النبإ · جُز 30
جائیں
نشانیاں
قاری
چلانے کی رفتار
آیت کا اعادہ
دہرائیں
خودکار اسکرول
ترجمہ
عربی فونٹ
متن کا حجم
عربی
ترجمہ
حفظ کرنے کا حد
اعادہ
ہر آیت
مکمل لوپ
بنیادی قاری
جاری - A-B لوپ /

قرآن کا حزب 59 پڑھیں

حزب 59 جُز 30 کا حصہ ہے۔ اس میں مصحف کے 23 صفحات پر 276 آیات ہیں۔

10 جولائی 2026 کو 03:52 بجے اپڈیٹ کیا گیا

صفحہ 582
حزب 59
سورة النبإ
جُز 30 0.0% (0/564)
حزب 59 0.0% (0/276)

عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ ﴿١﴾

(یہ) لوگ کس چیز کی نسبت پوچھتے ہیں؟

عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلْعَظِيمِ ﴿٢﴾

(کیا) بڑی خبر کی نسبت؟

ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ ﴿٣﴾

جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ﴿٤﴾

دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ﴿٥﴾

پھر دیکھو یہ عنقریب جان لیں گے

أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ مِهَـٰدًۭا ﴿٦﴾

کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا

وَٱلْجِبَالَ أَوْتَادًۭا ﴿٧﴾

اور پہاڑوں کو (ا س کی) میخیں (نہیں ٹھہرایا؟)

وَخَلَقْنَـٰكُمْ أَزْوَٰجًۭا ﴿٨﴾

(بے شک بنایا) اور تم کو جوڑا جوڑابھی پیدا کیا

وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًۭا ﴿٩﴾

اور نیند کو تمہارے لیے (موجب) آرام بنایا

وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِبَاسًۭا ﴿١٠﴾

اور رات کو پردہ مقرر کیا

وَجَعَلْنَا ٱلنَّهَارَ مَعَاشًۭا ﴿١١﴾

اور دن کو معاش (کا وقت) قرار دیا

وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًۭا شِدَادًۭا ﴿١٢﴾

اور تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے

وَجَعَلْنَا سِرَاجًۭا وَهَّاجًۭا ﴿١٣﴾

اور (آفتاب کا) روشن چراغ بنایا

وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلْمُعْصِرَٰتِ مَآءًۭ ثَجَّاجًۭا ﴿١٤﴾

اور نچڑتے بادلوں سے موسلا دھار مینہ برسایا

لِّنُخْرِجَ بِهِۦ حَبًّۭا وَنَبَاتًۭا ﴿١٥﴾

تاکہ اس سے اناج اور سبزہ پیدا کریں

وَجَنَّـٰتٍ أَلْفَافًا ﴿١٦﴾

اور گھنے گھنے باغ

إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ كَانَ مِيقَـٰتًۭا ﴿١٧﴾

بےشک فیصلہ کا دن مقرر ہے

يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًۭا ﴿١٨﴾

جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم لوگ غٹ کے غٹ آ موجود ہو گے

وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَٰبًۭا ﴿١٩﴾

اور آسمان کھولا جائے گا تو (اس میں) دروازے ہو جائیں گے

وَسُيِّرَتِ ٱلْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا ﴿٢٠﴾

اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ریت ہو کر رہ جائیں گے

إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًۭا ﴿٢١﴾

بےشک دوزخ گھات میں ہے

لِّلطَّـٰغِينَ مَـَٔابًۭا ﴿٢٢﴾

(یعنی) سرکشوں کا وہی ٹھکانہ ہے

لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحْقَابًۭا ﴿٢٣﴾

اس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے

لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًۭا وَلَا شَرَابًا ﴿٢٤﴾

وہاں نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے۔ نہ (کچھ) پینا (نصیب ہو گا)

إِلَّا حَمِيمًۭا وَغَسَّاقًۭا ﴿٢٥﴾

مگر گرم پانی اور بہتی پیپ

جَزَآءًۭ وِفَاقًا ﴿٢٦﴾

(یہ) بدلہ ہے پورا پورا

إِنَّهُمْ كَانُوا۟ لَا يَرْجُونَ حِسَابًۭا ﴿٢٧﴾

یہ لوگ حساب (آخرت) کی امید ہی نہیں رکھتے تھے

وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا كِذَّابًۭا ﴿٢٨﴾

اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلاتے رہتے تھے

وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَـٰهُ كِتَـٰبًۭا ﴿٢٩﴾

اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر ضبط کر رکھا ہے

فَذُوقُوا۟ فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا ﴿٣٠﴾

سو (اب) مزہ چکھو۔ ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے

صفحہ 583
حزب 59
سورة النبإ
جُز 30 5.3% (30/564)
حزب 59 10.9% (30/276)

إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ﴿٣١﴾

بے شک پرہیز گاروں کے لیے کامیابی ہے

حَدَآئِقَ وَأَعْنَـٰبًۭا ﴿٣٢﴾

(یعنی) باغ اور انگور

وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًۭا ﴿٣٣﴾

اور ہم عمر نوجوان عورتیں

وَكَأْسًۭا دِهَاقًۭا ﴿٣٤﴾

اور شراب کے چھلکتے ہوئے گلاس

لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًۭا وَلَا كِذَّٰبًۭا ﴿٣٥﴾

وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ (خرافات)

جَزَآءًۭ مِّن رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًۭا ﴿٣٦﴾

یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے صلہ ہے انعام کثیر

رَّبِّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٱلرَّحْمَـٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًۭا ﴿٣٧﴾

وہ جو آسمانوں اور زمین اور جو ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے بڑا مہربان کسی کو اس سے بات کرنے کا یارا نہیں ہوگا

يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ صَفًّۭا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًۭا ﴿٣٨﴾

جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو (خدائے رحمٰن) اجازت بخشے اور اس نے بات بھی درست کہی ہو

ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا ﴿٣٩﴾

یہ دن برحق ہے۔ پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانہ بنا ئے

إِنَّآ أَنذَرْنَـٰكُمْ عَذَابًۭا قَرِيبًۭا يَوْمَ يَنظُرُ ٱلْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلْكَافِرُ يَـٰلَيْتَنِى كُنتُ تُرَٰبًۢا ﴿٤٠﴾

ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کر دیا ہے جس دن ہر شخص ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا

وَٱلنَّـٰزِعَـٰتِ غَرْقًۭا ﴿١﴾

ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

وَٱلنَّـٰشِطَـٰتِ نَشْطًۭا ﴿٢﴾

اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

وَٱلسَّـٰبِحَـٰتِ سَبْحًۭا ﴿٣﴾

اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں

فَٱلسَّـٰبِقَـٰتِ سَبْقًۭا ﴿٤﴾

پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں

فَٱلْمُدَبِّرَٰتِ أَمْرًۭا ﴿٥﴾

پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں

يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ ﴿٦﴾

(کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

تَتْبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ ﴿٧﴾

پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا

قُلُوبٌۭ يَوْمَئِذٍۢ وَاجِفَةٌ ﴿٨﴾

اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

أَبْصَـٰرُهَا خَـٰشِعَةٌۭ ﴿٩﴾

اور آنکھیں جھکی ہوئی

يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِى ٱلْحَافِرَةِ ﴿١٠﴾

(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹ جائیں گے

أَءِذَا كُنَّا عِظَـٰمًۭا نَّخِرَةًۭ ﴿١١﴾

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کئے جائیں گے)

قَالُوا۟ تِلْكَ إِذًۭا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۭ ﴿١٢﴾

کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے

فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌۭ وَٰحِدَةٌۭ ﴿١٣﴾

وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی

فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ ﴿١٤﴾

اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے

هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ ﴿١٥﴾

بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے

صفحہ 584
حزب 59
سورة النازعات
جُز 30 9.8% (55/564)
حزب 59 19.9% (55/276)

إِذْ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٦﴾

جب اُن کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طویٰ میں پکارا

ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ﴿١٧﴾

(اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے

فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾

اور (اس سے) کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے؟

وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ ﴿١٩﴾

اور میں تجھے تیرے پروردگار کا رستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو

فَأَرَىٰهُ ٱلْـَٔايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ ﴿٢٠﴾

غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی

فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ﴿٢١﴾

مگر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ ﴿٢٢﴾

پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا

فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ﴿٢٣﴾

اور (لوگوں کو) اکٹھا کیا اور پکارا

فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ ﴿٢٤﴾

کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں

فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْـَٔاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ ﴿٢٥﴾

تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّمَن يَخْشَىٰٓ ﴿٢٦﴾

جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے) میں عبرت ہے

ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا ﴿٢٧﴾

بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا ﴿٢٨﴾

اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا

وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا ﴿٢٩﴾

اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی

وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ ﴿٣٠﴾

اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا ﴿٣١﴾

اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا

وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا ﴿٣٢﴾

اور اس پر پہاڑوں کابوجھ رکھ دیا

مَتَـٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ ﴿٣٣﴾

یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لیے (کیا)

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ ﴿٣٤﴾

تو جب بڑی آفت آئے گی

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا سَعَىٰ ﴿٣٥﴾

اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا

وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ ﴿٣٦﴾

اور دوزخ دیکھنے والے کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ﴿٣٧﴾

تو جس نے سرکشی کی

وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ﴿٣٨﴾

اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا

فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ﴿٣٩﴾

اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ ﴿٤٠﴾

اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہا

فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ﴿٤١﴾

اس کا ٹھکانہ بہشت ہے

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ﴿٤٢﴾

(اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟

فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ ﴿٤٣﴾

سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو

إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ﴿٤٤﴾

اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)

إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا ﴿٤٥﴾

جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو

كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا ﴿٤٦﴾

جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کریں گے) کہ گویا (دنیا میں صرف) ایک شام یا صبح رہے تھے

صفحہ 585
حزب 59
سورة عبس
جُز 30 15.2% (86/564)
حزب 59 31.2% (86/276)

عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ ﴿١﴾

(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ ﴿٢﴾

کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ ﴿٣﴾

اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا

أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ ﴿٤﴾

یا سوچتا تو سمجھانا اسے فائدہ دیتا

أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ ﴿٥﴾

جو پروا نہیں کرتا

فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ ﴿٦﴾

اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ ﴿٧﴾

حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ (الزام) نہیں

وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ ﴿٨﴾

اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا

وَهُوَ يَخْشَىٰ ﴿٩﴾

اور (خدا سے) ڈرتا ہے

فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ ﴿١٠﴾

اس سے تم بےرخی کرتے ہو

كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌۭ ﴿١١﴾

دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے

فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ ﴿١٢﴾

پس جو چاہے اسے یاد رکھے

فِى صُحُفٍۢ مُّكَرَّمَةٍۢ ﴿١٣﴾

قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)

مَّرْفُوعَةٍۢ مُّطَهَّرَةٍۭ ﴿١٤﴾

جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں

بِأَيْدِى سَفَرَةٍۢ ﴿١٥﴾

لکھنے والوں کے ہاتھوں میں

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍۢ ﴿١٦﴾

جو سردار اور نیکو کار ہیں

قُتِلَ ٱلْإِنسَـٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ ﴿١٧﴾

انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے

مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ ﴿١٨﴾

اُسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا؟

مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ ﴿١٩﴾

نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا

ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ ﴿٢٠﴾

پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا

ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ ﴿٢١﴾

پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا

ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ ﴿٢٢﴾

پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ ﴿٢٣﴾

کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہ کیا

فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَـٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ ﴿٢٤﴾

تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے

أَنَّا صَبَبْنَا ٱلْمَآءَ صَبًّۭا ﴿٢٥﴾

بے شک ہم ہی نے پانی برسایا

ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّۭا ﴿٢٦﴾

پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا

فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا حَبًّۭا ﴿٢٧﴾

پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا

وَعِنَبًۭا وَقَضْبًۭا ﴿٢٨﴾

اور انگور اور ترکاری

وَزَيْتُونًۭا وَنَخْلًۭا ﴿٢٩﴾

اور زیتون اور کھجوریں

وَحَدَآئِقَ غُلْبًۭا ﴿٣٠﴾

اور گھنے گھنے باغ

وَفَـٰكِهَةًۭ وَأَبًّۭا ﴿٣١﴾

اور میوے اور چارا

مَّتَـٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ ﴿٣٢﴾

(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ ﴿٣٣﴾

تو جب (قیامت کا) غل مچے گا

يَوْمَ يَفِرُّ ٱلْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ﴿٣٤﴾

اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا

وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ ﴿٣٥﴾

اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے

وَصَـٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ ﴿٣٦﴾

اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے

لِكُلِّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍۢ شَأْنٌۭ يُغْنِيهِ ﴿٣٧﴾

ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو اسے (مصروفیت کے لیے) بس کرے گا

وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ مُّسْفِرَةٌۭ ﴿٣٨﴾

اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے

ضَاحِكَةٌۭ مُّسْتَبْشِرَةٌۭ ﴿٣٩﴾

خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں)

وَوُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌۭ ﴿٤٠﴾

اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑ رہی ہو گی

تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ ﴿٤١﴾

(اور) سیاہی چڑھ رہی ہو گی

أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَفَرَةُ ٱلْفَجَرَةُ ﴿٤٢﴾

یہ کفار بدکردار ہیں

صفحہ 586
حزب 59
سورة التكوير
جُز 30 22.7% (128/564)
حزب 59 46.4% (128/276)

إِذَا ٱلشَّمْسُ كُوِّرَتْ ﴿١﴾

جب سورج لپیٹ لیا جائے گا

وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتْ ﴿٢﴾

جب تارے بےنور ہو جائیں گے

وَإِذَا ٱلْجِبَالُ سُيِّرَتْ ﴿٣﴾

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

وَإِذَا ٱلْعِشَارُ عُطِّلَتْ ﴿٤﴾

اور جب بیانے والی اونٹنیاں بےکار ہو جائیں گی

وَإِذَا ٱلْوُحُوشُ حُشِرَتْ ﴿٥﴾

اور جب وحشی جانور جمع اکٹھے ہو جائیں گے

وَإِذَا ٱلْبِحَارُ سُجِّرَتْ ﴿٦﴾

اور جب دریا آگ ہو جائیں گے

وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتْ ﴿٧﴾

اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی

وَإِذَا ٱلْمَوْءُۥدَةُ سُئِلَتْ ﴿٨﴾

اور جب لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا

بِأَىِّ ذَنۢبٍۢ قُتِلَتْ ﴿٩﴾

کہ وہ کس گناہ پرماری گئی

وَإِذَا ٱلصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴿١٠﴾

اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے

وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ كُشِطَتْ ﴿١١﴾

اور جب آسمانوں کی کھال کھینچ لی جائے گی

وَإِذَا ٱلْجَحِيمُ سُعِّرَتْ ﴿١٢﴾

اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی

وَإِذَا ٱلْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ ﴿١٣﴾

اور بہشت جب قریب لائی جائے گی

عَلِمَتْ نَفْسٌۭ مَّآ أَحْضَرَتْ ﴿١٤﴾

تب ہر شخص معلوم کر لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلْخُنَّسِ ﴿١٥﴾

ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں

ٱلْجَوَارِ ٱلْكُنَّسِ ﴿١٦﴾

(اور) جو سیر کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں

وَٱلَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ ﴿١٧﴾

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

وَٱلصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ﴿١٨﴾

اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے

إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍۢ كَرِيمٍۢ ﴿١٩﴾

کہ بےشک یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى ٱلْعَرْشِ مَكِينٍۢ ﴿٢٠﴾

جو صاحب قوت مالک عرش کے ہاں اونچے درجے والا ہے

مُّطَاعٍۢ ثَمَّ أَمِينٍۢ ﴿٢١﴾

سردار (اور) امانت دار ہے

وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍۢ ﴿٢٢﴾

اور (مکے والو) تمہارے رفیق (یعنی محمدﷺ) دیوانے نہیں ہیں

وَلَقَدْ رَءَاهُ بِٱلْأُفُقِ ٱلْمُبِينِ ﴿٢٣﴾

بےشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے

وَمَا هُوَ عَلَى ٱلْغَيْبِ بِضَنِينٍۢ ﴿٢٤﴾

اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں

وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَـٰنٍۢ رَّجِيمٍۢ ﴿٢٥﴾

اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں

فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ ﴿٢٦﴾

پھر تم کدھر جا رہے ہو

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ لِّلْعَـٰلَمِينَ ﴿٢٧﴾

یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے

لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ ﴿٢٨﴾

(یعنی) اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے

وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ﴿٢٩﴾

اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العالمین چاہے

صفحہ 587
حزب 59
سورة الإنفطار
جُز 30 27.8% (157/564)
حزب 59 56.9% (157/276)

إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتْ ﴿١﴾

جب آسمان پھٹ جائے گا

وَإِذَا ٱلْكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتْ ﴿٢﴾

اور جب تارے جھڑ پڑیں گے

وَإِذَا ٱلْبِحَارُ فُجِّرَتْ ﴿٣﴾

اور جب دریا بہہ (کر ایک دوسرے سے مل) جائیں گے

وَإِذَا ٱلْقُبُورُ بُعْثِرَتْ ﴿٤﴾

اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی

عَلِمَتْ نَفْسٌۭ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ ﴿٥﴾

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا تھا اور پیچھے کیا چھوڑا تھا

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَـٰنُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ٱلْكَرِيمِ ﴿٦﴾

اے انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دھوکا دیا

ٱلَّذِى خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ ﴿٧﴾

(وہی تو ہے) جس نے تجھے بنایا اور (تیرے اعضا کو) ٹھیک کیا اور (تیرے قامت کو) معتدل رکھا

فِىٓ أَىِّ صُورَةٍۢ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ ﴿٨﴾

اور جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ ﴿٩﴾

مگر ہیہات تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو

وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَـٰفِظِينَ ﴿١٠﴾

حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں

كِرَامًۭا كَـٰتِبِينَ ﴿١١﴾

عالی قدر (تمہاری باتوں کے) لکھنے والے

يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ﴿١٢﴾

جو تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں

إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍۢ ﴿١٣﴾

بے شک نیکوکار نعمتوں (کی بہشت) میں ہوں گے۔

وَإِنَّ ٱلْفُجَّارَ لَفِى جَحِيمٍۢ ﴿١٤﴾

اور بدکردار دوزخ میں

يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ ٱلدِّينِ ﴿١٥﴾

(یعنی) جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِينَ ﴿١٦﴾

اور اس سے چھپ نہیں سکیں گے

وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ ﴿١٧﴾

اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے؟

ثُمَّ مَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ ﴿١٨﴾

پھر تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے؟

يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌۭ لِّنَفْسٍۢ شَيْـًۭٔا ۖ وَٱلْأَمْرُ يَوْمَئِذٍۢ لِّلَّهِ ﴿١٩﴾

جس روز کوئی کسی کا بھلا نہ کر سکے گا اور حکم اس روز خدا ہی کا ہو گا

وَيْلٌۭ لِّلْمُطَفِّفِينَ ﴿١﴾

ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے

ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكْتَالُوا۟ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ﴿٢﴾

جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں

وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ ﴿٣﴾

اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو کم کر دیں

أَلَا يَظُنُّ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ ﴿٤﴾

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اٹھائے بھی جائیں گے

لِيَوْمٍ عَظِيمٍۢ ﴿٥﴾

(یعنی) ایک بڑے (سخت) دن میں

يَوْمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ﴿٦﴾

جس دن (تمام) لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

صفحہ 588
حزب 59
سورة المطففين
جُز 30 32.3% (182/564)
حزب 59 65.9% (182/276)

كَلَّآ إِنَّ كِتَـٰبَ ٱلْفُجَّارِ لَفِى سِجِّينٍۢ ﴿٧﴾

سن رکھو کہ بدکارروں کے اعمال سجّین میں ہیں

وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سِجِّينٌۭ ﴿٨﴾

اور تم کیا جانتے ہوں کہ سجّین کیا چیز ہے؟

كِتَـٰبٌۭ مَّرْقُومٌۭ ﴿٩﴾

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٠﴾

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ ﴿١١﴾

(یعنی) جو انصاف کے دن کو جھٹلاتے ہیں

وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿١٢﴾

اور اس کو جھٹلاتا وہی ہے جو حد سے نکل جانے والا گنہگار ہے

إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا قَالَ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿١٣﴾

جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ﴿١٤﴾

دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے

كَلَّآ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ لَّمَحْجُوبُونَ ﴿١٥﴾

بےشک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے

ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا۟ ٱلْجَحِيمِ ﴿١٦﴾

پھر دوزخ میں جا داخل ہوں گے

ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ﴿١٧﴾

پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے

كَلَّآ إِنَّ كِتَـٰبَ ٱلْأَبْرَارِ لَفِى عِلِّيِّينَ ﴿١٨﴾

(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں

وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا عِلِّيُّونَ ﴿١٩﴾

اور تم کو کیا معلوم کہ علیین کیا چیز ہے؟

كِتَـٰبٌۭ مَّرْقُومٌۭ ﴿٢٠﴾

ایک دفتر ہے لکھا ہوا

يَشْهَدُهُ ٱلْمُقَرَّبُونَ ﴿٢١﴾

جس کے پاس مقرب (فرشتے) حاضر رہتے ہیں

إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍ ﴿٢٢﴾

بےشک نیک لوگ چین میں ہوں گے

عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ ﴿٢٣﴾

تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے

تَعْرِفُ فِى وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ ٱلنَّعِيمِ ﴿٢٤﴾

تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کر لو گے

يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍۢ مَّخْتُومٍ ﴿٢٥﴾

ان کو خالص شراب سربمہر پلائی جائے گی

خِتَـٰمُهُۥ مِسْكٌۭ ۚ وَفِى ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ ٱلْمُتَنَـٰفِسُونَ ﴿٢٦﴾

جس کی مہر مشک کی ہو گی تو (نعمتوں کے) شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں

وَمِزَاجُهُۥ مِن تَسْنِيمٍ ﴿٢٧﴾

اور اس میں تسنیم (کے پانی) کی آمیزش ہو گی

عَيْنًۭا يَشْرَبُ بِهَا ٱلْمُقَرَّبُونَ ﴿٢٨﴾

وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے (خدا کے) مقرب پیئیں گے

إِنَّ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ كَانُوا۟ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يَضْحَكُونَ ﴿٢٩﴾

جو گنہگار (یعنی کفار) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے

وَإِذَا مَرُّوا۟ بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ ﴿٣٠﴾

اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے

وَإِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمُ ٱنقَلَبُوا۟ فَكِهِينَ ﴿٣١﴾

اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے

وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّونَ ﴿٣٢﴾

اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں

وَمَآ أُرْسِلُوا۟ عَلَيْهِمْ حَـٰفِظِينَ ﴿٣٣﴾

حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے

فَٱلْيَوْمَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنَ ٱلْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ ﴿٣٤﴾

تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے

صفحہ 589
حزب 59
سورة المطففين
جُز 30 37.2% (210/564)
حزب 59 76.1% (210/276)

عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ ﴿٣٥﴾

(اور) تختوں پر (بیٹھے ہوئے ان کا حال) دیکھ رہے ہوں گے

هَلْ ثُوِّبَ ٱلْكُفَّارُ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ﴿٣٦﴾

تو کافروں کو ان کے عملوں کا (پورا پورا) بدلہ مل گیا

إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتْ ﴿١﴾

جب آسمان پھٹ جائے گا

وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ﴿٢﴾

اور اپنے پروردگار کا فرمان بجا لائے گا اور اسے واجب بھی یہ ہی ہے

وَإِذَا ٱلْأَرْضُ مُدَّتْ ﴿٣﴾

اور جب زمین ہموار کر دی جائے گی

وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ ﴿٤﴾

جو کچھ اس میں ہے اسے نکال کر باہر ڈال دے گی اور (بالکل) خالی ہو جائے گی

وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ﴿٥﴾

اور اپنے پروردگار کے ارشاد کی تعمیل کرے گی اور اس کو لازم بھی یہی ہے (تو قیامت قائم ہو جائے گی)

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَـٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًۭا فَمُلَـٰقِيهِ ﴿٦﴾

اے انسان! تو اپنے پروردگار کی طرف (پہنچنے میں) خوب کوشِش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا

فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ ﴿٧﴾

تو جس کا نامہٴ (اعمال) اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا

فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًۭا يَسِيرًۭا ﴿٨﴾

اس سے حساب آسان لیا جائے گا

وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًۭا ﴿٩﴾

اور وہ اپنے گھر والوں میں خوش خوش آئے گا

وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ وَرَآءَ ظَهْرِهِۦ ﴿١٠﴾

اور جس کا نامہٴ (اعمال) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا

فَسَوْفَ يَدْعُوا۟ ثُبُورًۭا ﴿١١﴾

وہ موت کو پکارے گا

وَيَصْلَىٰ سَعِيرًا ﴿١٢﴾

اور وہ دوزخ میں داخل ہو گا

إِنَّهُۥ كَانَ فِىٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًا ﴿١٣﴾

یہ اپنے اہل (و عیال) میں مست رہتا تھا

إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ ﴿١٤﴾

اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا

بَلَىٰٓ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرًۭا ﴿١٥﴾

ہاں ہاں۔ اس کا پروردگار اس کو دیکھ رہا تھا

فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلشَّفَقِ ﴿١٦﴾

ہمیں شام کی سرخی کی قسم

وَٱلَّيْلِ وَمَا وَسَقَ ﴿١٧﴾

اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ اکٹھا کر لیتی ہے ان کی

وَٱلْقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ ﴿١٨﴾

اور چاند کی جب کامل ہو جائے

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍۢ ﴿١٩﴾

کہ تم درجہ بدرجہ (رتبہٴ اعلیٰ پر) چڑھو گے

فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٢٠﴾

تو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایمان نہیں لاتے

وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ ٱلْقُرْءَانُ لَا يَسْجُدُونَ ۩ ﴿٢١﴾

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے

بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُكَذِّبُونَ ﴿٢٢﴾

بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں

وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ ﴿٢٣﴾

اور خدا ان باتوں کو جو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں خوب جانتا ہے

فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٢٤﴾

تو ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍۭ ﴿٢٥﴾

ہاں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے بےانتہا اجر ہے

صفحہ 590
حزب 59
سورة البروج
جُز 30 42.0% (237/564)
حزب 59 85.9% (237/276)

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْبُرُوجِ ﴿١﴾

آسمان کی قسم جس میں برج ہیں

وَٱلْيَوْمِ ٱلْمَوْعُودِ ﴿٢﴾

اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے

وَشَاهِدٍۢ وَمَشْهُودٍۢ ﴿٣﴾

اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اسکی

قُتِلَ أَصْحَـٰبُ ٱلْأُخْدُودِ ﴿٤﴾

کہ خندقوں (کے کھودنے) والے ہلاک کر دیئے گئے

ٱلنَّارِ ذَاتِ ٱلْوَقُودِ ﴿٥﴾

(یعنی) آگ (کی خندقیں) جس میں ایندھن (جھونک رکھا) تھا

إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌۭ ﴿٦﴾

جب کہ وہ ان (کے کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے

وَهُمْ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌۭ ﴿٧﴾

اور جو (سختیاں) اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے

وَمَا نَقَمُوا۟ مِنْهُمْ إِلَّآ أَن يُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ ﴿٨﴾

ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے

ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ ﴿٩﴾

وہی جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُوا۟ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا۟ فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ ٱلْحَرِيقِ ﴿١٠﴾

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُمْ جَنَّـٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْكَبِيرُ ﴿١١﴾

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ ہی بڑی کامیابی ہے

إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ ﴿١٢﴾

بےشک تمہارے پروردگار کی پکڑ بڑی سخت ہے

إِنَّهُۥ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ ﴿١٣﴾

وہی پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ (زندہ) کرے گا

وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلْوَدُودُ ﴿١٤﴾

اور وہ بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے

ذُو ٱلْعَرْشِ ٱلْمَجِيدُ ﴿١٥﴾

عرش کا مالک بڑی شان والا

فَعَّالٌۭ لِّمَا يُرِيدُ ﴿١٦﴾

جو چاہتا ہے کر دیتا ہے

هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْجُنُودِ ﴿١٧﴾

بھلا تم کو لشکروں کا حال معلوم ہوا ہے

فِرْعَوْنَ وَثَمُودَ ﴿١٨﴾

(یعنی) فرعون اور ثمود کا

بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى تَكْذِيبٍۢ ﴿١٩﴾

لیکن کافر (جان بوجھ کر) تکذیب میں (گرفتار) ہیں

وَٱللَّهُ مِن وَرَآئِهِم مُّحِيطٌۢ ﴿٢٠﴾

اور خدا (بھی) ان کو گردا گرد سے گھیرے ہوئے ہے

بَلْ هُوَ قُرْءَانٌۭ مَّجِيدٌۭ ﴿٢١﴾

(یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے

فِى لَوْحٍۢ مَّحْفُوظٍۭ ﴿٢٢﴾

لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)

صفحہ 591
حزب 59
سورة الطارق
جُز 30 45.9% (259/564)
حزب 59 93.8% (259/276)

وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ ﴿١﴾

آسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم

وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ ﴿٢﴾

اور تم کو کیا معلوم کہ رات کے وقت آنے والا کیا ہے

ٱلنَّجْمُ ٱلثَّاقِبُ ﴿٣﴾

وہ تارا ہے چمکنے والا

إِن كُلُّ نَفْسٍۢ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌۭ ﴿٤﴾

کہ کوئی متنفس نہیں جس پر نگہبان مقرر نہیں

فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَـٰنُ مِمَّ خُلِقَ ﴿٥﴾

تو انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کاہے سے پیدا ہوا ہے

خُلِقَ مِن مَّآءٍۢ دَافِقٍۢ ﴿٦﴾

وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے

يَخْرُجُ مِنۢ بَيْنِ ٱلصُّلْبِ وَٱلتَّرَآئِبِ ﴿٧﴾

جو پیٹھ اور سینے کے بیچ میں سے نکلتا ہے

إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجْعِهِۦ لَقَادِرٌۭ ﴿٨﴾

بےشک خدا اس کے اعادے (یعنی پھر پیدا کرنے) پر قادر ہے

يَوْمَ تُبْلَى ٱلسَّرَآئِرُ ﴿٩﴾

جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے

فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةٍۢ وَلَا نَاصِرٍۢ ﴿١٠﴾

تو انسان کی کچھ پیش نہ چل سکے گی اور نہ کوئی اس کا مددگار ہو گا

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلرَّجْعِ ﴿١١﴾

آسمان کی قسم جو مینہ برساتا ہے

وَٱلْأَرْضِ ذَاتِ ٱلصَّدْعِ ﴿١٢﴾

اور زمین کی قسم جو پھٹ جاتی ہے

إِنَّهُۥ لَقَوْلٌۭ فَصْلٌۭ ﴿١٣﴾

کہ یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے

وَمَا هُوَ بِٱلْهَزْلِ ﴿١٤﴾

اور بیہودہ بات نہیں ہے

إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًۭا ﴿١٥﴾

یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگ رہے ہیں

وَأَكِيدُ كَيْدًۭا ﴿١٦﴾

اور ہم اپنی تدبیر کر رہے ہیں

فَمَهِّلِ ٱلْكَـٰفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًۢا ﴿١٧﴾

تو تم کافروں کو مہلت دو بس چند روز ہی مہلت دو

بسم الله الرحمن الرحيم جمعہ 24 محرم
الجمعة 24 محرّم
هلال متناقص گھٹتا ہوا ہلال دن 25.1 / 29.5
روشنی 21%
نیا چاند 4 دنوں میں
الحمد لله اللہ کی حمد