رکوع 502 سورت Al-Maarij (آیات 1–35) سے لیا گیا ہے۔ اس میں 35 آیات ہیں اور یہ جُز 29 میں شامل ہے۔
05 اگست 2026 کو 16:34 بجے اپڈیٹ کیا گیا
پورا صفحہ پڑھیں : قرآن کا رکوع 502 پڑھیں →
سَأَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍۢ وَاقِعٍۢ ﴿١﴾
ایک طلب کرنے والے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہے گا
لِّلْكَـٰفِرِينَ لَيْسَ لَهُۥ دَافِعٌۭ ﴿٢﴾
(یعنی) کافروں پر (اور) کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا
مِّنَ ٱللَّهِ ذِى ٱلْمَعَارِجِ ﴿٣﴾
(اور وہ) خدائے صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہوگا)
تَعْرُجُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍۢ كَانَ مِقْدَارُهُۥ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍۢ ﴿٤﴾
جس کی طرف روح (الامین) اور فرشتے پڑھتے ہیں (اور) اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا
فَٱصْبِرْ صَبْرًۭا جَمِيلًا ﴿٥﴾
(تو تم کافروں کی باتوں کو) قوت کے ساتھ برداشت کرتے رہو
إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُۥ بَعِيدًۭا ﴿٦﴾
وہ ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے
وَنَرَىٰهُ قَرِيبًۭا ﴿٧﴾
اور ہماری نظر میں نزدیک
يَوْمَ تَكُونُ ٱلسَّمَآءُ كَٱلْمُهْلِ ﴿٨﴾
جس دن آسمان ایسا ہو جائے گا جیسے پگھلا ہوا تانبا
وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ﴿٩﴾
اور پہاڑ (ایسے) جیسے (دھنکی ہوئی) رنگین اون
وَلَا يَسْـَٔلُ حَمِيمٌ حَمِيمًۭا ﴿١٠﴾
اور کوئی دوست کسی دوست کا پرسان نہ ہوگا
يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ ٱلْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِى مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍۭ بِبَنِيهِ ﴿١١﴾
ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے (اس روز) گنہگار خواہش کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں (سب کچھ) دے دے یعنی اپنے بیٹے
وَصَـٰحِبَتِهِۦ وَأَخِيهِ ﴿١٢﴾
اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی
وَفَصِيلَتِهِ ٱلَّتِى تُـْٔوِيهِ ﴿١٣﴾
اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا
وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ثُمَّ يُنجِيهِ ﴿١٤﴾
اور جتنے آدمی زمین میں ہیں (غرض) سب (کچھ دے دے) اور اپنے تئیں عذاب سے چھڑا لے
كَلَّآ ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ ﴿١٥﴾
(لیکن) ایسا ہرگز نہیں ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے
نَزَّاعَةًۭ لِّلشَّوَىٰ ﴿١٦﴾
کھال ادھیڑ ڈالنے والی
تَدْعُوا۟ مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّىٰ ﴿١٧﴾
ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے (دین حق سے) اعراض کیا
وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰٓ ﴿١٨﴾
اور (مال) جمع کیا اور بند کر رکھا
۞ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ خُلِقَ هَلُوعًا ﴿١٩﴾
کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے
إِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ جَزُوعًۭا ﴿٢٠﴾
جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے
وَإِذَا مَسَّهُ ٱلْخَيْرُ مَنُوعًا ﴿٢١﴾
اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے
إِلَّا ٱلْمُصَلِّينَ ﴿٢٢﴾
مگر نماز گزار
ٱلَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَآئِمُونَ ﴿٢٣﴾
جو نماز کا التزام رکھتے (اور بلاناغہ پڑھتے) ہیں
وَٱلَّذِينَ فِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّۭ مَّعْلُومٌۭ ﴿٢٤﴾
اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے
لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ ﴿٢٥﴾
(یعنی) مانگنے والے کا۔ اور نہ مانگے والے والا کا
وَٱلَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ ﴿٢٦﴾
اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ ﴿٢٧﴾
اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں
إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍۢ ﴿٢٨﴾
بےشک ان کے پروردگار کا عذاب ہے ہی ایسا کہ اس سے بےخوف نہ ہوا جائے
وَٱلَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَـٰفِظُونَ ﴿٢٩﴾
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں
إِلَّا عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ﴿٣٠﴾
مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے کہ (ان کے پاس جانے پر) انہیں کچھ ملامت نہیں
فَمَنِ ٱبْتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْعَادُونَ ﴿٣١﴾
اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُمْ لِأَمَـٰنَـٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَٰعُونَ ﴿٣٢﴾
اور جو اپنی امانتوں اور اقراروں کا پاس کرتے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُم بِشَهَـٰدَٰتِهِمْ قَآئِمُونَ ﴿٣٣﴾
اور جو اپنی شہادتوں پر قائم رہتے ہیں
وَٱلَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ﴿٣٤﴾
اور جو اپنی نماز کی خبر رکھتے ہیں
أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى جَنَّـٰتٍۢ مُّكْرَمُونَ ﴿٣٥﴾
یہی لوگ باغہائے بہشت میں عزت واکرام سے ہوں گے