قرآن کا رکوع 455 پڑھیں

رکوع 455 سورت Adh-Dhariyat (آیات 1–23) سے لیا گیا ہے۔ اس میں 23 آیات ہیں اور یہ جُز 26 میں شامل ہے۔

05 اگست 2026 کو 16:34 بجے اپڈیٹ کیا گیا

قرآن میں رکوع 455

23
آیات
1
سورت
26
جُز
v.1 – v.23
آیات

رکوع 455 میں سورتیں

الذاريات · جُز 26
صفحہ 520
رکوع 455
سورة ق
جُز 26 84.6% (165/195)
حزب 52 71.4% (75/105)

وَٱلذَّٰرِيَـٰتِ ذَرْوًۭا ﴿١﴾

بکھیرنے والیوں کی قسم جو اُڑا کر بکھیر دیتی ہیں

فَٱلْحَـٰمِلَـٰتِ وِقْرًۭا ﴿٢﴾

پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں

فَٱلْجَـٰرِيَـٰتِ يُسْرًۭا ﴿٣﴾

پھر آہستہ آہستہ چلتی ہیں

فَٱلْمُقَسِّمَـٰتِ أَمْرًا ﴿٤﴾

پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌۭ ﴿٥﴾

کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے

وَإِنَّ ٱلدِّينَ لَوَٰقِعٌۭ ﴿٦﴾

اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْحُبُكِ ﴿٧﴾

اور آسمان کی قسم جس میں رسے ہیں

إِنَّكُمْ لَفِى قَوْلٍۢ مُّخْتَلِفٍۢ ﴿٨﴾

کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو

يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ ﴿٩﴾

اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے

قُتِلَ ٱلْخَرَّٰصُونَ ﴿١٠﴾

اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں

ٱلَّذِينَ هُمْ فِى غَمْرَةٍۢ سَاهُونَ ﴿١١﴾

جو بےخبری میں بھولے ہوئے ہیں

يَسْـَٔلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلدِّينِ ﴿١٢﴾

پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا؟

يَوْمَ هُمْ عَلَى ٱلنَّارِ يُفْتَنُونَ ﴿١٣﴾

اُس دن (ہوگا) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا

ذُوقُوا۟ فِتْنَتَكُمْ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ ﴿١٤﴾

اب اپنی شرارت کا مزہ چکھو۔ یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـٰتٍۢ وَعُيُونٍ ﴿١٥﴾

بےشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے

ءَاخِذِينَ مَآ ءَاتَىٰهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ ﴿١٦﴾

اور) جو جو (نعمتیں) ان کا پروردگار انہیں دیتا ہوگا ان کو لے رہے ہوں گے۔ بےشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے

كَانُوا۟ قَلِيلًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ﴿١٧﴾

رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے

وَبِٱلْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ﴿١٨﴾

اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے

وَفِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّۭ لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ ﴿١٩﴾

اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا

وَفِى ٱلْأَرْضِ ءَايَـٰتٌۭ لِّلْمُوقِنِينَ ﴿٢٠﴾

اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

وَفِىٓ أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ﴿٢١﴾

اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟

وَفِى ٱلسَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ﴿٢٢﴾

اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے

فَوَرَبِّ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ إِنَّهُۥ لَحَقٌّۭ مِّثْلَ مَآ أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ ﴿٢٣﴾

تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم! یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو

بسم الله الرحمن الرحيم ہفتہ 8 ربیع الاول
السبت 8 ربيع الأول
التربيع الأول پہلی سہ ماہی دن 9.2 / 29.5
روشنی 69%
پورا چاند 6 دنوں میں
سبحان الله وبحمده اللہ کی تسبیح اور حمد