حزب 60 جُز 30 کا حصہ ہے۔ اس میں مصحف کے 13 صفحات پر 288 آیات ہیں۔
10 جولائی 2026 کو 03:52 بجے اپڈیٹ کیا گیا
coran.read_full_page : قرآن کا حزب 60 پڑھیں →
بَلْ تُؤْثِرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ﴿١٦﴾
مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو
وَٱلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰٓ ﴿١٧﴾
حالانکہ آخرت بہت بہتر اور پائندہ تر ہے
إِنَّ هَـٰذَا لَفِى ٱلصُّحُفِ ٱلْأُولَىٰ ﴿١٨﴾
یہ بات پہلے صحیفوں میں (مرقوم) ہے
صُحُفِ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ ﴿١٩﴾
(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْغَـٰشِيَةِ ﴿١﴾
بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہوا ہے
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍ خَـٰشِعَةٌ ﴿٢﴾
اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے
عَامِلَةٌۭ نَّاصِبَةٌۭ ﴿٣﴾
سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے
تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةًۭ ﴿٤﴾
دہکتی آگ میں داخل ہوں گے
تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ ءَانِيَةٍۢ ﴿٥﴾
ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا
لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍۢ ﴿٦﴾
اور خار دار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں (ہو گا)
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِى مِن جُوعٍۢ ﴿٧﴾
جو نہ فربہی لائے اور نہ بھوک میں کچھ کام آئے
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ نَّاعِمَةٌۭ ﴿٨﴾
اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوں گے
لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌۭ ﴿٩﴾
اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل
فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍۢ ﴿١٠﴾
بہشت بریں میں
لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَـٰغِيَةًۭ ﴿١١﴾
وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے
فِيهَا عَيْنٌۭ جَارِيَةٌۭ ﴿١٢﴾
اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے
فِيهَا سُرُرٌۭ مَّرْفُوعَةٌۭ ﴿١٣﴾
وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے
وَأَكْوَابٌۭ مَّوْضُوعَةٌۭ ﴿١٤﴾
اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے
وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌۭ ﴿١٥﴾
اور گاؤ تکیے قطار کی قطار لگے ہوئے
وَزَرَابِىُّ مَبْثُوثَةٌ ﴿١٦﴾
اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ﴿١٧﴾
یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب) پیدا کیے گئے ہیں
وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْ ﴿١٨﴾
اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے
وَإِلَى ٱلْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ﴿١٩﴾
اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں
وَإِلَى ٱلْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ﴿٢٠﴾
اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی
فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌۭ ﴿٢١﴾
تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو
لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ ﴿٢٢﴾
تم ان پر داروغہ نہیں ہو
إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ ﴿٢٣﴾
ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا
فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَكْبَرَ ﴿٢٤﴾
تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا
إِنَّ إِلَيْنَآ إِيَابَهُمْ ﴿٢٥﴾
بےشک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم ﴿٢٦﴾
پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے
وَٱلْفَجْرِ ﴿١﴾
فجر کی قسم
وَلَيَالٍ عَشْرٍۢ ﴿٢﴾
اور دس راتوں کی
وَٱلشَّفْعِ وَٱلْوَتْرِ ﴿٣﴾
اور جفت اور طاق کی
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَسْرِ ﴿٤﴾
اور رات کی جب جانے لگے
هَلْ فِى ذَٰلِكَ قَسَمٌۭ لِّذِى حِجْرٍ ﴿٥﴾
اور بے شک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں کہ (کافروں کو ضرور عذاب ہو گا)
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ﴿٦﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا
إِرَمَ ذَاتِ ٱلْعِمَادِ ﴿٧﴾
(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد
ٱلَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى ٱلْبِلَـٰدِ ﴿٨﴾
کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے
وَثَمُودَ ٱلَّذِينَ جَابُوا۟ ٱلصَّخْرَ بِٱلْوَادِ ﴿٩﴾
اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے
وَفِرْعَوْنَ ذِى ٱلْأَوْتَادِ ﴿١٠﴾
اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا
ٱلَّذِينَ طَغَوْا۟ فِى ٱلْبِلَـٰدِ ﴿١١﴾
یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے
فَأَكْثَرُوا۟ فِيهَا ٱلْفَسَادَ ﴿١٢﴾
اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ ﴿١٣﴾
تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا
إِنَّ رَبَّكَ لَبِٱلْمِرْصَادِ ﴿١٤﴾
بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے
فَأَمَّا ٱلْإِنسَـٰنُ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكْرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَكْرَمَنِ ﴿١٥﴾
مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے تو اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی
وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَهَـٰنَنِ ﴿١٦﴾
اور جب (دوسری طرح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے کہ (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا
كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ ٱلْيَتِيمَ ﴿١٧﴾
نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے
وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ ﴿١٨﴾
اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو
وَتَأْكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكْلًۭا لَّمًّۭا ﴿١٩﴾
اور میراث کے مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو
وَتُحِبُّونَ ٱلْمَالَ حُبًّۭا جَمًّۭا ﴿٢٠﴾
اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو
كَلَّآ إِذَا دُكَّتِ ٱلْأَرْضُ دَكًّۭا دَكًّۭا ﴿٢١﴾
تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کو پست کر دی جائے گی
وَجَآءَ رَبُّكَ وَٱلْمَلَكُ صَفًّۭا صَفًّۭا ﴿٢٢﴾
اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہو گا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آ موجود ہوں گے
وَجِا۟ىٓءَ يَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍۢ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكْرَىٰ ﴿٢٣﴾
اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہو گا مگر تنبہ (سے) اسے (فائدہ) کہاں (مل سکے گا)
يَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى قَدَّمْتُ لِحَيَاتِى ﴿٢٤﴾
کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی (جاودانی کے لیے) کچھ آگے بھیجا ہوتا
فَيَوْمَئِذٍۢ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٌۭ ﴿٢٥﴾
تو اس دن نہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا
وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٌۭ ﴿٢٦﴾
اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا
يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفْسُ ٱلْمُطْمَئِنَّةُ ﴿٢٧﴾
اے اطمینان پانے والی روح!
ٱرْجِعِىٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةًۭ مَّرْضِيَّةًۭ ﴿٢٨﴾
اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی
فَٱدْخُلِى فِى عِبَـٰدِى ﴿٢٩﴾
تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا
وَٱدْخُلِى جَنَّتِى ﴿٣٠﴾
اور میری بہشت میں داخل ہو جا
لَآ أُقْسِمُ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿١﴾
ہمیں اس شہر (مکہ) کی قسم
وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ ﴿٢﴾
اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو
وَوَالِدٍۢ وَمَا وَلَدَ ﴿٣﴾
اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ فِى كَبَدٍ ﴿٤﴾
کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے
أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌۭ ﴿٥﴾
کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا
يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًۭا لُّبَدًا ﴿٦﴾
کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُۥٓ أَحَدٌ ﴿٧﴾
کیا اسے یہ گمان ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُۥ عَيْنَيْنِ ﴿٨﴾
بھلا ہم نےاس کو دو آنکھیں نہیں دیں؟
وَلِسَانًۭا وَشَفَتَيْنِ ﴿٩﴾
اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دیئے)
وَهَدَيْنَـٰهُ ٱلنَّجْدَيْنِ ﴿١٠﴾
(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر و شر کے) دونوں رستے بھی دکھا دیئے
فَلَا ٱقْتَحَمَ ٱلْعَقَبَةَ ﴿١١﴾
مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْعَقَبَةُ ﴿١٢﴾
اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے؟
فَكُّ رَقَبَةٍ ﴿١٣﴾
کسی (کی) گردن کا چھڑانا
أَوْ إِطْعَـٰمٌۭ فِى يَوْمٍۢ ذِى مَسْغَبَةٍۢ ﴿١٤﴾
یا بھوک کے دن کھانا کھلانا
يَتِيمًۭا ذَا مَقْرَبَةٍ ﴿١٥﴾
یتیم رشتہ دار کو
أَوْ مِسْكِينًۭا ذَا مَتْرَبَةٍۢ ﴿١٦﴾
یا فقیر خاکسار کو
ثُمَّ كَانَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْمَرْحَمَةِ ﴿١٧﴾
پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہو جو ایمان لائے اور صبر کی نصیحت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے
أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ ﴿١٨﴾
یہی لوگ صاحب سعادت ہیں
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا هُمْ أَصْحَـٰبُ ٱلْمَشْـَٔمَةِ ﴿١٩﴾
اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں
عَلَيْهِمْ نَارٌۭ مُّؤْصَدَةٌۢ ﴿٢٠﴾
یہ لوگ آگ میں بند کر دیئے جائیں گے
وَٱلشَّمْسِ وَضُحَىٰهَا ﴿١﴾
سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی
وَٱلْقَمَرِ إِذَا تَلَىٰهَا ﴿٢﴾
اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے
وَٱلنَّهَارِ إِذَا جَلَّىٰهَا ﴿٣﴾
اور دن کی جب اُسے چمکا دے
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰهَا ﴿٤﴾
اور رات کی جب اُسے چھپا لے
وَٱلسَّمَآءِ وَمَا بَنَىٰهَا ﴿٥﴾
اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا
وَٱلْأَرْضِ وَمَا طَحَىٰهَا ﴿٦﴾
اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا
وَنَفْسٍۢ وَمَا سَوَّىٰهَا ﴿٧﴾
اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَىٰهَا ﴿٨﴾
پھر اس کو بدکاری (سے بچنے) اور پرہیزگاری کرنے کی سمجھ دی
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّىٰهَا ﴿٩﴾
کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا
وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا ﴿١٠﴾
اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَىٰهَآ ﴿١١﴾
(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب (پیغمبر کو) جھٹلایا
إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشْقَىٰهَا ﴿١٢﴾
جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقْيَـٰهَا ﴿١٣﴾
تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے عذر کرو
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمْ فَسَوَّىٰهَا ﴿١٤﴾
مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کےگناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کر دیا
وَلَا يَخَافُ عُقْبَـٰهَا ﴿١٥﴾
اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ﴿١﴾
رات کی قسم جب (دن کو) چھپالے
وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾
اور دن کی قسم جب چمک اٹھے
وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ ﴿٣﴾
اور اس (ذات) کی قسم جس نے نر اور مادہ پیدا کیے
إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ ﴿٤﴾
کہ تم لوگوں کی کوششں طرح طرح کی ہے
فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَٱتَّقَىٰ ﴿٥﴾
تو جس نے (خدا کے رستے میں مال) دیا اور پرہیز گاری کی
وَصَدَّقَ بِٱلْحُسْنَىٰ ﴿٦﴾
اور نیک بات کو سچ جانا
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْيُسْرَىٰ ﴿٧﴾
اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے
وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰ ﴿٨﴾
اور جس نے بخل کیا اور بےپروا بنا رہا
وَكَذَّبَ بِٱلْحُسْنَىٰ ﴿٩﴾
اور نیک بات کو جھوٹ سمجھا
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْعُسْرَىٰ ﴿١٠﴾
اسے سختی میں پہنچائیں گے
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُۥٓ إِذَا تَرَدَّىٰٓ ﴿١١﴾
اور جب وہ (دوزخ کے گڑھے میں) گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہ آئے گا
إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ ﴿١٢﴾
ہمیں تو راہ دکھا دینا ہے
وَإِنَّ لَنَا لَلْـَٔاخِرَةَ وَٱلْأُولَىٰ ﴿١٣﴾
اور آخرت او ردنیا ہماری ہی چیزیں ہیں
فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًۭا تَلَظَّىٰ ﴿١٤﴾
سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کر دیا
لَا يَصْلَىٰهَآ إِلَّا ٱلْأَشْقَى ﴿١٥﴾
اس میں وہی داخل ہو گا جو بڑا بدبخت ہے
ٱلَّذِى كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٦﴾
جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا
وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلْأَتْقَى ﴿١٧﴾
اور جو بڑا پرہیزگار ہے وہ (اس سے) بچا لیا جائے گا
ٱلَّذِى يُؤْتِى مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾
جو مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعْمَةٍۢ تُجْزَىٰٓ ﴿١٩﴾
اور (اس لیے) نہیں (دیتا کہ) اس پر کسی کا احسان (ہے) جس کا وہ بدلہ اتارتا ہے
إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ ٱلْأَعْلَىٰ ﴿٢٠﴾
بلکہ اپنے خداوند اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے دیتا ہے
وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ ﴿٢١﴾
اور وہ عنقریب خوش ہو جائے گا
وَٱلضُّحَىٰ ﴿١﴾
آفتاب کی روشنی کی قسم
وَٱلَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ ﴿٢﴾
اور رات (کی تاریکی) کی جب چھا جائے
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ ﴿٣﴾
کہ (اے محمدﷺ) تمہارے پروردگار نے نہ تو تم کو چھوڑا اور نہ (تم سے) ناراض ہوا
وَلَلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌۭ لَّكَ مِنَ ٱلْأُولَىٰ ﴿٤﴾
اور آخرت تمہارے لیے پہلی (حالت یعنی دنیا) سے کہیں بہتر ہے
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰٓ ﴿٥﴾
اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًۭا فَـَٔاوَىٰ ﴿٦﴾
بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ (بےشک دی)
وَوَجَدَكَ ضَآلًّۭا فَهَدَىٰ ﴿٧﴾
اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا
وَوَجَدَكَ عَآئِلًۭا فَأَغْنَىٰ ﴿٨﴾
اور تنگ دست پایا تو غنی کر دیا
فَأَمَّا ٱلْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ ﴿٩﴾
تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرنا
وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ ﴿١٠﴾
اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ﴿١١﴾
اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بیان کرتے رہنا
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ﴿١﴾
(اے محمدﷺ) کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا؟ (بےشک کھول دیا)
وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ ﴿٢﴾
اور تم پر سے بوجھ بھی اتار دیا
ٱلَّذِىٓ أَنقَضَ ظَهْرَكَ ﴿٣﴾
جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ﴿٤﴾
اور تمہارا ذکر بلند کیا
فَإِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًا ﴿٥﴾
ہاں ہاں مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے
إِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًۭا ﴿٦﴾
(اور) بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے
فَإِذَا فَرَغْتَ فَٱنصَبْ ﴿٧﴾
تو جب فارغ ہوا کرو تو (عبادت میں) محنت کیا کرو
وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرْغَب ﴿٨﴾
اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو جایا کرو
وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيْتُونِ ﴿١﴾
انجیر کی قسم اور زیتون کی
وَطُورِ سِينِينَ ﴿٢﴾
اور طور سینین کی
وَهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ ٱلْأَمِينِ ﴿٣﴾
اور اس امن والے شہر کی
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ فِىٓ أَحْسَنِ تَقْوِيمٍۢ ﴿٤﴾
کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے
ثُمَّ رَدَدْنَـٰهُ أَسْفَلَ سَـٰفِلِينَ ﴿٥﴾
پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کر دیا
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍۢ ﴿٦﴾
مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکے لیے بےانتہا اجر ہے
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِٱلدِّينِ ﴿٧﴾
تو (اے آدم زاد) پھر تو جزا کے دن کو کیوں جھٹلاتا ہے؟
أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَحْكَمِ ٱلْحَـٰكِمِينَ ﴿٨﴾
کیا خدا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے؟
ٱقْرَأْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ ﴿١﴾
(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا
خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
ٱقْرَأْ وَرَبُّكَ ٱلْأَكْرَمُ ﴿٣﴾
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
ٱلَّذِى عَلَّمَ بِٱلْقَلَمِ ﴿٤﴾
جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا
عَلَّمَ ٱلْإِنسَـٰنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾
اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا
كَلَّآ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَيَطْغَىٰٓ ﴿٦﴾
مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے
أَن رَّءَاهُ ٱسْتَغْنَىٰٓ ﴿٧﴾
جب کہ اپنے تیئں غنی دیکھتا ہے
إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجْعَىٰٓ ﴿٨﴾
کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
أَرَءَيْتَ ٱلَّذِى يَنْهَىٰ ﴿٩﴾
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے
عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰٓ ﴿١٠﴾
(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے
أَرَءَيْتَ إِن كَانَ عَلَى ٱلْهُدَىٰٓ ﴿١١﴾
بھلا دیکھو تو اگر یہ راہِ راست پر ہو
أَوْ أَمَرَ بِٱلتَّقْوَىٰٓ ﴿١٢﴾
یا پرہیز گاری کا حکم کرے (تو منع کرنا کیسا)
أَرَءَيْتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ ﴿١٣﴾
اور دیکھو تو اگر اس نے دین حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا (تو کیا ہوا)
أَلَمْ يَعْلَم بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ ﴿١٤﴾
کیااس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے
كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًۢا بِٱلنَّاصِيَةِ ﴿١٥﴾
دیکھو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اس کی) پیشانی کے بال پکڑ گھسیٹیں گے
نَاصِيَةٍۢ كَـٰذِبَةٍ خَاطِئَةٍۢ ﴿١٦﴾
یعنی اس جھوٹے خطاکار کی پیشانی کے بال
فَلْيَدْعُ نَادِيَهُۥ ﴿١٧﴾
تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلالے
سَنَدْعُ ٱلزَّبَانِيَةَ ﴿١٨﴾
ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گے
كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَٱسْجُدْ وَٱقْتَرِب ۩ ﴿١٩﴾
دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور قربِ (خدا) حاصل کرتے رہنا
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ ﴿١﴾
ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ ﴿٢﴾
اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟
لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ خَيْرٌۭ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍۢ ﴿٣﴾
شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے
تَنَزَّلُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍۢ ﴿٤﴾
اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں
سَلَـٰمٌ هِىَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ ﴿٥﴾
یہ (رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے
لَمْ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ ﴿١﴾
جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی دلیل (نہ) آتی
رَسُولٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ يَتْلُوا۟ صُحُفًۭا مُّطَهَّرَةًۭ ﴿٢﴾
(یعنی) خدا کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں
فِيهَا كُتُبٌۭ قَيِّمَةٌۭ ﴿٣﴾
جن میں (مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں
وَمَا تَفَرَّقَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ ﴿٤﴾
اور اہل کتاب جو متفرق (و مختلف) ہوئے ہیں تو دلیل واضح آنے کے بعد (ہوئے ہیں)
وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ ﴿٥﴾
اور ان کو حکم تو یہی ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ خدا کی عبادت کریں (اور) یکسو ہو کراورنماز پڑھیں اور زکوٰة دیں اور یہی سچا دین ہے
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ ٱلْبَرِيَّةِ ﴿٦﴾
جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے (اور) ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ لوگ سب مخلوق سے بدتر ہیں
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ خَيْرُ ٱلْبَرِيَّةِ ﴿٧﴾
(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ تمام خلقت سے بہتر ہیں
جَزَآؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّـٰتُ عَدْنٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ رَبَّهُۥ ﴿٨﴾
ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالاباد ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ اس سے خوش۔ یہ (صلہ) اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا رہا
إِذَا زُلْزِلَتِ ٱلْأَرْضُ زِلْزَالَهَا ﴿١﴾
جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی
وَأَخْرَجَتِ ٱلْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ﴿٢﴾
اور زمین اپنے (اندر) کے بوجھ نکال ڈالے گی
وَقَالَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا لَهَا ﴿٣﴾
اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ہے؟
يَوْمَئِذٍۢ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ﴿٤﴾
اس روز وہ اپنے حالات بیان کردے گی
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا ﴿٥﴾
کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)
يَوْمَئِذٍۢ يَصْدُرُ ٱلنَّاسُ أَشْتَاتًۭا لِّيُرَوْا۟ أَعْمَـٰلَهُمْ ﴿٦﴾
اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًۭا يَرَهُۥ ﴿٧﴾
تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا
وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ شَرًّۭا يَرَهُۥ ﴿٨﴾
اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا
وَٱلْعَـٰدِيَـٰتِ ضَبْحًۭا ﴿١﴾
ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتےہیں
فَٱلْمُورِيَـٰتِ قَدْحًۭا ﴿٢﴾
پھر (پتھروں پر نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں
فَٱلْمُغِيرَٰتِ صُبْحًۭا ﴿٣﴾
پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں
فَأَثَرْنَ بِهِۦ نَقْعًۭا ﴿٤﴾
پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں
فَوَسَطْنَ بِهِۦ جَمْعًا ﴿٥﴾
پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں
إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٌۭ ﴿٦﴾
کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور ناشکرا) ہے
وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌۭ ﴿٧﴾
اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے
وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلْخَيْرِ لَشَدِيدٌ ﴿٨﴾
وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے
۞ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِى ٱلْقُبُورِ ﴿٩﴾
کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لیے جائیں گے
وَحُصِّلَ مَا فِى ٱلصُّدُورِ ﴿١٠﴾
اور جو (بھید) دلوں میں ہیں وہ ظاہر کر دیئے جائیں گے
إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍۢ لَّخَبِيرٌۢ ﴿١١﴾
بےشک ان کا پروردگار اس روز ان سے خوب واقف ہوگا
ٱلْقَارِعَةُ ﴿١﴾
کھڑ کھڑانے والی
مَا ٱلْقَارِعَةُ ﴿٢﴾
کھڑ کھڑانے والی کیا ہے؟
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْقَارِعَةُ ﴿٣﴾
اور تم کیا جانوں کھڑ کھڑانے والی کیا ہے؟
يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ ﴿٤﴾
(وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے
وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ٱلْمَنفُوشِ ﴿٥﴾
اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ ﴿٦﴾
تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے
فَهُوَ فِى عِيشَةٍۢ رَّاضِيَةٍۢ ﴿٧﴾
وہ دل پسند عیش میں ہو گا
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ ﴿٨﴾
اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے
فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٌۭ ﴿٩﴾
اس کا مرجع ہاویہ ہے
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا هِيَهْ ﴿١٠﴾
اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے؟
نَارٌ حَامِيَةٌۢ ﴿١١﴾
دہکتی ہوئی آگ ہے
أَلْهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ ﴿١﴾
(لوگو) تم کو (مال کی) بہت سی طلب نے غافل کر دیا
حَتَّىٰ زُرْتُمُ ٱلْمَقَابِرَ ﴿٢﴾
یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں
كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿٣﴾
دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا
ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ﴿٤﴾
پھر دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا
كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ ٱلْيَقِينِ ﴿٥﴾
دیکھو اگر تم جانتے (یعنی) علم الیقین (رکھتے تو غفلت نہ کرتے)
لَتَرَوُنَّ ٱلْجَحِيمَ ﴿٦﴾
تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے
ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ ٱلْيَقِينِ ﴿٧﴾
پھر اس کو (ایسا) دیکھو گے (کہ) عین الیقین (آ جائے گا)
ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ ﴿٨﴾
پھر اس روز تم سے (شکر) نعمت کے بارے میں پرسش ہو گی
وَٱلْعَصْرِ ﴿١﴾
عصر کی قسم
إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَفِى خُسْرٍ ﴿٢﴾
کہ انسان نقصان میں ہے
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْحَقِّ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ ﴿٣﴾
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے
وَيْلٌۭ لِّكُلِّ هُمَزَةٍۢ لُّمَزَةٍ ﴿١﴾
ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے
ٱلَّذِى جَمَعَ مَالًۭا وَعَدَّدَهُۥ ﴿٢﴾
جو مال جمع کرتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے
يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخْلَدَهُۥ ﴿٣﴾
(اور) خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہو گا
كَلَّا ۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِى ٱلْحُطَمَةِ ﴿٤﴾
ہر گز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحُطَمَةُ ﴿٥﴾
اور تم کیا سمجھے حطمہ کیا ہے؟
نَارُ ٱللَّهِ ٱلْمُوقَدَةُ ﴿٦﴾
وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے
ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلْأَفْـِٔدَةِ ﴿٧﴾
جو دلوں پر جا لپٹے گی
إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌۭ ﴿٨﴾
(اور) وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے
فِى عَمَدٍۢ مُّمَدَّدَةٍۭ ﴿٩﴾
(یعنی آگ کے) لمبے لمبے ستونوں میں
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَـٰبِ ٱلْفِيلِ ﴿١﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِى تَضْلِيلٍۢ ﴿٢﴾
کیا ان کا داؤں غلط نہیں کیا؟ (گیا)
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ﴿٣﴾
اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بھیجے
تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍۢ مِّن سِجِّيلٍۢ ﴿٤﴾
جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍۢ مَّأْكُولٍۭ ﴿٥﴾
تو ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھس
لِإِيلَـٰفِ قُرَيْشٍ ﴿١﴾
قریش کے مانوس کرنے کے سبب
إِۦلَـٰفِهِمْ رِحْلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيْفِ ﴿٢﴾
(یعنی) ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب
فَلْيَعْبُدُوا۟ رَبَّ هَـٰذَا ٱلْبَيْتِ ﴿٣﴾
لوگوں کو چاہیئے کہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر کے مالک کی عبادت کریں
ٱلَّذِىٓ أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍۢ وَءَامَنَهُم مِّنْ خَوْفٍۭ ﴿٤﴾
جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا
أَرَءَيْتَ ٱلَّذِى يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ ﴿١﴾
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو (روزِ) جزا کو جھٹلاتا ہے؟
فَذَٰلِكَ ٱلَّذِى يَدُعُّ ٱلْيَتِيمَ ﴿٢﴾
یہ وہی (بدبخت) ہے، جو یتیم کو دھکے دیتا ہے
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ ﴿٣﴾
اور فقیر کو کھانا کھلانے کے لیے (لوگوں کو) ترغیب نہیں دیتا
فَوَيْلٌۭ لِّلْمُصَلِّينَ ﴿٤﴾
تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے
ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ﴿٥﴾
جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں
ٱلَّذِينَ هُمْ يُرَآءُونَ ﴿٦﴾
جو ریا کاری کرتے ہیں
وَيَمْنَعُونَ ٱلْمَاعُونَ ﴿٧﴾
اور برتنے کی چیزیں عاریتہً نہیں دیتے
إِنَّآ أَعْطَيْنَـٰكَ ٱلْكَوْثَرَ ﴿١﴾
(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنْحَرْ ﴿٢﴾
تو اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی دیا کرو
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلْأَبْتَرُ ﴿٣﴾
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْكَـٰفِرُونَ ﴿١﴾
(اے پیغمبر ان منکران اسلام سے) کہہ دو کہ اے کافرو!
لَآ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿٢﴾
جن (بتوں) کو تم پوچتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا
وَلَآ أَنتُمْ عَـٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ ﴿٣﴾
اور جس (خدا) کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے
وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٌۭ مَّا عَبَدتُّمْ ﴿٤﴾
اور (میں پھر کہتا ہوں کہ) جن کی تم پرستش کرتے ہوں ان کی میں پرستش کرنے والا نہیں ہوں
وَلَآ أَنتُمْ عَـٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ ﴿٥﴾
اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے (معلوم ہوتے) ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِىَ دِينِ ﴿٦﴾
تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر
إِذَا جَآءَ نَصْرُ ٱللَّهِ وَٱلْفَتْحُ ﴿١﴾
جب خدا کی مدد آ پہنچی اور فتح (حاصل ہو گئی)
وَرَأَيْتَ ٱلنَّاسَ يَدْخُلُونَ فِى دِينِ ٱللَّهِ أَفْوَاجًۭا ﴿٢﴾
اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَٱسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابًۢا ﴿٣﴾
تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ معاف کرنے والا ہے
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍۢ وَتَبَّ ﴿١﴾
ابولہب کے ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو
مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ ﴿٢﴾
نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا
سَيَصْلَىٰ نَارًۭا ذَاتَ لَهَبٍۢ ﴿٣﴾
وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا
وَٱمْرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلْحَطَبِ ﴿٤﴾
اور اس کی جورو بھی جو ایندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے
فِى جِيدِهَا حَبْلٌۭ مِّن مَّسَدٍۭ ﴿٥﴾
اس کے گلے میں مونج کی رسّی ہو گی
قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ ﴿١﴾
کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے
ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ ﴿٢﴾
معبود برحق جو بےنیاز ہے
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾
نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا
وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ ﴿٤﴾
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ ﴿١﴾
کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿٢﴾
ہر چیز کی بدی سے جو اس نے پیدا کی
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿٣﴾
اور شب تاریکی کی برائی سے جب اس کااندھیرا چھا جائے
وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ ﴿٤﴾
اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿٥﴾
اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ ﴿١﴾
کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں
مَلِكِ ٱلنَّاسِ ﴿٢﴾
(یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی
إِلَـٰهِ ٱلنَّاسِ ﴿٣﴾
لوگوں کے معبود برحق کی
مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ ﴿٤﴾
(شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے
ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ ﴿٥﴾
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے
مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ ﴿٦﴾
وہ جنّات میں سے (ہو) یا انسانوں میں سے