54 - سورہ يوسف: 14 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌۭ
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
▶
وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
ٱلْمَلِكُ
l-maliku
بادشاہ نے
▶
ٱئْتُونِى
i'tūnī
میرے پاس لاؤ
▶
بِهِۦٓ
bihi
اس کو
▶
أَسْتَخْلِصْهُ
astakhliṣ'hu
میں خالص کرلوں اس کو
▶
لِنَفْسِى ۖ
linafsī
اپنی ذات کے لئے
▶
فَلَمَّا
falammā
تو جب
▶
كَلَّمَهُۥ
kallamahu
اس نے کلام کیا اس سے
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
إِنَّكَ
innaka
بیشک تو
▶
ٱلْيَوْمَ
l-yawma
آج کے دن (سے)
▶
لَدَيْنَا
ladaynā
ہمارے پاس
▶
مَكِينٌ
makīnun
رتبے والا ہے
▶
أَمِينٌۭ
amīnun
امانت دار ہے
آیت 55 - سورہ يوسف: 8 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ ٱجْعَلْنِى عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلْأَرْضِ ۖ إِنِّى حَفِيظٌ عَلِيمٌۭ
(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
ٱجْعَلْنِى
ij'ʿalnī
مقدر کر دیجئے مجھ کو
▶
عَلَىٰ
ʿalā
اوپر
▶
خَزَآئِنِ
khazāini
خزانوں کے
▶
ٱلْأَرْضِ ۖ
l-arḍi
زمین کے
▶
إِنِّى
innī
بیشک میں
▶
حَفِيظٌ
ḥafīẓun
حفاظت کرنے والا ہوں
▶
عَلِيمٌۭ
ʿalīmun
علم رکھنے والا ہوں
آیت 56 - سورہ يوسف: 17 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ
اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے
▶
وَكَذَٰلِكَ
wakadhālika
اور اسی طرح
▶
مَكَّنَّا
makkannā
اقتدار دیا ہم نے
▶
لِيُوسُفَ
liyūsufa
یوسف کو
▶
فِى
fī
میں
▶
ٱلْأَرْضِ
l-arḍi
زمین
▶
يَتَبَوَّأُ
yatabawwa-u
جگہ بنائے
▶
مِنْهَا
min'hā
اس میں سے
▶
حَيْثُ
ḥaythu
جہاں
▶
يَشَآءُ ۚ
yashāu
چاہے
▶
نُصِيبُ
nuṣību
ہم پہنچاتے ہیں
▶
بِرَحْمَتِنَا
biraḥmatinā
اپنی رحمت کو
▶
مَن
man
جس کو
▶
نَّشَآءُ ۖ
nashāu
ہم چاہتے ہیں
▶
وَلَا
walā
اور نہیں
▶
نُضِيعُ
nuḍīʿu
ہم ضائع کرتے
▶
أَجْرَ
ajra
اجر
▶
ٱلْمُحْسِنِينَ
l-muḥ'sinīna
محسنین کا
آیت 57 - سورہ يوسف: 7 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَلَأَجْرُ ٱلْـَٔاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے
▶
وَلَأَجْرُ
wala-ajru
اور البتہ اجر
▶
ٱلْـَٔاخِرَةِ
l-ākhirati
آخرت کا
▶
خَيْرٌۭ
khayrun
بہتر ہے
▶
لِّلَّذِينَ
lilladhīna
ان لوگوں کے لئے
▶
ءَامَنُوا۟
āmanū
جو ایمان لائے
▶
وَكَانُوا۟
wakānū
اور وہ
▶
يَتَّقُونَ
yattaqūna
تقویٰ اختیار کرتے ہیں
آیت 58 - سورہ يوسف: 9 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ
اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے
▶
وَجَآءَ
wajāa
اور آئے
▶
إِخْوَةُ
ikh'watu
بھائی
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف کے
▶
فَدَخَلُوا۟
fadakhalū
پھر وہ داخل ہوئے
▶
عَلَيْهِ
ʿalayhi
اس پر
▶
فَعَرَفَهُمْ
faʿarafahum
پس اس نے پہچان لیا انہیں
▶
وَهُمْ
wahum
اور وہ
▶
لَهُۥ
lahu
اس کے لئے
▶
مُنكِرُونَ
munkirūna
انکار کرنے والے تھے
آیت 59 - سورہ يوسف: 17 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍۢ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ
جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں
▶
وَلَمَّا
walammā
پھر جب
▶
جَهَّزَهُم
jahhazahum
اس نے تیار کیا ان کو
▶
بِجَهَازِهِمْ
bijahāzihim
ساتھ ان کے سامان کے
▶
قَالَ
qāla
بولے
▶
ٱئْتُونِى
i'tūnī
لانا میرے پاس
▶
بِأَخٍۢ
bi-akhin
بھائی کو
▶
لَّكُم
lakum
اپنے
▶
مِّنْ
min
سے
▶
أَبِيكُمْ ۚ
abīkum
جو تمہارے باپ سے ہے
▶
أَلَا
alā
کیا نہیں
▶
تَرَوْنَ
tarawna
تم دیکھتے ہو
▶
أَنِّىٓ
annī
بیشک میں
▶
أُوفِى
ūfī
پورا پورا دیتا ہوں
▶
ٱلْكَيْلَ
l-kayla
پیمانہ
▶
وَأَنَا۠
wa-anā
اور میں
▶
خَيْرُ
khayru
بہترین
▶
ٱلْمُنزِلِينَ
l-munzilīna
مہمان نواز ہوں
آیت 60 - سورہ يوسف: 10 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ
اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے
▶
فَإِن
fa-in
پھر
▶
لَّمْ
lam
اگر نہ
▶
تَأْتُونِى
tatūnī
تم لائے اس کو
▶
بِهِۦ
bihi
میرے پاس
▶
فَلَا
falā
تو نہیں
▶
كَيْلَ
kayla
کوئی پیمانہ / غلہ
▶
لَكُمْ
lakum
تمہارے لئے
▶
عِندِى
ʿindī
میرے پاس
▶
وَلَا
walā
اور نہ
▶
تَقْرَبُونِ
taqrabūni
تم قریب آنا میرے
آیت 61 - سورہ يوسف: 6 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَـٰعِلُونَ
انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
سَنُرَٰوِدُ
sanurāwidu
عنقریب ہم قائل کریں گے
▶
عَنْهُ
ʿanhu
اس کے بارے میں
▶
أَبَاهُ
abāhu
اس کے باپ کو
▶
وَإِنَّا
wa-innā
اور بیشک ہم
▶
لَفَـٰعِلُونَ
lafāʿilūna
البتہ کرنے والے ہیں
آیت 62 - سورہ يوسف: 14 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَقَالَ لِفِتْيَـٰنِهِ ٱجْعَلُوا۟ بِضَـٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
▶
وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
لِفِتْيَـٰنِهِ
lifit'yānihi
اپنے غلاموں کو
▶
ٱجْعَلُوا۟
ij'ʿalū
رکھ دو
▶
بِضَـٰعَتَهُمْ
biḍāʿatahum
ان کی پونجی کو/ سامان کو
▶
فِى
fī
میں
▶
رِحَالِهِمْ
riḥālihim
ان کی خُرجیوں
▶
لَعَلَّهُمْ
laʿallahum
شاید کہ وہ
▶
يَعْرِفُونَهَآ
yaʿrifūnahā
اس کو پہچان جائیں
▶
إِذَا
idhā
جب وہ
▶
ٱنقَلَبُوٓا۟
inqalabū
پلٹیں
▶
إِلَىٰٓ
ilā
اپنے
▶
أَهْلِهِمْ
ahlihim
گھر والوں کی طرف
▶
لَعَلَّهُمْ
laʿallahum
شاید کہ وہ
▶
يَرْجِعُونَ
yarjiʿūna
لوٹ آئیں
آیت 63 - سورہ يوسف: 16 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَلَمَّا رَجَعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ
جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں
▶
فَلَمَّا
falammā
تو جب
▶
رَجَعُوٓا۟
rajaʿū
وہ لوٹے
▶
إِلَىٰٓ
ilā
طرف
▶
أَبِيهِمْ
abīhim
اپنے باپ کی
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
يَـٰٓأَبَانَا
yāabānā
اے ہمارے ابا جان
▶
مُنِعَ
muniʿa
روکا گیا
▶
مِنَّا
minnā
ہم سے
▶
ٱلْكَيْلُ
l-kaylu
غلہ
▶
فَأَرْسِلْ
fa-arsil
تو بھیج دیجئے
▶
مَعَنَآ
maʿanā
ہمارے ساتھ
▶
أَخَانَا
akhānā
ہمارے بھائی کو
▶
نَكْتَلْ
naktal
ہم غلہ لائیں
▶
وَإِنَّا
wa-innā
اور بیشک ہم
▶
لَهُۥ
lahu
اس کے لئے
▶
لَحَـٰفِظُونَ
laḥāfiẓūna
البتہ حفاظت کرنے والے ہیں
آیت 64 - سورہ يوسف: 17 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ هَلْ ءَامَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ ۖ فَٱللَّهُ خَيْرٌ حَـٰفِظًۭا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
هَلْ
hal
کیا
▶
ءَامَنُكُمْ
āmanukum
میں بھروسہ کرلوں تم پر
▶
عَلَيْهِ
ʿalayhi
اس کے معاملے میں
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
كَمَآ
kamā
جیسا کہ
▶
أَمِنتُكُمْ
amintukum
میں نے بھروسہ کیا تم پر
▶
عَلَىٰٓ
ʿalā
معاملے میں
▶
أَخِيهِ
akhīhi
اس کے بھائی کے
▶
مِن
min
اس سے
▶
قَبْلُ ۖ
qablu
قبل
▶
فَٱللَّهُ
fal-lahu
پس اللہ
▶
خَيْرٌ
khayrun
بہترین
▶
حَـٰفِظًۭا ۖ
ḥāfiẓan
حفاظت کرنے والا ہے
▶
وَهُوَ
wahuwa
اور وہ
▶
أَرْحَمُ
arḥamu
سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
▶
ٱلرَّٰحِمِينَ
l-rāḥimīna
سب رحم کرنے والوں (سے)
آیت 65 - سورہ يوسف: 25 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَلَمَّا فَتَحُوا۟ مَتَـٰعَهُمْ وَجَدُوا۟ بِضَـٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى ۖ هَـٰذِهِۦ بِضَـٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍۢ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌۭ يَسِيرٌۭ
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے
▶
وَلَمَّا
walammā
اور جب
▶
فَتَحُوا۟
fataḥū
انہوں نے کھولا
▶
مَتَـٰعَهُمْ
matāʿahum
اپنے سامان کو
▶
وَجَدُوا۟
wajadū
انہوں نے پایا
▶
بِضَـٰعَتَهُمْ
biḍāʿatahum
اپنا سرمایہ
▶
رُدَّتْ
ruddat
لوٹادیا گیا تھا
▶
إِلَيْهِمْ ۖ
ilayhim
ان کی طرف
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
يَـٰٓأَبَانَا
yāabānā
اے ہمارے ابا جان
▶
مَا
mā
کیا
▶
نَبْغِى ۖ
nabghī
ہم (اور) چاہتے ہیں
▶
هَـٰذِهِۦ
hādhihi
یہ ہماری
▶
بِضَـٰعَتُنَا
biḍāʿatunā
پونچی ہے
▶
رُدَّتْ
ruddat
لوٹائی گئی ہے
▶
إِلَيْنَا ۖ
ilaynā
ہماری طرف
▶
وَنَمِيرُ
wanamīru
اور ہم غلہ لائیں گے
▶
أَهْلَنَا
ahlanā
اپنے گھر والوں کے لئے
▶
وَنَحْفَظُ
wanaḥfaẓu
اور ہم حفاظت کریں گے
▶
أَخَانَا
akhānā
اپنے بھائی کی
▶
وَنَزْدَادُ
wanazdādu
اور ہم زیادہ لائیں گے
▶
كَيْلَ
kayla
بھر غلہ
▶
بَعِيرٍۢ ۖ
baʿīrin
اونٹ
▶
ذَٰلِكَ
dhālika
یہ
▶
كَيْلٌۭ
kaylun
غلہ ہے
▶
يَسِيرٌۭ
yasīrun
آسان
آیت 66 - سورہ يوسف: 24 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
لَنْ
lan
ہرگز نہ
▶
أُرْسِلَهُۥ
ur'silahu
میں بھیجوں گا اس کو
▶
مَعَكُمْ
maʿakum
تمہارے ساتھ
▶
حَتَّىٰ
ḥattā
یہاں تک کہ
▶
تُؤْتُونِ
tu'tūni
تم دو مجھ کو
▶
مَوْثِقًۭا
mawthiqan
پختہ وعدہ اپنا
▶
مِّنَ
mina
طرف سے
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ کی
▶
لَتَأْتُنَّنِى
latatunnanī
البتہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس
▶
بِهِۦٓ
bihi
اس کو
▶
إِلَّآ
illā
مگر
▶
أَن
an
یہ کہ
▶
يُحَاطَ
yuḥāṭa
گھیر لیا جائے
▶
بِكُمْ ۖ
bikum
تمہیں
▶
فَلَمَّآ
falammā
پھر جب
▶
ءَاتَوْهُ
ātawhu
انہوں نے دیا اس کو
▶
مَوْثِقَهُمْ
mawthiqahum
پختہ وعدہ اپنا
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
ٱللَّهُ
l-lahu
اللہ
▶
عَلَىٰ
ʿalā
اس پر
▶
مَا
mā
جو
▶
نَقُولُ
naqūlu
ہم کہتے ہیں
▶
وَكِيلٌۭ
wakīlun
کار ساز ہے/ نگہبان ہے
آیت 67 - سورہ يوسف: 27 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَقَالَ يَـٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُوا۟ مِنۢ بَابٍۢ وَٰحِدٍۢ وَٱدْخُلُوا۟ مِنْ أَبْوَٰبٍۢ مُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
▶
وَقَالَ
waqāla
اور اس نے کہا
▶
يَـٰبَنِىَّ
yābaniyya
اے میرے بچو
▶
لَا
lā
نہ
▶
تَدْخُلُوا۟
tadkhulū
تم داخل ہونا
▶
مِنۢ
min
سے
▶
بَابٍۢ
bābin
دروازے
▶
وَٰحِدٍۢ
wāḥidin
ایک
▶
وَٱدْخُلُوا۟
wa-ud'khulū
بلکہ داخل ہونا
▶
مِنْ
min
سے
▶
أَبْوَٰبٍۢ
abwābin
دروازوں
▶
مُّتَفَرِّقَةٍۢ ۖ
mutafarriqatin
مختلف
▶
وَمَآ
wamā
اور نہیں
▶
أُغْنِى
ugh'nī
میں بچا سکتا
▶
عَنكُم
ʿankum
تم کو
▶
مِّنَ
mina
سے
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ
▶
مِن
min
کسی
▶
شَىْءٍ ۖ
shayin
چیز سے
▶
إِنِ
ini
نہیں
▶
ٱلْحُكْمُ
l-ḥuk'mu
فیصلہ
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
لِلَّهِ ۖ
lillahi
اللہ کے لئے
▶
عَلَيْهِ
ʿalayhi
اسی پر
▶
تَوَكَّلْتُ ۖ
tawakkaltu
میں نے توکل کیا
▶
وَعَلَيْهِ
waʿalayhi
اور اسی پر
▶
فَلْيَتَوَكَّلِ
falyatawakkali
پس چاہیے کہ توکل کیا کریں
▶
ٱلْمُتَوَكِّلُونَ
l-mutawakilūna
توکل کرنے والے
آیت 68 - سورہ يوسف: 30 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةًۭ فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا ۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍۢ لِّمَا عَلَّمْنَـٰهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
▶
وَلَمَّا
walammā
اور جب
▶
دَخَلُوا۟
dakhalū
وہ داخل ہوئے
▶
مِنْ
min
سے
▶
حَيْثُ
ḥaythu
جہاں
▶
أَمَرَهُمْ
amarahum
حکم دیا تھا ان کو
▶
أَبُوهُم
abūhum
ان کے باپ نے
▶
مَّا
mā
نہ
▶
كَانَ
kāna
تھا کہ
▶
يُغْنِى
yugh'nī
کام آتا
▶
عَنْهُم
ʿanhum
ان کو
▶
مِّنَ
mina
سے
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ
▶
مِن
min
▶
شَىْءٍ
shayin
کچھ بھی
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
حَاجَةًۭ
ḥājatan
ایک حاجت تھی
▶
فِى
fī
میں
▶
نَفْسِ
nafsi
دل (میں)
▶
يَعْقُوبَ
yaʿqūba
یعقوب کے
▶
قَضَىٰهَا ۚ
qaḍāhā
اس نے پورا کیا اس کو
▶
وَإِنَّهُۥ
wa-innahu
اور بیشک وہ
▶
لَذُو
ladhū
والا تھا
▶
عِلْمٍۢ
ʿil'min
البتہ علم
▶
لِّمَا
limā
واسطے اس کے جو
▶
عَلَّمْنَـٰهُ
ʿallamnāhu
سکھایا تھا ہم نے اس کو
▶
وَلَـٰكِنَّ
walākinna
لیکن
▶
أَكْثَرَ
akthara
اکثر
▶
ٱلنَّاسِ
l-nāsi
لوگ
▶
لَا
lā
نہیں
▶
يَعْلَمُونَ
yaʿlamūna
علم رکھتے
آیت 69 - سورہ يوسف: 16 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا
▶
وَلَمَّا
walammā
اور جب
▶
دَخَلُوا۟
dakhalū
وہ داخل ہوئے
▶
عَلَىٰ
ʿalā
پر
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف
▶
ءَاوَىٰٓ
āwā
ٹھہرایا
▶
إِلَيْهِ
ilayhi
اپنے پاس/ اپنی طرف
▶
أَخَاهُ ۖ
akhāhu
اپنے بھائی کو
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
إِنِّىٓ
innī
بیشک میں
▶
أَنَا۠
anā
میں ہی
▶
أَخُوكَ
akhūka
تیرا بھائی ہوں
▶
فَلَا
falā
پس نہ
▶
تَبْتَئِسْ
tabta-is
رنج کر
▶
بِمَا
bimā
بوجہ اس کے
▶
كَانُوا۟
kānū
جو تھے وہ
▶
يَعْمَلُونَ
yaʿmalūna
عمل کرتے
آیت 70 - سورہ يوسف: 15 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَـٰرِقُونَ
جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
▶
فَلَمَّا
falammā
پھر جب
▶
جَهَّزَهُم
jahhazahum
اس نے تیار کرکے دیا ان کو
▶
بِجَهَازِهِمْ
bijahāzihim
ان کا سامان
▶
جَعَلَ
jaʿala
اس نے رکھ دیا
▶
ٱلسِّقَايَةَ
l-siqāyata
پانی کا ایک پیالہ/ آب خوردہ
▶
فِى
fī
میں
▶
رَحْلِ
raḥli
سامان م (میں)
▶
أَخِيهِ
akhīhi
اپنے بھائی کے
▶
ثُمَّ
thumma
پھر
▶
أَذَّنَ
adhana
پکارا
▶
مُؤَذِّنٌ
mu-adhinun
ایک پکارنے والے نے
▶
أَيَّتُهَا
ayyatuhā
اے
▶
ٱلْعِيرُ
l-ʿīru
قافلے والو
▶
إِنَّكُمْ
innakum
بیشک تم
▶
لَسَـٰرِقُونَ
lasāriqūna
البتہ چور ہو
آیت 71 - سورہ يوسف: 5 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ
وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
وَأَقْبَلُوا۟
wa-aqbalū
اور وہ آئے / متوجہ ہوئے
▶
عَلَيْهِم
ʿalayhim
ان پر
▶
مَّاذَا
mādhā
کیا کچھ
▶
تَفْقِدُونَ
tafqidūna
تم گم پاتے ہو
آیت 72 - سورہ يوسف: 12 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍۢ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌۭ
وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
نَفْقِدُ
nafqidu
ہم گم پاتے ہیں
▶
صُوَاعَ
ṣuwāʿa
پیمانہ
▶
ٱلْمَلِكِ
l-maliki
بادشاہ کا
▶
وَلِمَن
waliman
اور واسطے اس کے
▶
جَآءَ
jāa
جولائے
▶
بِهِۦ
bihi
اس کو
▶
حِمْلُ
ḥim'lu
بوجھ ہے
▶
بَعِيرٍۢ
baʿīrin
ایک اونٹ کا
▶
وَأَنَا۠
wa-anā
اور میں
▶
بِهِۦ
bihi
ساتھ اس کے ذمہ دار ہوں
▶
زَعِيمٌۭ
zaʿīmun
کفیل ہوں
آیت 73 - سورہ يوسف: 12 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَـٰرِقِينَ
وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
تَٱللَّهِ
tal-lahi
اللہ کی قسم
▶
لَقَدْ
laqad
البتہ تحقیق
▶
عَلِمْتُم
ʿalim'tum
جان لیا تم نے
▶
مَّا
mā
نہیں
▶
جِئْنَا
ji'nā
آئے تھے ہم
▶
لِنُفْسِدَ
linuf'sida
کہ ہم فساد کریں
▶
فِى
fī
میں
▶
ٱلْأَرْضِ
l-arḍi
زمین
▶
وَمَا
wamā
اور نہیں ہیں
▶
كُنَّا
kunnā
ہم
▶
سَـٰرِقِينَ
sāriqīna
چور
آیت 74 - سورہ يوسف: 6 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَـٰذِبِينَ
بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
فَمَا
famā
تو کیا
▶
جَزَٰٓؤُهُۥٓ
jazāuhu
بدلہ ہے اس کا / سزا ہے اس کی
▶
إِن
in
اگر
▶
كُنتُمْ
kuntum
ہو تم
▶
كَـٰذِبِينَ
kādhibīna
جھوٹے
آیت 75 - سورہ يوسف: 11 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّـٰلِمِينَ
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
جَزَٰٓؤُهُۥ
jazāuhu
اس کی جزاء /اس کا بدلہ
▶
مَن
man
وہ ہے
▶
وُجِدَ
wujida
جو وہ پایا گیا ہے
▶
فِى
fī
میں
▶
رَحْلِهِۦ
raḥlihi
اس کے سامان
▶
فَهُوَ
fahuwa
تو وہی
▶
جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ
jazāuhu
بدلہ ہے اس کا
▶
كَذَٰلِكَ
kadhālika
اس طرح
▶
نَجْزِى
najzī
ہم بدلہ دیتے ہیں
▶
ٱلظَّـٰلِمِينَ
l-ẓālimīna
ظالموں کو
آیت 76 - سورہ يوسف: 33 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَـٰتٍۢ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
▶
فَبَدَأَ
fabada-a
تو وہ شروع ہوگیا
▶
بِأَوْعِيَتِهِمْ
bi-awʿiyatihim
ان کے تھیلوں کے ساتھ
▶
قَبْلَ
qabla
پہلے
▶
وِعَآءِ
wiʿāi
تھیلے کے
▶
أَخِيهِ
akhīhi
اپنے بھائی کے
▶
ثُمَّ
thumma
پھر
▶
ٱسْتَخْرَجَهَا
is'takhrajahā
نکال لیا اس کو
▶
مِن
min
سے
▶
وِعَآءِ
wiʿāi
تھیلے
▶
أَخِيهِ ۚ
akhīhi
اپنے بھائی کے
▶
كَذَٰلِكَ
kadhālika
اسی طرح
▶
كِدْنَا
kid'nā
تدبیر کی ہم
▶
لِيُوسُفَ ۖ
liyūsufa
یوسف کے لئے
▶
مَا
mā
نہ
▶
كَانَ
kāna
تھا
▶
لِيَأْخُذَ
liyakhudha
کے لے لے
▶
أَخَاهُ
akhāhu
اپنے بھائی کو
▶
فِى
fī
میں
▶
دِينِ
dīni
دین
▶
ٱلْمَلِكِ
l-maliki
بادشاہ کے
▶
إِلَّآ
illā
مگر
▶
أَن
an
یہ کہ
▶
يَشَآءَ
yashāa
چاہتا ہے
▶
ٱللَّهُ ۚ
l-lahu
اللہ
▶
نَرْفَعُ
narfaʿu
ہم بلند کرتے ہیں
▶
دَرَجَـٰتٍۢ
darajātin
درجے
▶
مَّن
man
جس کے
▶
نَّشَآءُ ۗ
nashāu
ہم چاہتے ہیں
▶
وَفَوْقَ
wafawqa
اور اوپر
▶
كُلِّ
kulli
ہر
▶
ذِى
dhī
والے کے
▶
عِلْمٍ
ʿil'min
علم
▶
عَلِيمٌۭ
ʿalīmun
ایک علم والا ہے
آیت 77 - سورہ يوسف: 24 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
۞ قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌۭ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
▶
۞ قَالُوٓا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
إِن
in
اگر
▶
يَسْرِقْ
yasriq
اس نے چوری کی ہے
▶
فَقَدْ
faqad
تو تحقیق
▶
سَرَقَ
saraqa
چوری کی تھی
▶
أَخٌۭ
akhun
بھائی نے
▶
لَّهُۥ
lahu
اس کے
▶
مِن
min
اس کے
▶
قَبْلُ ۚ
qablu
قبل
▶
فَأَسَرَّهَا
fa-asarrahā
تو چھپالیا اس بات کو
▶
يُوسُفُ
yūsufu
یوسف نے
▶
فِى
fī
میں
▶
نَفْسِهِۦ
nafsihi
اپنے دل
▶
وَلَمْ
walam
اور نہیں
▶
يُبْدِهَا
yub'dihā
ظاہر کیا اس کو
▶
لَهُمْ ۚ
lahum
ان کے لئیے
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
أَنتُمْ
antum
تم
▶
شَرٌّۭ
sharrun
برے ہو
▶
مَّكَانًۭا ۖ
makānan
مقام میں
▶
وَٱللَّهُ
wal-lahu
اور اللہ
▶
أَعْلَمُ
aʿlamu
خوب جانتا ہے
▶
بِمَا
bimā
ساتھ اس کے
▶
تَصِفُونَ
taṣifūna
جو کچھ تم بیان کر رہے ہو
آیت 78 - سورہ يوسف: 15 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًۭا شَيْخًۭا كَبِيرًۭا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
يَـٰٓأَيُّهَا
yāayyuhā
اے
▶
ٱلْعَزِيزُ
l-ʿazīzu
عزیز
▶
إِنَّ
inna
بیشک
▶
لَهُۥٓ
lahu
اس کا
▶
أَبًۭا
aban
باپ
▶
شَيْخًۭا
shaykhan
بوڑھا ہے
▶
كَبِيرًۭا
kabīran
بڑا
▶
فَخُذْ
fakhudh
پس لے لے
▶
أَحَدَنَا
aḥadanā
ہم میں سے کسی ایک کو
▶
مَكَانَهُۥٓ ۖ
makānahu
اس کی جگہ
▶
إِنَّا
innā
بیشک ہم
▶
نَرَىٰكَ
narāka
ہم دیکھتے ہیں تجھ کو
▶
مِنَ
mina
میں سے
▶
ٱلْمُحْسِنِينَ
l-muḥ'sinīna
محسنین
آیت 79 - سورہ يوسف: 13 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَـٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَـٰلِمُونَ
(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
مَعَاذَ
maʿādha
پناہ
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ کی
▶
أَن
an
کہ ہم
▶
نَّأْخُذَ
nakhudha
لیں
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
مَن
man
اسے
▶
وَجَدْنَا
wajadnā
جس کو پایا ہم نے
▶
مَتَـٰعَنَا
matāʿanā
اپنا سامان
▶
عِندَهُۥٓ
ʿindahu
اس کے پاس
▶
إِنَّآ
innā
بیشک ہم
▶
إِذًۭا
idhan
تب البتہ
▶
لَّظَـٰلِمُونَ
laẓālimūna
ظالم ہوں گے
آیت 80 - سورہ يوسف: 37 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّۭا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَـٰكِمِينَ
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
▶
فَلَمَّا
falammā
پھر جب
▶
ٱسْتَيْـَٔسُوا۟
is'tayasū
وہ مایوس ہوگئے
▶
مِنْهُ
min'hu
اس سے
▶
خَلَصُوا۟
khalaṣū
اکیلے بیٹھے
▶
نَجِيًّۭا ۖ
najiyyan
سرگوشیاں کرنے کو/ مشورہ کرنے کو
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
كَبِيرُهُمْ
kabīruhum
ان کے بڑے نے
▶
أَلَمْ
alam
کیانہیں
▶
تَعْلَمُوٓا۟
taʿlamū
تم جانتے ہو
▶
أَنَّ
anna
کہ
▶
أَبَاكُمْ
abākum
تمہارے والد نے
▶
قَدْ
qad
تحقیق
▶
أَخَذَ
akhadha
لیا
▶
عَلَيْكُم
ʿalaykum
تم پر
▶
مَّوْثِقًۭا
mawthiqan
پکا وعدہ
▶
مِّنَ
mina
نام سے
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ کے
▶
وَمِن
wamin
اور اس سے
▶
قَبْلُ
qablu
پہلے
▶
مَا
mā
جو
▶
فَرَّطتُمْ
farraṭtum
کوتاہی کی تم نے
▶
فِى
fī
میں
▶
يُوسُفَ ۖ
yūsufa
یوسف کے معاملے
▶
فَلَنْ
falan
تو ہرگز نہ
▶
أَبْرَحَ
abraḥa
میں ٹلوں گا
▶
ٱلْأَرْضَ
l-arḍa
اس زمین سے
▶
حَتَّىٰ
ḥattā
یہاں تک کہ
▶
يَأْذَنَ
yadhana
اجازت دے
▶
لِىٓ
lī
مجھ کو
▶
أَبِىٓ
abī
میرا باپ
▶
أَوْ
aw
یا
▶
يَحْكُمَ
yaḥkuma
فیصلہ کردے
▶
ٱللَّهُ
l-lahu
اللہ
▶
لِى ۖ
lī
میرے لئے
▶
وَهُوَ
wahuwa
اور وہ
▶
خَيْرُ
khayru
بہترین
▶
ٱلْحَـٰكِمِينَ
l-ḥākimīna
فیصلہ کرنے والا ہے
آیت 81 - سورہ يوسف: 17 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَـٰفِظِينَ
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
▶
ٱرْجِعُوٓا۟
ir'jiʿū
لوٹ آؤ
▶
إِلَىٰٓ
ilā
طرف
▶
أَبِيكُمْ
abīkum
اپنے باپ کی
▶
فَقُولُوا۟
faqūlū
پھر کہو
▶
يَـٰٓأَبَانَآ
yāabānā
اے ہمارے ابا جان
▶
إِنَّ
inna
بیشک
▶
ٱبْنَكَ
ib'naka
تیرے بیٹے نے
▶
سَرَقَ
saraqa
چوری کی ہے
▶
وَمَا
wamā
اور ہم نے
▶
شَهِدْنَآ
shahid'nā
دیکھا نہیں
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
بِمَا
bimā
جو ہم کو
▶
عَلِمْنَا
ʿalim'nā
معلوم ہوا
▶
وَمَا
wamā
اور نہیں
▶
كُنَّا
kunnā
ہیں ہم
▶
لِلْغَيْبِ
lil'ghaybi
غیب کے لئے
▶
حَـٰفِظِينَ
ḥāfiẓīna
حفاظت کرنے والے
آیت 82 - سورہ يوسف: 11 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَـٰدِقُونَ
اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں
▶
وَسْـَٔلِ
wasali
اور پوچھ لو
▶
ٱلْقَرْيَةَ
l-qaryata
بستی والوں سے
▶
ٱلَّتِى
allatī
وہ جو
▶
كُنَّا
kunnā
تھے ہم
▶
فِيهَا
fīhā
اس میں
▶
وَٱلْعِيرَ
wal-ʿīra
اور اہل قافلہ سے
▶
ٱلَّتِىٓ
allatī
وہ جو
▶
أَقْبَلْنَا
aqbalnā
ہم آئے ہیں
▶
فِيهَا ۖ
fīhā
اس میں
▶
وَإِنَّا
wa-innā
اور بیشک ہم
▶
لَصَـٰدِقُونَ
laṣādiqūna
البتہ سچے ہیں
آیت 83 - سورہ يوسف: 18 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
بَلْ
bal
بلکہ
▶
سَوَّلَتْ
sawwalat
آسان کردیا
▶
لَكُمْ
lakum
تمہارے لئے
▶
أَنفُسُكُمْ
anfusukum
تمہارے نفسوں نے
▶
أَمْرًۭا ۖ
amran
ایک کام کو
▶
فَصَبْرٌۭ
faṣabrun
تو صبر ہی
▶
جَمِيلٌ ۖ
jamīlun
اچھا ہے
▶
عَسَى
ʿasā
امید ہے کہ
▶
ٱللَّهُ
l-lahu
اللہ
▶
أَن
an
▶
يَأْتِيَنِى
yatiyanī
لے آئے گا میرے پاس
▶
بِهِمْ
bihim
ان کو
▶
جَمِيعًا ۚ
jamīʿan
سب کے سب کو
▶
إِنَّهُۥ
innahu
کیونکہ وہ
▶
هُوَ
huwa
وہ
▶
ٱلْعَلِيمُ
l-ʿalīmu
علم والا
▶
ٱلْحَكِيمُ
l-ḥakīmu
حکمت والا ہے
آیت 84 - سورہ يوسف: 12 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌۭ
پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا
▶
وَتَوَلَّىٰ
watawallā
اور اس نے منہ پھیرلیا
▶
عَنْهُمْ
ʿanhum
ان سے
▶
وَقَالَ
waqāla
اور بولا
▶
يَـٰٓأَسَفَىٰ
yāasafā
ہائے افسوس
▶
عَلَىٰ
ʿalā
پر
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف
▶
وَٱبْيَضَّتْ
wa-ib'yaḍḍat
اور سفید ہوگئیں
▶
عَيْنَاهُ
ʿaynāhu
اس کی دونوں آنکھیں
▶
مِنَ
mina
سے
▶
ٱلْحُزْنِ
l-ḥuz'ni
غم کی وجہ
▶
فَهُوَ
fahuwa
تو وہ
▶
كَظِيمٌۭ
kaẓīmun
سخت غمگین تھے
آیت 85 - سورہ يوسف: 12 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَـٰلِكِينَ
بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
تَٱللَّهِ
tal-lahi
قسم اللہ کی
▶
تَفْتَؤُا۟
tafta-u
تو ہمیشہ رہتا ہے
▶
تَذْكُرُ
tadhkuru
ذکر کرتا/ یاد کرتا
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف کو
▶
حَتَّىٰ
ḥattā
یہاں تک کہ
▶
تَكُونَ
takūna
تو ہوجائے
▶
حَرَضًا
ḥaraḍan
بیمار/ بیکار
▶
أَوْ
aw
یا
▶
تَكُونَ
takūna
تو ہوجائے
▶
مِنَ
mina
میں سے
▶
ٱلْهَـٰلِكِينَ
l-hālikīna
ہلاک ہونے والوں
آیت 86 - سورہ يوسف: 13 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
إِنَّمَآ
innamā
بیشک
▶
أَشْكُوا۟
ashkū
میں شکایت کرتاہوں
▶
بَثِّى
bathī
اپنی پریشانی کی
▶
وَحُزْنِىٓ
waḥuz'nī
اور اپنے غم کی
▶
إِلَى
ilā
طرف
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ کی
▶
وَأَعْلَمُ
wa-aʿlamu
اور میں جانتا ہوں
▶
مِنَ
mina
سے
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ کی طرف (سے)
▶
مَا
mā
جو
▶
لَا
lā
نہیں
▶
تَعْلَمُونَ
taʿlamūna
تم جانتے
آیت 87 - سورہ يوسف: 20 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
يَـٰبَنِىَّ ٱذْهَبُوا۟ فَتَحَسَّسُوا۟ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ
بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں
▶
يَـٰبَنِىَّ
yābaniyya
اے میرے بچو !
▶
ٱذْهَبُوا۟
idh'habū
جاؤ
▶
فَتَحَسَّسُوا۟
fataḥassasū
پس ٹوہ لگاؤ
▶
مِن
min
سے
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف کی
▶
وَأَخِيهِ
wa-akhīhi
اور اس کے بھائی کی
▶
وَلَا
walā
اور مت
▶
تَا۟يْـَٔسُوا۟
tāy'asū
مایوس ہو
▶
مِن
min
سے
▶
رَّوْحِ
rawḥi
رحمت
▶
ٱللَّهِ ۖ
l-lahi
اللہ کی
▶
إِنَّهُۥ
innahu
کیونکہ
▶
لَا
lā
نہیں
▶
يَا۟يْـَٔسُ
yāy'asu
مایوس ہوتے
▶
مِن
min
سے
▶
رَّوْحِ
rawḥi
رحمت
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ کی
▶
إِلَّا
illā
سوائے
▶
ٱلْقَوْمُ
l-qawmu
قوم کے
▶
ٱلْكَـٰفِرُونَ
l-kāfirūna
کافر
آیت 88 - سورہ يوسف: 21 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ قَالُوا۟ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَـٰعَةٍۢ مُّزْجَىٰةٍۢ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ
جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے
▶
فَلَمَّا
falammā
پھر جب
▶
دَخَلُوا۟
dakhalū
وہ داخل ہوئے
▶
عَلَيْهِ
ʿalayhi
اس پر
▶
قَالُوا۟
qālū
کہنے لگے
▶
يَـٰٓأَيُّهَا
yāayyuhā
اے
▶
ٱلْعَزِيزُ
l-ʿazīzu
عزیز
▶
مَسَّنَا
massanā
پہنچی ہم کو
▶
وَأَهْلَنَا
wa-ahlanā
اور ہمارے گھر والوں کو
▶
ٱلضُّرُّ
l-ḍuru
تکلیف
▶
وَجِئْنَا
waji'nā
اور لائے ہیں ہم
▶
بِبِضَـٰعَةٍۢ
bibiḍāʿatin
پونچی
▶
مُّزْجَىٰةٍۢ
muz'jātin
حقیر سی
▶
فَأَوْفِ
fa-awfi
پس پورا پورا دے دیجئے
▶
لَنَا
lanā
ہم کو
▶
ٱلْكَيْلَ
l-kayla
پیمانہ
▶
وَتَصَدَّقْ
wataṣaddaq
اور صدقہ کر
▶
عَلَيْنَآ ۖ
ʿalaynā
ہم پر
▶
إِنَّ
inna
بیشک
▶
ٱللَّهَ
l-laha
اللہ تعالیٰ
▶
يَجْزِى
yajzī
جزا دیتا ہے
▶
ٱلْمُتَصَدِّقِينَ
l-mutaṣadiqīna
صدقہ کرنے والوں کو
آیت 89 - سورہ يوسف: 10 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَـٰهِلُونَ
(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
هَلْ
hal
کیا
▶
عَلِمْتُم
ʿalim'tum
تم جانتے ہو
▶
مَّا
mā
کیا
▶
فَعَلْتُم
faʿaltum
کیا تھا تم نے
▶
بِيُوسُفَ
biyūsufa
یوسف کے ساتھ
▶
وَأَخِيهِ
wa-akhīhi
اور اس کے بھائی کے
▶
إِذْ
idh
جب
▶
أَنتُمْ
antum
تھے تم
▶
جَـٰهِلُونَ
jāhilūna
لاعلم
آیت 90 - سورہ يوسف: 23 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَـٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
▶
قَالُوٓا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
أَءِنَّكَ
a-innaka
کیا بیشک تو
▶
لَأَنتَ
la-anta
التبہ تو ہی
▶
يُوسُفُ ۖ
yūsufu
یوسف ہے
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
أَنَا۠
anā
میں
▶
يُوسُفُ
yūsufu
یوسف ہوں
▶
وَهَـٰذَآ
wahādhā
اور یہ
▶
أَخِى ۖ
akhī
میرا بھائی ہے
▶
قَدْ
qad
تحقیق
▶
مَنَّ
manna
احسان کیا
▶
ٱللَّهُ
l-lahu
اللہ نے
▶
عَلَيْنَآ ۖ
ʿalaynā
ہم پر
▶
إِنَّهُۥ
innahu
بیشک وہ
▶
مَن
man
جو
▶
يَتَّقِ
yattaqi
تقویٰ اختیار کرے
▶
وَيَصْبِرْ
wayaṣbir
اور صبر کرے
▶
فَإِنَّ
fa-inna
تو یقیناً
▶
ٱللَّهَ
l-laha
اللہ تعالیٰ
▶
لَا
lā
نہیں
▶
يُضِيعُ
yuḍīʿu
ضائع کرتا
▶
أَجْرَ
ajra
اجر
▶
ٱلْمُحْسِنِينَ
l-muḥ'sinīna
محسنین کا
آیت 91 - سورہ يوسف: 9 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَـٰطِـِٔينَ
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
تَٱللَّهِ
tal-lahi
اللہ کی قسم
▶
لَقَدْ
laqad
البتہ تحقیق
▶
ءَاثَرَكَ
ātharaka
ترجیح دی تجھ کو
▶
ٱللَّهُ
l-lahu
اللہ نے
▶
عَلَيْنَا
ʿalaynā
ہم پر
▶
وَإِن
wa-in
اور بیشک
▶
كُنَّا
kunnā
تھے ہم
▶
لَخَـٰطِـِٔينَ
lakhāṭiīna
البتہ خطا کار
آیت 92 - سورہ يوسف: 11 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
لَا
lā
نہیں
▶
تَثْرِيبَ
tathrība
کوئی الزام
▶
عَلَيْكُمُ
ʿalaykumu
تم پر
▶
ٱلْيَوْمَ ۖ
l-yawma
آج
▶
يَغْفِرُ
yaghfiru
معاف کردے
▶
ٱللَّهُ
l-lahu
اللہ
▶
لَكُمْ ۖ
lakum
تم کو
▶
وَهُوَ
wahuwa
اور وہ
▶
أَرْحَمُ
arḥamu
سب سے بڑھ کر
▶
ٱلرَّٰحِمِينَ
l-rāḥimīna
رحم فرمانے والا ہے
آیت 93 - سورہ يوسف: 12 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
ٱذْهَبُوا۟ بِقَمِيصِى هَـٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًۭا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ
یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ
▶
ٱذْهَبُوا۟
idh'habū
لے جاؤ
▶
بِقَمِيصِى
biqamīṣī
میری قمیص کو
▶
هَـٰذَا
hādhā
اس کو
▶
فَأَلْقُوهُ
fa-alqūhu
پھر ڈال دو اس کو
▶
عَلَىٰ
ʿalā
پر
▶
وَجْهِ
wajhi
چہرے
▶
أَبِى
abī
میرے باپ کے
▶
يَأْتِ
yati
آجائے گا
▶
بَصِيرًۭا
baṣīran
دیکھنے والا
▶
وَأْتُونِى
watūnī
اور لے آؤ میرے پاس
▶
بِأَهْلِكُمْ
bi-ahlikum
اپنے گھر والوں کو
▶
أَجْمَعِينَ
ajmaʿīna
سب کے سب کو
آیت 94 - سورہ يوسف: 12 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ
اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے
▶
وَلَمَّا
walammā
اور جب
▶
فَصَلَتِ
faṣalati
جدا ہوا
▶
ٱلْعِيرُ
l-ʿīru
قافلہ
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
أَبُوهُمْ
abūhum
ان کے باپ نے
▶
إِنِّى
innī
بیشک میں
▶
لَأَجِدُ
la-ajidu
البتہ میں پاتا ہوں
▶
رِيحَ
rīḥa
خوشبو
▶
يُوسُفَ ۖ
yūsufa
یوسف کی
▶
لَوْلَآ
lawlā
اگر نہیں
▶
أَن
an
یہ کہ
▶
تُفَنِّدُونِ
tufannidūni
تم بہکا ہوا کہو مجھے
آیت 95 - سورہ يوسف: 6 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَـٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ
وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
تَٱللَّهِ
tal-lahi
قسم اللہ کی
▶
إِنَّكَ
innaka
بیشک تو
▶
لَفِى
lafī
البتہ میں ہو
▶
ضَلَـٰلِكَ
ḍalālika
اپنے خبط
▶
ٱلْقَدِيمِ
l-qadīmi
پرانے
آیت 96 - سورہ يوسف: 20 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًۭا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
▶
فَلَمَّآ
falammā
پھر جب
▶
أَن
an
یہ کہ
▶
جَآءَ
jāa
آگیا
▶
ٱلْبَشِيرُ
l-bashīru
خوش خبری دینے والا
▶
أَلْقَىٰهُ
alqāhu
اس نے ڈالا اس کو
▶
عَلَىٰ
ʿalā
پر
▶
وَجْهِهِۦ
wajhihi
اس کے چہرے
▶
فَٱرْتَدَّ
fa-ir'tadda
تو ہوگیا وہ
▶
بَصِيرًۭا ۖ
baṣīran
دیکھنے والا
▶
قَالَ
qāla
اس نے کہا
▶
أَلَمْ
alam
کیا نہیں
▶
أَقُل
aqul
میں نے کہا تھا
▶
لَّكُمْ
lakum
تم سے
▶
إِنِّىٓ
innī
بیشک میں
▶
أَعْلَمُ
aʿlamu
جانتا ہوں
▶
مِنَ
mina
طرف سے
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ کی
▶
مَا
mā
جو
▶
لَا
lā
نہیں
▶
تَعْلَمُونَ
taʿlamūna
تم جانتے
آیت 97 - سورہ يوسف: 8 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالُوا۟ يَـٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَـٰطِـِٔينَ
بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے
▶
قَالُوا۟
qālū
انہوں نے کہا
▶
يَـٰٓأَبَانَا
yāabānā
اے ہمارے ابا جان
▶
ٱسْتَغْفِرْ
is'taghfir
بخشش مانگئے
▶
لَنَا
lanā
ہمارے لئے
▶
ذُنُوبَنَآ
dhunūbanā
ہمارے گناہوں کی
▶
إِنَّا
innā
بیشک ہم
▶
كُنَّا
kunnā
تھے ہم
▶
خَـٰطِـِٔينَ
khāṭiīna
خطا کار
آیت 98 - سورہ يوسف: 9 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
▶
قَالَ
qāla
کہا
▶
سَوْفَ
sawfa
عنقریب
▶
أَسْتَغْفِرُ
astaghfiru
میں بخشش مانگوں گا
▶
لَكُمْ
lakum
تمہارے لیئے
▶
رَبِّىٓ ۖ
rabbī
اپنے رب سے
▶
إِنَّهُۥ
innahu
بیشک وہ
▶
هُوَ
huwa
وہ
▶
ٱلْغَفُورُ
l-ghafūru
غفور،
▶
ٱلرَّحِيمُ
l-raḥīmu
رحیم ہے
آیت 99 - سورہ يوسف: 14 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ
جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا
▶
فَلَمَّا
falammā
تو جب
▶
دَخَلُوا۟
dakhalū
وہ داخل ہوئے
▶
عَلَىٰ
ʿalā
اوپر
▶
يُوسُفَ
yūsufa
یوسف کے
▶
ءَاوَىٰٓ
āwā
اس نے پناہ دی/ بٹھالیا اپنے
▶
إِلَيْهِ
ilayhi
اپنے پاس
▶
أَبَوَيْهِ
abawayhi
اپنے والدین کو
▶
وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
ٱدْخُلُوا۟
ud'khulū
داخل ہوجاؤ
▶
مِصْرَ
miṣ'ra
شہر میں
▶
إِن
in
اگر
▶
شَآءَ
shāa
چاہا
▶
ٱللَّهُ
l-lahu
اللہ نے
▶
ءَامِنِينَ
āminīna
امن والے ہوگے
آیت 100 - سورہ يوسف: 46 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّوا۟ لَهُۥ سُجَّدًۭا ۖ وَقَالَ يَـٰٓأَبَتِ هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَـٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّۭا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنۢ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَـٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌۭ لِّمَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
▶
وَرَفَعَ
warafaʿa
اور اوپر بٹھایا
▶
أَبَوَيْهِ
abawayhi
اپنے والدین کو
▶
عَلَى
ʿalā
پر
▶
ٱلْعَرْشِ
l-ʿarshi
تخت
▶
وَخَرُّوا۟
wakharrū
اور وہ سب گرپڑے
▶
لَهُۥ
lahu
اس کے لئے
▶
سُجَّدًۭا ۖ
sujjadan
سجدہ کرتے ہوئے
▶
وَقَالَ
waqāla
اور کہا
▶
يَـٰٓأَبَتِ
yāabati
اے میرے ابا جان
▶
هَـٰذَا
hādhā
یہ
▶
تَأْوِيلُ
tawīlu
تعبیر ہے
▶
رُءْيَـٰىَ
ru'yāya
میرے خواب کی
▶
مِن
min
سے
▶
قَبْلُ
qablu
جو پہلے (سے) تھا
▶
قَدْ
qad
تحقیق
▶
جَعَلَهَا
jaʿalahā
بنادیا اس کو
▶
رَبِّى
rabbī
میرے رب نے
▶
حَقًّۭا ۖ
ḥaqqan
سچا
▶
وَقَدْ
waqad
اور تحقیق
▶
أَحْسَنَ
aḥsana
اسنے احسان کیا
▶
بِىٓ
bī
میرے ساتھ
▶
إِذْ
idh
جب
▶
أَخْرَجَنِى
akhrajanī
اس نے نکالا مجھ کو
▶
مِنَ
mina
سے
▶
ٱلسِّجْنِ
l-sij'ni
قید خانے
▶
وَجَآءَ
wajāa
اور لے آیا
▶
بِكُم
bikum
تم کو
▶
مِّنَ
mina
سے
▶
ٱلْبَدْوِ
l-badwi
جنگل
▶
مِنۢ
min
سے
▶
بَعْدِ
baʿdi
اس کے بعد
▶
أَن
an
کہ
▶
نَّزَغَ
nazagha
وسوسہ
▶
ٱلشَّيْطَـٰنُ
l-shayṭānu
شیطان نے
▶
بَيْنِى
baynī
میرے درمیان
▶
وَبَيْنَ
wabayna
اور درمیان
▶
إِخْوَتِىٓ ۚ
ikh'watī
میرے بھائیوں کے
▶
إِنَّ
inna
بیشک
▶
رَبِّى
rabbī
میرا رب
▶
لَطِيفٌۭ
laṭīfun
باریک بین ہے
▶
لِّمَا
limā
واسطے اس کے
▶
يَشَآءُ ۚ
yashāu
جو وہ چاہتا ہے
▶
إِنَّهُۥ
innahu
بیشک وہ
▶
هُوَ
huwa
وہ
▶
ٱلْعَلِيمُ
l-ʿalīmu
علم والا ہے،
▶
ٱلْحَكِيمُ
l-ḥakīmu
حکمت والا ہے
آیت 101 - سورہ يوسف: 21 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
۞ رَبِّ قَدْ ءَاتَيْتَنِى مِنَ ٱلْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِى مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ أَنتَ وَلِىِّۦ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِى مُسْلِمًۭا وَأَلْحِقْنِى بِٱلصَّـٰلِحِينَ
(جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو
▶
۞ رَبِّ
rabbi
اے میرے رب
▶
قَدْ
qad
تحقیق
▶
ءَاتَيْتَنِى
ātaytanī
دیا تو نے مجھ کو
▶
مِنَ
mina
میں سے
▶
ٱلْمُلْكِ
l-mul'ki
بادشاہت
▶
وَعَلَّمْتَنِى
waʿallamtanī
اور سکھایا تو نے مجھ کو
▶
مِن
min
سے
▶
تَأْوِيلِ
tawīli
تعبیر میں (سے)
▶
ٱلْأَحَادِيثِ ۚ
l-aḥādīthi
خوابوں کی
▶
فَاطِرَ
fāṭira
پیدا کرنے والے
▶
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ
l-samāwāti
آسمانوں
▶
وَٱلْأَرْضِ
wal-arḍi
اور زمین کے
▶
أَنتَ
anta
تو میرا
▶
وَلِىِّۦ
waliyyī
دوست ہے
▶
فِى
fī
میں
▶
ٱلدُّنْيَا
l-dun'yā
دنیا
▶
وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۖ
wal-ākhirati
اور آخرت میں
▶
تَوَفَّنِى
tawaffanī
تو فوت کر مجھ کو
▶
مُسْلِمًۭا
mus'liman
اسلام کی حالت میں
▶
وَأَلْحِقْنِى
wa-alḥiq'nī
اور ملا دے مجھ کو
▶
بِٱلصَّـٰلِحِينَ
bil-ṣāliḥīna
صالح لوگوں کے ساتھ
آیت 102 - سورہ يوسف: 14 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوٓا۟ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ
(اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے
▶
ذَٰلِكَ
dhālika
یہ
▶
مِنْ
min
میں سے ہے
▶
أَنۢبَآءِ
anbāi
خبروں
▶
ٱلْغَيْبِ
l-ghaybi
غیب کی
▶
نُوحِيهِ
nūḥīhi
ہم وحی کرتے ہیں اس کو
▶
إِلَيْكَ ۖ
ilayka
آپ کی طرف
▶
وَمَا
wamā
اور نہ تھے
▶
كُنتَ
kunta
آپ
▶
لَدَيْهِمْ
ladayhim
ان کے پاس
▶
إِذْ
idh
جب
▶
أَجْمَعُوٓا۟
ajmaʿū
اتفاق کیا انہوں نے
▶
أَمْرَهُمْ
amrahum
اپنے معاملے پر
▶
وَهُمْ
wahum
اور وہ
▶
يَمْكُرُونَ
yamkurūna
چالیں چل رہے تھے
آیت 103 - سورہ يوسف: 6 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَمَآ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ
اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں
▶
وَمَآ
wamā
اور نہیں
▶
أَكْثَرُ
aktharu
اکثر
▶
ٱلنَّاسِ
l-nāsi
لوگ
▶
وَلَوْ
walaw
خواہ تم
▶
حَرَصْتَ
ḥaraṣta
حریص ہو
▶
بِمُؤْمِنِينَ
bimu'minīna
ایمان لانے والے
آیت 104 - سورہ يوسف: 10 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَمَا تَسْـَٔلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ لِّلْعَـٰلَمِينَ
اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے
▶
وَمَا
wamā
اور نہیں
▶
تَسْـَٔلُهُمْ
tasaluhum
تم سوال کرتے ان سے
▶
عَلَيْهِ
ʿalayhi
اس پر
▶
مِنْ
min
کسی
▶
أَجْرٍ ۚ
ajrin
اجر کا
▶
إِنْ
in
نہیں ہے
▶
هُوَ
huwa
وہ
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
ذِكْرٌۭ
dhik'run
ایک ذکر
▶
لِّلْعَـٰلَمِينَ
lil'ʿālamīna
سارے جہان والوں کے لئے
آیت 105 - سورہ يوسف: 11 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَكَأَيِّن مِّنْ ءَايَةٍۢ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں
▶
وَكَأَيِّن
waka-ayyin
اور کتنی ہی
▶
مِّنْ
min
میں سے
▶
ءَايَةٍۢ
āyatin
نشانیوں
▶
فِى
fī
میں
▶
ٱلسَّمَـٰوَٰتِ
l-samāwāti
آسمانوں
▶
وَٱلْأَرْضِ
wal-arḍi
اور زمین (میں)
▶
يَمُرُّونَ
yamurrūna
وہ گزرتے رہتے ہیں
▶
عَلَيْهَا
ʿalayhā
ان پر
▶
وَهُمْ
wahum
اور وہ
▶
عَنْهَا
ʿanhā
ان سے
▶
مُعْرِضُونَ
muʿ'riḍūna
منہ موڑنے والے ہیں
آیت 106 - سورہ يوسف: 7 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ
اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں
▶
وَمَا
wamā
اور نہیں
▶
يُؤْمِنُ
yu'minu
ایمان لاتے
▶
أَكْثَرُهُم
aktharuhum
ان میں سے اکثر
▶
بِٱللَّهِ
bil-lahi
اللہ کے ساتھ
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
وَهُم
wahum
اور وہ
▶
مُّشْرِكُونَ
mush'rikūna
شرک کرنے والے ہوتے ہیں
آیت 107 - سورہ يوسف: 14 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
أَفَأَمِنُوٓا۟ أَن تَأْتِيَهُمْ غَـٰشِيَةٌۭ مِّنْ عَذَابِ ٱللَّهِ أَوْ تَأْتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو
▶
أَفَأَمِنُوٓا۟
afa-aminū
کیا بھلا وہ بےخوف ہوگئے/ امن میں آگئے
▶
أَن
an
کہ
▶
تَأْتِيَهُمْ
tatiyahum
آئے ان کے پاس
▶
غَـٰشِيَةٌۭ
ghāshiyatun
ایک ڈھانپ لینے والی
▶
مِّنْ
min
سے
▶
عَذَابِ
ʿadhābi
عذاب میں (سے)
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ کے
▶
أَوْ
aw
یا
▶
تَأْتِيَهُمُ
tatiyahumu
آئے ان کے پاس
▶
ٱلسَّاعَةُ
l-sāʿatu
قیامت کی گھڑی
▶
بَغْتَةًۭ
baghtatan
اچانک
▶
وَهُمْ
wahum
اور وہ
▶
لَا
lā
نہ
▶
يَشْعُرُونَ
yashʿurūna
شعور رکھتے ہوں
آیت 108 - سورہ يوسف: 17 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
قُلْ هَـٰذِهِۦ سَبِيلِىٓ أَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِى ۖ وَسُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں
▶
قُلْ
qul
کہہ دیجئے
▶
هَـٰذِهِۦ
hādhihi
یہ
▶
سَبِيلِىٓ
sabīlī
میرا راستہ ہے
▶
أَدْعُوٓا۟
adʿū
میں بلاتا ہوں
▶
إِلَى
ilā
طرف
▶
ٱللَّهِ ۚ
l-lahi
اللہ کی
▶
عَلَىٰ
ʿalā
کے ساتھ
▶
بَصِيرَةٍ
baṣīratin
بصیرت
▶
أَنَا۠
anā
میں
▶
وَمَنِ
wamani
اور جو کوئی
▶
ٱتَّبَعَنِى ۖ
ittabaʿanī
پیروی کرے میری
▶
وَسُبْحَـٰنَ
wasub'ḥāna
اور پاک ہے
▶
ٱللَّهِ
l-lahi
اللہ
▶
وَمَآ
wamā
اور نہیں
▶
أَنَا۠
anā
میں
▶
مِنَ
mina
میں سے
▶
ٱلْمُشْرِكِينَ
l-mush'rikīna
شرک کرنے والوں
آیت 109 - سورہ يوسف: 29 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًۭا نُّوحِىٓ إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰٓ ۗ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ ٱلْـَٔاخِرَةِ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
▶
وَمَآ
wamā
اور نہیں
▶
أَرْسَلْنَا
arsalnā
بھیجا ہم نے
▶
مِن
min
آپ سے
▶
قَبْلِكَ
qablika
پہلے
▶
إِلَّا
illā
مگر
▶
رِجَالًۭا
rijālan
مردوں کو
▶
نُّوحِىٓ
nūḥī
ہم وحی کرتے تھے
▶
إِلَيْهِم
ilayhim
ان کی طرف
▶
مِّنْ
min
میں سے
▶
أَهْلِ
ahli
والوں
▶
ٱلْقُرَىٰٓ ۗ
l-qurā
بستی
▶
أَفَلَمْ
afalam
کیا پھر نہیں
▶
يَسِيرُوا۟
yasīrū
وہ چلے پھرے
▶
فِى
fī
میں
▶
ٱلْأَرْضِ
l-arḍi
زمین
▶
فَيَنظُرُوا۟
fayanẓurū
تو وہ دیکھتے
▶
كَيْفَ
kayfa
کس طرح
▶
كَانَ
kāna
ہوا
▶
عَـٰقِبَةُ
ʿāqibatu
انجام
▶
ٱلَّذِينَ
alladhīna
ان لوگوں کا
▶
مِن
min
ان سے
▶
قَبْلِهِمْ ۗ
qablihim
پہلے
▶
وَلَدَارُ
waladāru
اور البتہ گھر
▶
ٱلْـَٔاخِرَةِ
l-ākhirati
آخرت کا
▶
خَيْرٌۭ
khayrun
بہتر ہے
▶
لِّلَّذِينَ
lilladhīna
ان لوگوں کے لئے
▶
ٱتَّقَوْا۟ ۗ
ittaqaw
جو تقویٰ اختیار کریں
▶
أَفَلَا
afalā
کیا تم
▶
تَعْقِلُونَ
taʿqilūna
عقل سے کام نہیں لیتے ہو
آیت 110 - سورہ يوسف: 19 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسْتَيْـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا۟ جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّىَ مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ
یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا
▶
حَتَّىٰٓ
ḥattā
یہاں تک کہ
▶
إِذَا
idhā
جب
▶
ٱسْتَيْـَٔسَ
is'tayasa
مایوس ہوگئے
▶
ٱلرُّسُلُ
l-rusulu
رسول
▶
وَظَنُّوٓا۟
waẓannū
اور لوگوں نے سمجھا
▶
أَنَّهُمْ
annahum
کہ بیشک وہ
▶
قَدْ
qad
تحقیق
▶
كُذِبُوا۟
kudhibū
وہ جھوٹ بولے گئے
▶
جَآءَهُمْ
jāahum
آئی ان کے پاس
▶
نَصْرُنَا
naṣrunā
مدد ہماری
▶
فَنُجِّىَ
fanujjiya
تو بچالیا گیا
▶
مَن
man
جس کو
▶
نَّشَآءُ ۖ
nashāu
ہم نے چاہا
▶
وَلَا
walā
اور نہیں
▶
يُرَدُّ
yuraddu
پھیرا جاتا
▶
بَأْسُنَا
basunā
عذاب ہمارا
▶
عَنِ
ʿani
سے
▶
ٱلْقَوْمِ
l-qawmi
قوم
▶
ٱلْمُجْرِمِينَ
l-muj'rimīna
مجرم
آیت 111 - سورہ يوسف: 23 الفاظ
▶ آیت لفظ بہ لفظ
لَقَدْ كَانَ فِى قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌۭ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًۭا يُفْتَرَىٰ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
▶
لَقَدْ
laqad
البتہ تحقیق
▶
كَانَ
kāna
ہے
▶
فِى
fī
میں
▶
قَصَصِهِمْ
qaṣaṣihim
ان کے قصوں
▶
عِبْرَةٌۭ
ʿib'ratun
عبرت
▶
لِّأُو۟لِى
li-ulī
والوں کے لئے
▶
ٱلْأَلْبَـٰبِ ۗ
l-albābi
عقل
▶
مَا
mā
نہیں
▶
كَانَ
kāna
ہے
▶
حَدِيثًۭا
ḥadīthan
بات
▶
يُفْتَرَىٰ
yuf'tarā
جو گھڑ لی
▶
وَلَـٰكِن
walākin
لیکن
▶
تَصْدِيقَ
taṣdīqa
تصدیق ہے
▶
ٱلَّذِى
alladhī
اس چیز کی
▶
بَيْنَ
bayna
پہلے ہے
▶
يَدَيْهِ
yadayhi
جو اس سے
▶
وَتَفْصِيلَ
watafṣīla
اور تفصیل
▶
كُلِّ
kulli
ہر
▶
شَىْءٍۢ
shayin
چیز کی
▶
وَهُدًۭى
wahudan
اور ہدایت
▶
وَرَحْمَةًۭ
waraḥmatan
اور رحمت ہے
▶
لِّقَوْمٍۢ
liqawmin
اس قوم کے لئے
▶
يُؤْمِنُونَ
yu'minūna
جو ایمان لاتی ہو
مزید دیکھیں
تمام سورتیں لفظ بہ لفظ